غلام نبی آزاد صرف بھاجپا کو فائدہ پہنچانے کیلئے میدان میں سرکاری ملازمین کوعید پر چھٹی نہ دینا افسوس ناک : عمر عبداللہ

محمد تسکین

بانہال // نیشنل کانفرنس اور کانگریس سمیت انڈین آلائنس کے مشترکہ امیدوار چوہدری لعل سنگھ کی بھر پور حمایت کیلئے نیشنل کانفرنس نائب صدر اور سابقہ وزیر اعلی عمر عبداللہ نے اتوار کے روز بانہال اور کھڑی کا دورہ کیا اور کھڑی میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کیا۔ ان کے ہمراہ کانگریس کے ریاستی صدر وقار رسول ، نیشنل کانفرنس کے سنیئر لیڈر رتن لعل گپتا ، اجے سڈگوتراہ ، ضلع صدر اور انچارج حلقہ انتخاب حاجی سجاد شاہین ، ڈی ڈی سی چیئر مین اور نیشنل کانفرنس سنیئر لیڈر ڈاکٹر شمشادہ شان اور ڈی ڈی سی کونسلر اور کانگریس کے سنیئرجنرل سیکریٹری امتیاز احمد کھانڈے اور سینکڑوں کی تعداد میں نیشنل کانفرنس ، کانگریس اور پی ڈی پی کے کارکنوں اور عہدیداروں نے اس بھاری عوامی جلسے میں شرکت کی۔ بانہال میں بارشوں کی وجہ مجوزہ ریلی اور روڈ شو کا پروگرام نہیں ہوسکا تاہم عمر عبداللہ کے قافلے کو نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے کارکنوں اور لیڈروں نے بانہال سے موٹر سائیکل اور گاڑیوں کی ریلی کی صورت میں کھڑی اڑپنچلہ پہنچایا گیا جہاں عمر عبداللہ ، وقار رسول اور سجاد شاہین اور دیگر لیڈروں نے عوامی ریلی سے خطاب کیا۔بانہال سے سولہ کلومیٹر دور تحصیل ہیڈ کواٹر کھڑی میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے غلام نبی آزاد اور بھارتیہ جنتا پارٹی کوخوب تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غلام نبی آذاد کا امیدوار جیت کے مقصد سے نہیں بلکہ وادی چناب میں ووٹ تقسیم کرکے بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچانے کیلئے میدان میں آتارا گیا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اپکو 19 اپریل کو یہ فیصلہ کرناہے کہ اپ کس امیدوار کو چن کر اپنی آواز بن کر پارلیمنٹ میں بھیجیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایکطرف سے وہ سوچ کار فرما ہے جو یاترا نکالنے کے نام پر لوگوں کو لڑاتے ، نفرت پھیلاتے ، اپسی بھائی چارے کو نقصان پہنچاتے اور مسجدوں کو تباہ کرتے ہیں اور آگے آگے یاترا نکلتی ہے پیچھے پیچھے خون کی ندیاں بہتی ہیں جبکہ دوسر طرف سے وہ سوچ ہے جو سب کو ملکر بھائی چارہ کے ساتھ جوڑ کر چلنا چاہتی ہے اور کسی بھی طرح مذہبی منافرت کو کم کرنے اور ملک کو جوڑ کر امن قائم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اب اتنی کمزور ہوگئی ہے کہ اپنے دس سالہ ممبر پارلیمنٹ کی مدد کیلئے باہر سے امیدوار کو الیکشن میں کھڑا کر رہی ہے۔ انہوں نے غلام نبی آزاد کی پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ڈسٹبن ’ بالٹی ‘ ہو یا کوئی اور ہو ان کو کس مقصد سے میدان میں اتارا گیا ہے یہ ہم سب کو سوچنے کی ضروری ہے اور آج جس امیدوار کو اپ لوگ چنیں گے اسے اپکو آئندہ پانچ سال تک بھگتنا ہے۔ عمر عبداللہ نے غلام نبی آزاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سے کانگریس چھوڑتے وقت آزاد کہتے تھے وہ جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ قومی سطح کی پارٹی بنائیں گے اور آج غلام نبی آزاد کی پارٹی صرف ادہمپور پارلیمانی نشست سے الیکشن لڑ رہی ہے تاکہ وہ چناب وادی میں انڈین الائنس کے امیدوار کے ووٹ کاٹ کر بھارتیہ جنتا پارٹی کے کمزور امیدوار کی مدد کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ غلام نبی آزاد کی پارٹی کا چناب وادی کے بغیر کہیں کوئی اثر رسوخ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ آزاد صاحب کانگریس میں کتنے بڑے لیڈر اور عہدیدار تھے اور میں سوچتا تھا کہ اگر کانگریس کی حکومت آتی ہے تو غلام نبی آزاد کو ملک کا صدر یا نائب صدر بنایا جائیگا۔ عمر نے کہا کہ غلام نبی آزاد کو کانگریس نے کوئی کمی نہیں رکھی تھی اور میری زندگی کے عرصے سے وہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ممبر رہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دور میں ملکی سطح کا لیڈر غلام نبی آزاد آج ایک پارلیمانی نشست تک محدود ہوکر رہ گیا ہے اور قومی پارٹی بنانے والا لیڈر آج چناب وادی میں ووٹ کاٹنے اور بھاجپا کو فائدہ پہنچانے کیلئے میدان میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد آپکا ووٹ تقسیم کرکے آپکی آواز کو کمزور کرنا ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل پارٹی بنانے نکلے غلام نبی آزاد کی پارٹی اب صرف ادھم پور۔ وادی چناب کی سیٹ سے الیکشن لڑ رہی ہے جبکہ غلام نبی آزاد کی پارٹی کے امیدوار جموں ، اننت ناگ اور بارہمولہ نشست پر الیکشن کیوں نہیں لڑ رہے ہیں تاکہ ووٹ تقسیم ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہاتھ کے علاوہ کسی اور کو ڈالا جانے والا ووٹ کنول کے پھول کو جائیگا اور یہ وہی کنول ہے جس نے جموں و کشمیر کو تہس نہس کیا ہے اور ہماری شناخت ، پہچان اور وجود کو ختم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد نے جموں سے کوئی امیدوار اسلئے نہیں آتارا کیونکہ وہاں ہندو امیدوار کو میدان میں اتارنا پڑتا تھا اور اس سے بھارتیہ جنتا پارٹی کا ووٹ تقسیم ہوجاتا اور مودی جی ازاد سے ناراض ہو جاتے۔ انہوں نے کہا کہ اب اننت ناگ کی سیٹ کیلئے غلام نبی آزاد کے نام کا اعلان کیا گیا لیکن چند روز بعد پارٹی سربراہ غلام نبی آزاد کہتا ہے کہ میں الیکشن نہیں لڑوں گا اور پارٹی نے ان سے پوچھے بغیرہی اْن کے نام کا اعلان کیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ کیا ہم پارٹی نہیں چلاتے کیا ہم نہیں جانتے ہیں کہ پارٹی اپنے صدر کو بتائے بغیر یہ فیصلہ کیسے لے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلام نبی آزاد حالات دیکھ کر اور نیشنل کانفرنس کے امیدوار میاں الطاف کا نام سن کر گھبرا گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غلام نبی آزاد نے باقی ریاست کو چھوڑ کر وادی چناب کو الیکشن کیلئے چن کر اپنے ساتھی کو میدان میں اْتارا ہے اور اگر جیت کا مقصد ہوتا تو غلام نبی آذاد خود ادہمپور نشست سے میدان میں اترتے۔ عمر عبداللہ نے ریاستی سرکار کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مین نے پہ کھا کہ جموں وکشمیر میں پہلی بار سرکاری ملازمین کو عید کی چھٹی نہیں ملی ہے اور عید کے روز سرکاری ملازمین سے کہا گیا کہ وہ یا کیجول لیو لیں یا غیر حاضری لگائے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں جموں و کشمیر کے سکولوں میں ہولی کے تہوار کے موقع پر دو تین دن تک چھٹی دی جاتی ہے مگر یہاں افسوس کی عید کے روز سرکاری ملازمین اور سکولوں کو کوئی چھٹی نہیں دی گئی اور ملازمین کو غیر حاضر دکھایا گیا۔