محتشم احتشام
پونچھ//ضلع پونچھ میں غیر قانونی طور پر چلائی جانے والی ایکو گاڑیوں کو اسکول وین کے طور پر استعمال کئے جانے کا معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے، تاہم عوامی شکایات اور مسلسل خلاف ورزیوں کے باوجود ٹریفک اور ٹرانسپورٹ محکموں کی جانب سے اب تک کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی، جس کے باعث شہریوں میں شدید تشویش اور ناراضگی پائی جا رہی ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق متعدد ایکو گاڑیاں، جو ذاتی استعمال کے لئے رجسٹرڈ ہیں، کھلے عام اسکولی بچوں کو لے جانے کے لئے استعمال ہو رہی ہیں۔ ان گاڑیوں میں ایک وقت میں 20 سے 22 طلباء تک سوار کئے جا رہے ہیں، جو مقررہ حفاظتی اصولوں اور ٹریفک قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مزید برآں بیشتر گاڑیوں پر لازمی پیلے رنگ کی نمبر پلیٹ موجود نہیں، سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں اور بعض ڈرائیور تیز آواز میں موسیقی چلاتے ہوئے گنجان آبادی والے علاقوں اور تنگ گلیوں میں تیز رفتاری سے گاڑیاں چلاتے ہیں، جس سے نہ صرف بچوں بلکہ پیدل چلنے والوں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ رہی ہیں۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ صبح اور دوپہر کے اوقات میں ان وینز کی غیر محتاط ڈرائیونگ کے باعث سڑکوں پر چلنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔ تشویشناک امر یہ بھی ہے کہ بعض ڈرائیور مبینہ طور پر بغیر درست ڈرائیونگ لائسنس کے گاڑیاں چلا رہے ہیں، جس سے حادثات کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گاڑیاں ٹرانسپورٹ کمشنر کی جانب سے جاری واضح ہدایات کی بھی خلاف ورزی کر رہی ہیں، تاہم متعلقہ محکمے اس صورتحال پر خاموش دکھائی دیتے ہیں۔ عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ حفاظتی تقاضے پورے کیے بغیر ان گاڑیوں کو چلانے کی اجازت کیسے دی جا رہی ہے اور انہیں کس کی پشت پناہی حاصل ہے۔شہریوں نے ڈپٹی کمشنر پونچھ سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کریں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر کسی ناخوشگوار واقعہ نے جنم لیا تو اس کی ذمہ داری متعلقہ محکموں پر عائد ہوگی۔عوامی حلقوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے پیش نظر شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر انتظامیہ نے بروقت اقدامات نہ کیے تو سنگین حادثات رونما ہو سکتے ہیں، جس کی مکمل ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔