یو این ایس
سرینگر//جنوبی کشمیر کے اہم طبی مرکز زچہ بچہ اسپتال اننت ناگ میں گزشتہ ایک دہائی سے غیر محفوظ قرار دی گئی عمارت میں علاج و معالجہ کا سلسلہ جاری ہے، جس سے مریضوں اور طبی عملے کی سلامتی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ اسپتال نہ صرف جنوبی کشمیر بلکہ رام بن اور چناب ویلی کے علاقوں سے آنے والے مریضوں کو بھی خدمات فراہم کرتا ہے، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں مریضوں کا رش رہتا ہے۔ ہر رات تقریباً 100 مریض لیبر اور سرجیکل وارڈز میں داخل ہوتے ہیں جبکہ او پی ڈی میں روزانہ ہزاروں مریض رجوع کرتے ہیں۔شدید دباؤ کے باوجود اسپتال میں صرف دو لیبر وارڈز، چار سرجیکل وارڈز اور ایک آپریشن تھیٹر موجود ہے، جس کے باعث جگہ کی شدید قلت ہے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں اکثر مریضوں کو ایک ہی بستر پر علاج کروانا پڑتا ہے، جبکہ اسپتال کا ماحول بھیڑ بھاڑ اور بدنظمی کا شکار ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ عمارت کو تقریباً 12 برس قبل فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز نے غیر محفوظ قرار دیا تھا، جس کے بعد کئی بار اس کے خطرات کی نشاندہی کی گئی، تاہم تاحال کوئی مستقل حل نہیں نکالا جا سکا۔ذرائع کے مطابق ابتدا میں اسپتال کو جنگلات منڈی منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، لیکن بیرونی دباؤ کے باعث اسے فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔ بعد ازاں سرکار نے سرنل میں رحمتِ عالم ٹرسٹ کی عمارت میں منتقلی کی تجویز دی، جہاں دو اضافی منزلیں بنانے پر تقریباً 13 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔تاہم انڈئن انسٹی چیوٹ آف تیکنالوجی جموںکی جانب سے اس عمارت کو 2005 کے زلزلے کے بعد کے حفاظتی معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث غیر موزوں قرار دیا گیا، جس کے بعد منصوبہ ترک کر دیا گیا۔ ماہرین نے عمارت کو مضبوط بنانے کے لیے تقریباً 8 کروڑ روپے کی لاگت سے ریٹروفٹنگ کی تجویز دی تھی، مگر اس پر بھی عمل نہیں ہو سکا۔کچھ حد تک بھیڑ کم کرنے کے لیے گزشتہ سال بچوں کا شعبہ گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ کے ملحقہ اسپتال جنگلات منڈی منتقل کیا گیا، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ گائناکالوجی اور آبسٹیٹرکس شعبوں کی منتقلی پر بھی کام جاری ہے۔ادھر حکومت نے جنگلات منڈی میں 250 بستروں پر مشتمل میٹرنٹی اور چائلڈ کیئر اسپتال کی منظوری دی ہے، جس پر جلد کام شروع ہونے کی توقع ہے۔ تاہم مکمل منتقلی تک موجودہ صورتحال مریضوں اور عملے دونوں کے لیے سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے۔