عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// ممبر پارلیمنٹ انجینئر رشید نے پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر کی فروٹ انڈسٹری کی حالت اور خطہ کو متاثر کرنے والے مختلف گورننس کے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہاکہ چھوٹی پارٹیاں اور آزاد اراکین اکثر پارلیمنٹ میں بولنے کا وقت حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔2019 کے بعد جموں و کشمیر کے لیے اعلان کردہ اقتصادی پیکجوں پر طنزیہ تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس خطے کو “منفرد پیکج” ملے ہیں۔خطے میں بے روزگاری کو اجاگر کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں بے روزگاری کی شرح ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ انجینئر رشیدنے باغبانی کے شعبے کو متاثر کرنے والی پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور اسے کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی پھلوں کی بڑھتی ہوئی درآمد مقامی کاشتکاروں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔رکن پارلیمنٹ نے شمالی کشمیر کے کئی علاقوں میں پینے کے پانی اور بجلی کی کمی جیسے بنیادی مسائل کو بھی اجاگر کیا۔