غیر یقینی صورت حال میں تبدیلی کے آثار

بلا شبہ ہر آدمی کی رائےاُس کے اپنے ذاتی تجربات کے مطابق ہوا کرتی ہے ۔بیشتر انسانوں کو زیادہ ترنقصانات اس وجہ سے اُٹھانے پڑے ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی ہی رائے کو مقدم سمجھ کردوسرے کی رائےخاطر میںنہیں لائی تھی۔اگرچہ کسی بھی مسئلہ پر یا کسی بھی معاملے میں کسی سے رائے لینا کوئی بُری بات تو نہیں ہوتی البتہ اُس رائےپر بلا غور و تامل کے عمل کرنا بُری بات ہے۔اس لئے مشکل مسائل حل کرنے کے لئے لگاتار غور و فکر کرنا اور صاحب ِ عقل سے رائے لینا دانشمندی ہی قرار دی جاتی ہے کیونکہ تقریر کے وقت اگر کوئی غلط رائے قائم کردی جائے تو بعد میں اسکی تشریح کی جاسکتی ہے لیکن جو بات تحریر میں آجائے اُس سے انکار ممکن نہیں رہتا۔
قارئین کرام!ایک طویل عرصہ سے غیر یقینی صورت حال کے شکار کسی خطے میں آبادباہمی رقابت سے لبریز دو پڑوسی ملکوں کے درمیان چلی آرہی رَسہ کشی،کشیدگی اور دشمنی میں جب ٹھہرائو کی صورت حال پیدا ہوجائےاور رواداری و محبت کے بُجھے ہوئےچراغ روشن کرنے کی کوششوں کا آغازہوجائےتو واقعی یہ صورت حال بہر صورت نہ صرف غیر معمولی ہوتی ہےبلکہ خوش آئند قرار دی جاسکتی ہےمگر غور طلب بات یہ بھی ہوتی ہے کہ کسی طویل کشیدگی کی صورت حال،جس میں دن بہ دن اُبال و اُچھال نظر آتا ہو ، میں اچانک اس طرح کی کوئی تبدیلی اِتنی اچانک نہیںآجاتی کہ آج ٹھان لی تو کل پوری ہوگئی بلکہ کسی بھی تبدیلی کے پیچھے کوئی نہ کوئی بِلاتفسیر وجہ بھی ضرور ہوتی ہے ،جس کی ہر کسی کوکسی نہ کسی وقت ضرورت پڑ جاتی ہے۔قطع نظر اس کے کہ اِس تبدیلی کا مفہوم کیا ہے اوراس کی تفسیر کیا ہوگی ، یہ امرقابلِ ذکر بلکہ مدِنظر ضرور رہتاہےکہ کسی بھی خطہ کے مدِ مقابل دشمن ملکوں کی رقابت دور کرنے،دوستی کی فضا بحال کرنے ،محبت کے پھول اُگانے ،بُجھے ہوئے دِیے روشن کر کے اُن کے باہمی تعلقات بہتر بنانے کے عمل کوآگے بڑھانے اور انہیں کامیاب بنانے کے لئے اندورونی تائید کے ساتھ ساتھ بیرونی امداد اور عالمی حمایت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، جس کے ردِ عمل میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔اس وقت بھی در پردہ طریقے پربرصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں بھارت اور پاکستان کے درمیان دوستی پیدا کرنے اوراس عمل کو آگے بڑھانےکے لئےیہی سب کچھ کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ امریکہ ،چین ،جاپان ،عرب لیگ اور دنیا کے بیشتر ملکوں کی حکومتیں اور عوام اس معاملے میں سرگرم ہیں۔دونوں ملکوں کی طرف سے سرحدوں پر سیز فائرکے بعدسندھ طاس پانی تنازعہ پرچھوٹی سطح پر کی گئی بے نتیجہ بات چیت کے بعد ہی ہندو پاک فوجی کمانڈروں کے درمیان پونچھ راولا کوٹ کراسنگ پوائنٹ پر خوشگوار ماحول میںفلیگ میٹنگ اعتماد سازی کی طرف ایک اور پیش رفت کی نشاندہی ہے۔جبکہ پاکستانی حکمران اور فوجی سپہ سالار کے بیانات سے اس اہم نکتہ کی نشاندہی چند ہفتہ قبل ہوچکی ہے کہ پاکستان امن کا متمنی ہے اور اس مقصد کے لئے بامعنی مذاکرات کے لئے بھی ہمہ وقت تیار ہے،ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہوچکی ہےکہ پاک بھارت کشیدگی اس خطے کو کسی بہتری کی جانب نہیں بلکہ غربت کی جانب لے جارہی ہے۔ اس لئے وقت کی پکار ہے کہ آپس کی تلخیوں کو پس پشت ڈال کر مِل بیٹھ کر امن و آشتی کی طرف قدم بڑھائے جائیںاور ماضی کو دفن کرکے خوشحال مستقبل کی جانب بڑھنے کے لئے بامعنی مذاکرات کی راہ ہموار کی جانی چاہئے۔حق بات بھی تو یہی ہے کہ جب تک یہ دونوں مُلک اپنے اپنے گھر اور اپنے اپنے دل صاف و پاک نہیںکرپاتےہیںاور ایک دوسرے کے پڑوسی ہونے کے ناطے اچھے رشتے قائم کرکے باہمی رواداری کے رویے نہیںاپنائیں گےتب تک دونوں ملکوںکے لئے کسی بہتری کی اُمید بالکل عبث ہوگی کیونکہ قول و فعل کے تضاد کے باعث ہی یہ دنوں ملک تواتر کے ساتھ غیر یقینی صورت حال کا شکار رہ چکے ہیں اور تاحال کسی بہتر یا مثبت نتائج سے کوسوں دور رہ گئے ہیں۔
 دنیا کے امن پسند ملکوں اورذی شعور حلقوںکا یہ ماننا ہے کہ پاک بھارت باہمی کشیدگی کا خاتمہ نہ صرف اس خطےکے لئے خوشحالی کی نوید ہوگی بلکہ برصغیر میں قیامِ امن کی ضمانت کی بھی دلیل ہوسکتی ہے۔اس ضمن میںاگرچہ ابھی کوئی واضح صورت حال سامنے نہیں آسکی ہے تاہم سیاسی ماہرین کے مطابق انڈین اسٹیبلشمنٹ معاملے کی نوعیت کواہم سمجھتے ہوئے اس پر غور و خوض ضرور کررہی ہے۔ پچھلے دو ہفتوں کے دوران جہاںکئی مُلکی ،غیر ملکی اور مقامی دانشوروں ،سیاسی تجزیہ نگاروں اور قلم کاروںنے اس تبدیلی کے متعلق کی اپنی اپنی آرائیں پیش کردی ہیںوہیںامریکی میڈیا کے مطابق پاکستانی آرمی چیف کے حالیہ بیان کے بعد بھارت کے لہجے میں جو روایتی سختی تھی،اُس میں بہت کمی آئی ہے۔ معروف بھارتی اخبار ’’دی ہندو‘‘ نے ایک مضمون میں بھارتی وزیر خارجہ کے بیان کے حوالے سے لکھا ہےکہ بھارتی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ تمام باعث ِکشیدگی معاملات کا پرُامن حل چاہتا ہے۔چنانچہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی یومِ پاکستان کے موقعہ پر بھیجے گئے ایک مبارکبادی خط میں دونوں ملکوںکےباہمی تعلقات میں خوشگواریت لانے اور پُر امن فضا بحال کرنے کی رائے ظاہر کی ہے،جس کے جواب میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بھی اسی طرح کی اُمید کا اظہار کیا ہے۔ جس سے یہ بات اُبھر آتی ہے کہ دونوں ملک نہ صرف اس خطے میں بلکہ پوری دنیا میں امن کے متمنی ہیںاور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ہر سطح پرہر معاملے میںپُرامن ماحول میں بامعنی مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی اور کبھی بھی جنگوں سے بہتری نہیں آئی ہےاور نہ ہی لائی جاسکتی ہے ،بالآخر اختلافات باہمی مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوئے ہیںاور ہوسکتے ہیں۔ہر پُر امن قوم چاہتی ہےکہ جنگیں برپا کرکے تباہی پھیلانےکے بجائے آپس میں مِل بیٹھ کر مسائل و اختلافات کے حل تلاش کئے جائیں۔ظاہر ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے اختلافی مسائل و معاملات کا حل تب ہی نکالا جاسکتا ہے جب دونوں فریقین مل بیٹھ کر بات چیت کریںاور امن کے ذریعے  باہمی تنازعات کا حل نکالیں۔ دونوں ملکوںکی ترقی اور عوام کی خوشحالی امن اور مفاہمانہ اقدامات میں ہی پوشیدہ ہے۔ باہمی بگاڑ اور نفرت سے انہیںنہ کوئی فائدہ حاصل ہوا اورنہ ہوسکتا ہے۔
آج پھر ایک بارموقع ملا ہے کہ دونوں ممالک تمام مسائل کے حل کے لئے ایک دوسرے کی طرف ہاتھ بڑھائیں۔ حکومتیں ،حکمران اور سیاست دان آتے اور چلے جاتے ہیں لیکن ان کے اقدامات طویل مدت تک قوموں پر اثرانداز ہوتے رہتے ہیں۔ مسائل ایک نہ ایک دن حل ہونے ہی ہیںتو کیوں نہ موجودہ قیادتیں پہل کرکے ماضی کی تلخ روایات کو دفن کریں اور اس خطے میں قیام امن کے لئے اقدامات کا آغاز کریں۔ جس کا جو حق ہے اس کو دے کر تاریخ میں اپنا نام اس طرح لکھوالیں کہ آنے والی نسلیں بھی ان کا نام احترام سے لیا کریں۔بغور جائزہ لیا جائے توانسان کے لئے دنیا کی وسعتیں کبھی تنگ نہیں ہوسکتیںاور امن حاصل کرنے پر تنگ دِلی کی گنجائش کبھی صحیح ثابت نہیں ہوتیں۔انسان کی خوشی در حقیقت امن میں ہی پوشیدہ ہے اور جو شخص امن نہیں چاہتا وہ رنج سے آزاد نہیں رہ سکتابلکہ ہمیشہ پریشانیوں میں مبتلا رہتا ہے۔
70سالہ تورایخ گواہ ہے کہ بھارت اور پاکستان میں تعلقات کی بحالی اور دونوں ملکوں کے درمیان حل طلب مسئلے مذاکرات کے ذریعے طے کرنے کا سلسلہ وقفہ وقفہ کے بعد چلا آرہا ہے ۔اُس کے پس منظر میں دونوں ملکوں کے درمیان بعض اوقات خوشگواریت بھی پیدا ہوگئی اور کئی معاملات میں پیش رفت بھی ہوتی رہی تاہم دونوں ملکوں کے درمیان حل طلب اہم اور لازمی مسئلے طے ہونے میں کبھی بھی موثر پیش رفت نہیں ہوسکی ہے،جن کی ٹھوس سیاسی اور تاریخی وجوہات ہیںاور اُنہی تاریخی و سیاسی وجوہات کی بِنا پر بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے بالکل قریب ہوکر بھی نہ صرف ایک دوسرے سے بہت دور دکھائی دے رہے ہیںبلکہ ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار چلے آرہے ہیں ۔دونوں ملکوں کے تعلقات میں وقفہ وقفہ کے بعد جو تبدیلیاں آتی رہتی ہیںوہ تاحال عارضی ثابت ہوچکی ہیںکیونکہ باہمی تعلقات میں خوشگواریت کے دوران بھی انہوں نے کسی ایک معاملہ کو ٹھوس بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ بعض معاملوں میں برصغیر کے ان دو ایٹمی ہمسایہ ملکوں بھارت اورپاکستان کے مابین تسلسل کے ساتھ باہمی مخاصمانہ پالیسی ، متعصبانہ رویہ اور غیر سنجیدہ حکمت عملی جاری رہی جو آج تک دونوں ممالک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوچکی ہے اور اسی طرزِ عمل کے نتیجے میں سوائےرسوائی اور ناکامی کے انہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوسکااور باہمی تنازعات کا تصفیہ اور پائیدار امن کے قیام سے دور کرکے رکھ دیا ہے۔اسی روایتی طرزِ عمل کے نتیجہ میںہر چھوٹا بڑا حل طلب معاملہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی،تلخی،چپقلش اور لڑائی کا سبب بنا ہواہے۔پچھلے تین عشروں کے دوران ہونے والے مذاکرات پر ہی نظر ڈالی جائے تو مسئلہ کشمیر تو کُجا،سندھ طاس پانی کا معاملہ،بگلیہار ہائیڈل پروجیکٹ،کشن گنگا پروجیکٹ، سرکیک ،سائیچن،سرحدوں پر فوج کی کمی،وادیٔ کشمیر میں فوج کی کمی یا انخلااور کنٹرول لاین کھولنے جیسے معاملات آج بھی جُوں کے تُوںپڑے ہوئے ہیں۔دونوں ملکوں کی طرف سے ان سبھی معاملات میں ہر وقت مختلف انداز اپنائے گئے اور مختلف معاملات میں الگ الگ طرزِ عمل اختیار کئے گئے ۔ کسی معاملے پر یکسوئی نہیں دکھائی اور کبھی بھی مفاہمانہ پالیسی نہیں اپنائی گئی ،آج ایک بات کہی گئی تو کل دوسری بات دوہرائی گئی۔بعض اوقات ایک دوسرے کے ساتھ خیر سگالی کے جذبات تو دکھائے گئے لیکن بنیادی معاملات ہر باردھرے کے دھرے رکھے گئے،الغرض وقت گذرتا گیا اور تماشے ہوتے رہے۔اس لئے موجودہ تبدیلی کے آثار کے بعد پیداہونے والی دوستانہ صورت حال کےدوران کوئی واضح تبدیلی یا کوئی مثبت پیش رفت ہوگی اس بارے میں قبل از وقت کچھ کہنا محض اپنی رائے یا قیاس آرائی کے سوا کچھ بھی نہ ہوگا۔
�������