خانہ کعبہ ایک قدیم ترین عبادت گاہ ہے اس کی بنیاد حضرت آدم علیہ اسلام نے ڈالی تھی اور اس کی دیواریں حضرت ابراہیم علیہ اسلام اور حضرت اسماعیل علیہ اسلام نے بلند کیں۔ اگر چہ یہ گھر بالکل سادہ ہے نقش و نگار اور زینت و آرائش سے خالی ہے ، مگر اس کا ایک ایک پتھر برکت و سعادت کا سرچشمہ اور عزت و حرمت کا مرکز و محور ہے، اور آج بھی اس کی مرکزیت و اہمیت اسی طرح قائم و دائم ہے۔وہ پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا، ان کی ہدایت کا ذریعہ ہے،مسلمانوں کا قبلہ، خانہ کعبہ ہے. اس بابرکت مکان کی نشاندہی قرآن نے اس طرح کی ہے کہ یہ مکان سرزمین بکہ پر ہے (شہر مکہ کا قدیمی نام بکہ ہے)۔ اس گھر کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ خدا نے اس کو اپنے نام سے منسوب کر لیا اور اسی لیے اس مکان کو ‘بیت اللہ’ یعنی ‘اللہ کا گھر’ کہا جاتا ہے۔قرآن میں اس مکان کی عظمت کے بارے میں متعدد آیات موجود ہیں ان میں سے ایک یہ ہے’’جعل اللہ الکعبتہ البیت الحرام‘‘ ’’ اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کو محترم گھر قرار دیا ہے۔‘‘ (سورہ مائدہ: ۷۹)
اسی محترم و پاک اور با عظمت والاگھر میں13 رجب ، ہجرت سے 24 سال قبل سیّدْالاَولیاِء خلیفہ چہارم امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کی ولادت باسعادت ہوئے۔ یہ واقعہ تاریخ کا وہ عظیم واقعہ ہے جس کو تمام شیعہ، سنی مورخین اور محدثین نے نقل کیا ہے۔ سیّدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر ہوئی۔اسی وجہ سے ان کو ''مولود کعبہ'' بھی کہاجاتا ہے۔اسی طرح حضرت علی حضور ﷺپاک اور سیدہ خدیجہؓکے ساتھ نماز پڑھنے والے اول شخص تھے۔ اندرون خانہ کعبہ چھٹی صدی عیسوی میں پیدا ہوئے۔
ابن مغازلی شافعی زبیدہ بنت عجلان سے نقل کرتے ہیں۔کہ جس وقت فاطمہ بنت اسد پر وضع حمل کے آثار ظاہر ہوئے اور درد شدت اختیار کرگیا ، تو ابو طالب بہت زیادہ پریشان ہوگئے اسی اثناء میں حضرت محمد ﷺ وہاںپہنچ گئے اور پوچھا چچا جان آپ کیوں پریشان ہیں !ابو طالب نے فاطمہ بنت اسد کا قضیہ بیان کیا۔ آنحضرتﷺاپنی چچی فاطمہ بنت اسد کے پاس تشریف لے گئے۔ اور آپﷺ نے اپنے چچا ابو طالب کاہاتھ پکڑکر خانہ کعبہ کی طرف روانہ ہوگئے ،فاطمہ نت اسد بھی ساتھ ساتھ تھیں۔ وہاں پہنچ کر آپ نے فاطمہ بنت اسد کو خانہ کعبہ کے اندر بھیج کر فرمایا : ’’اجلسی علیٰ اسم اللہ ‘‘ اللہ کا نام لے کر آپ اس جگہ بیٹھ جائیے۔ پس کچھ دیر کے بعد ایک بہت ہی خوبصورت وپاکیزہ بچہ پیدا ہوا۔ اتنا خوبصورت بچہ ہم نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ابوطالب نے اس بچہ کا نام ’’ علی ‘‘رکھا حضرت رسول خداﷺ نے اس بچہ کو ایک سفید کپڑے میں لپیٹ کر اپنی چچی فاطمہ بنت اسد کے ہمراہ ان کے گھر تشریف لے گئے۔حضرت علیٰؓ ابن ابوطالب صغرسنی میںہی رسول اللہ ﷺ کی کفالت میں آگئے ۔حضور پاکﷺ کے چچا ابوطالب نہایت کثیر العیال تھے، اور معاشی تنگی ،خشک سالی نے مصیبتوں میں اضافہ کردیا تو پیغمبر اسلامﷺاپنے چچاکی پرشانی دیکھ کر دوسرے چچا حضرت عباس ؓ سے فرمایا کہ ہمیں اس مصیبت میں چچا کا ہاتھ بٹانا چایئے ۔ تو حضرت عباس ؓ نے جعفربن ابوطالب ؓ کو اپنے ذمہ لیا۔اور محبوب خداﷺنے حضرت علیؓ کی کفالت اپنے ذمہ لیا۔اس طرح حضرت علیؓ رسول رحمت ﷺ کی آغوش شفقت میں تربیت پائی ۔ وہ شخص کتنا خوش نصیب اور عظیم المرتب ہوگاجس کی پرورش اور تربیت خود اللہ کے رسول ﷺ نے فرمائی۔کیا اس جیسا کوئی ہوسکتا ہے۔چنانچہ محققین کے مطابق عورتوں میں سب سے پہلے حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا، مردوں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور بچوں سیّدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ ایمان لائے۔ بعض علماء حضرات نے حکیم بن حزامؓکے بارے میں ذکر کیا ہے کہ ان کی پیدائش بھی بیت اللہ کے اندر ہوئی تھی۔ حکیم بن حزامؓ رسول اللہﷺ کے نبوت سے پہلے ہی یہ آپﷺکے دوست تھے اور دعویٰ نبوت کے بعد بھی انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اپنی سابقہ دوستی اور محبت میں کوئی کمی نہیں آنے دی، بعثت کے دعویٰ کے بعد جب قریش مکہ نے رسول اللہﷺ کے پورے خاندان (بنو ہاشم اور بنو مطلب) سے بائیکاٹ کیا اور ان کو شعب ابی طالب میں محصور کر دیا اور ان سے ہر طرح کے لین دین کی مقاطعت کر لی ؛تو اس وقت بھی حکیم بن حزامؓ ملکِ شام کی طرف سے آنے والے تجارتی قافلوں سے خاموشی کے ساتھ سامان خرید کر رسول اللہﷺاور اپنی پھوپی حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کے اکرام میں آپﷺاور آپ کے پورے قبیلے والوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔یہاں تک کہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے ہی خریدا ہوا تھا، آپؓ سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے خریداکر رسول اللہﷺ کو ہدیہ دے دیااور آپﷺنے انھیں آزاد کردیا۔لیکن حکیم بن حزام ؓنے اسلام بہت تاخیر سے قبول کیا، حتی کہ فتحِ مکہ کے موقعہ پر اسلام میں داخل ہوئے۔ اس وقت رسول رحمتﷺ نے ان کی تالیف ِقلب میں یہ اعلان کروایا کہ جو شخص بھی’حکیم بن حزام‘کے گھر داخل ہو گیا، اسے بھی امان ہے۔
سرورِ کائنات حضرت محمدﷺ کے اصحاب کی جماعت کے ہرایک پھول کی خوشبو اور صفات ایک دوسرے سے جدا جدا ہیں، ہر ایک ا صحاب اپنی مخصوص صفت کی وجہ سے اپنا ایک مخصوص امتیاز اور پہچان رکھتے تھے، اسی گل دستے کے ایک پھول کا اسم مبارک علی ابن ابو طالب ہے ان کی ایک پہچان اور خصوصیت ایسی ہے ، جس سے کوئی اور متصف نہیں ہے۔جب رسول پاک ﷺ مدینہ جانے پر مجبور ہوئے تو ان کی چارپائی پرحضرت علی کرم اللہ وجہہہی سوئے۔ روایا ت میں آتا ہے کہ حضور پاک نے ہجرت کے قبل اسوقت مکہ میں موجود صحابہ کرام سے پوچھا کہ میرے بستر پر کون سوئے گا تو کسی نے جواب نہیں دیا ما سوا حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جنہوں نے تین بار کہا کہ میں ''سوؤں گا''۔ قریش رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا منصوبہ بناچکے تھے۔ایسے حالات میںحضرت علیؓ کا یہ فیصلہ ان کی رسول پاکﷺسے انتہائی محبت اور ان کے لئے جان دینے کے لئے تیار رہنے کی دلیل ہے ۔حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ نے سرور دوعالم ﷺ کی ہجرت کے صرف تین دن بعدمدینہ ہجرت کی۔علی مرتضی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہجرت میں خاندان قریش کی تین ''فاطمائیں '' بھی شریک تھیں: فاطمہ بنت اسدؓ، فاطمہ بنت محمدؓ اور فاطمہ بنت الزبیرؓ۔ اسی لئے اسے ''فاطماؤں کا قافلہ کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ رات کو چلتے اور دن میں کہیں چھپ جاتے۔ یوںعلی مرتضی رضی اللہ عنہ مدینہ کے پاس کی بستی قباء پہنچے جہاں محبوب خداﷺ ان کا انتظار کررہے تھے۔ اس سفر میںعلی مرتضی رضی اللہ عنہ کی عمر اس وقت ۲۲ سال تھی، کے پیر سوج گئے تھے اور ان سے خون بہہ رہا تھا۔سرور دو جہاںﷺ ان کو اپنے گھر لے گئے۔ انصارومہاجرین کی مواخات کے بر عکس رسول اللہﷺ نیعلی مرتضی رضی اللہ عنہ کواپنا بھائی بنایا، یعنی دونوں بھائی مہاجر تھے۔ محبوب صبحانی ﷺنے اس موقعے پرعلی مرتضی رضی اللہ عنہ سے کہا: ''انت اخی فی الدنیا والآخر'(تم دنیا اور آخرت دونوں میں میرے بھائی ہو)۔اور اس کے بعد اگلے سال رسول اللہﷺ نے علی مرتضی رضی اللہ عنہ کو اپنا داماد بھی بنا لیا۔ یوں وہ سید نساء اورجنتی کی خواتین کی سردارکے شوہر بھی ہوئے اورجنتی نوجوانوں کے سردار حضرت حسن وحسینؓ کے والد ماجد بھی ہوئے۔ خیبر جب فتح نہیں ہوپارہا تھا توعلی مرتضی رضی اللہ عنہ نے ہی اسے فتح کیا اور ''اسداللہ ''(شیر خدا) کے لقب سے موسوم ہوئے۔ وہ تمام غزوات میں شریک رہے ما سوائے غزوہ تبوک کے موقع پررسول اللہﷺنے آپ کو جنگ میں شرکت سے روک دیا اور اہل بیت کی حفاظت ونگرانی کے لیے مدینہ ہی میں رہنے کا حکم دیا تو اس کا آپ کو بہت قلق ہوا، مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر ان کے اعزاز کو بلند کیا کہ ’’علی تم اسے پسند نہیں کرتے کہ میرے نزدیک تمہارا وہ مقام اور درجہ ہو جو ہارون کؑا موسیٰ ؑ کے نزدیک تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اہمیت حضورﷺ کے نزدیک کتنی تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بالعموم اہم اور مشکل ترین امور کی انجام دہی کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریمﷺ کی تاحیات فرماں برداری اور اطاعت کرتے رہے۔ اسی جاں نثاری کو دیکھ کررسول اللہ ﷺ نے غدیر خم کے خطبہ میں فرمایا کہ: ’’جو علی کا دشمن ہے وہ میرا بھی دشمن ہے اور جو علی کا دوست ہے وہ میرا بھی دوست ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا میں علم کا شہر اور علی کرم اللہ وجہہ اس کا دروازہ ہیں، کوئی شخص دروازے سے گزرے بغیر شہر میں داخل نہیں ہو سکتا۔ حضرت علیؓ خلفائے ثلاثہ کے مشیر اور خلافت کا تسلسل تھے، آپ رضی اللہ عنہ باطنی و روحانی خلافت کے شہنشاہ تھے، آپ جلیل القدر اور معتمد اصحاب رسول اور اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم میں سے تھے جن کی پاکیزگی اور طہارت کا اعلان اللہ رب العزت نے کائنات کی معتبر ترین کتاب قرآن مجید میں کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اور آپ کی پاک آل نے دین حق کی سربلندی کے لیے تاریخ عالم کی بے مثل قربانیاں دیں اور دین محمدی کی ترویج و اشاعت کے حوالے سے وہ کردار ادا کیا جو قیامت تک کے لیے ذریعہ و ہدایت و راہنمائی بنا رہے گا۔بہر حال تاریخ کے واقعات بہت سے عوامل کی وجہ وقوع پذیرہوتے ہیں جن کے بارے آج ہم تبصرہ ہی کرسکتے ہیں، بدل نہیں سکتے ہیں۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میںعلی مرتضی رضی اللہ عنہ اموال خمس کی تقسیم کے متولی تھے اور مرتدین کی سرکوبی کے لئے بھیجی جانے والی فوج کے قائد بھی۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق بن خطاب رضی اللہ عنہکے عہد خلافت میں قاضی مدینہ کا عہدہ بھی سنبھالا اور جو آج چیف جسٹس کے برابر ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی آپ کا تعاون برقرا رہا یہاں تک کہ آپؓ خود چوتھے خلیفہ بنے اور پانچ سال تین ماہ تک خلیفہ رہے۔
روایت آیا ہے کہ جب حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ بیت المقدس کو فتح کرنے کے لئے گئے تو حضر ت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کو مدینہ کا گورنر بنا کرگئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ امور سلطنت کے معاملات میں حضرت علی رضی اللہ عنہسے مشورے کرتے تھے۔ اسی سلسلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک قول مروی ہے:'' لولا علی لھلک عمر'' (اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوگیا ہوتا)۔حضرت عمر رضی اللہ عنہسے یہ بھی روایت ہے کہ انہوں حضرت علی رضی اللہ عنہسے کہا: ''اعوذ باللہ ان اعیش فی قوم لست فیہم یا ابا الحسن'' (اے حسن ؓکے والد! میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں ایسے لوگوں میں زندگی گزاروں جن میں آپؓ نہ ہوں)۔حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے عہد کے روئے زمین پر افضل ترین انسان تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیک وقت شجاع، جنگجو، خطیب، عالم، شاعر، مصنف، ولی، مدبر اور حاکم تھے۔ آپؓکی منصفی، تدبر و فکر، عزم و ارادہ، حکمت و دانشمندی، احکامِ شریعت کی پابندی، فصاحت و بلاغت، اخلاق کی بلندی، دستگیری اور شجاعت و بہادری جیسے اوصافِ حمیدہ کی مثال دینے سے تاریخِ عالم قاصر ہے، اور ایسا کیوں نہ ہو؟ اس لیے کہ خود نبی اکرم ﷺنے اپنی اولاد کی طرح آپ ؓ کی تربیت فرمائی۔ تاریخ میں ہے کہ اس روز یعنی انیسویں رمضان کے شب حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی بیٹی ام کلثوم سلام اللہ عنہا کے ہاں مہمان تھے۔ آپ کے سامنے دودھ، نمک اور پانی رکھا گیا تو آپ نے افطاری کے لئے نمک یا پانی میں سے ایک چیز اٹھا کر باقی دو واپس کر دیں کیونکہ آپ کے نزدیک دسترخوان پر اسقدر اغذیہ اور لوگوں کے حقوق پامال کرنے کے مترادف تھا۔ بہر حال نماز صبح کیلے آپؓ کوفہ کی جامعہ مسجد میں داخل ہوے اور سوئے ہوے افراد کو نماز کیلے بیدار کیا، ا بن ملجم کو بیدار کیا۔اور اسے نماز پڑھنے کوکہا۔جب آپؓ محراب میں داخل ہوئے اور نماز شروع کی تو پہلے سجدے سے ابھی سر اٹھا ہی رہے تھے کہ ابن ملجم ملعون نے حالتِ سجدہ میں پشت سے سر پر زہر بجھی تلوار سے وار کرکے زخمی کردیا ۔انیس رمضان سے اکیس تک شیر خدا رضی اللہ عنہ مدینہ گھر میں اپنے بچوں اور اہل خاندان کے ساتھ انتہائی زخمی حالت میں رہے اور زبان پر ذکر و تسبیح مسلسل جاری رہی،اوراکیس رمضان کو حضرت علیؓنے شہادت پائی۔
پتہ۔ اوم پورہ بڈگام ،کشمیر