یو این آئی
نیویارک// اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اور اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا جس میں غزہ پر جنگ سے متعلق قرار داد منظور نہ ہو سکی۔سلامتی کونسل کے 2 گھنٹے بند کمرہ اجلاس میں بھی اختلافات ختم نہ ہو سکے اور اجلاس ایک بار پھر ناکام ہوگیا۔اجلاس میں ایک طرف امریکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وقفے کا مطالبہ کر رہا ہے جب کہ کونسل کے دیگر اراکین ‘انسانی بنیادوں پر جنگ بندی” کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ غزہ میں ضروری امداد کی فراہمی اور مزید ہلاکتوں کو روکا جا سکے ۔ادھر اقوام متحدہ میں فلسطینی نمائندے نے امریکہ کو سیز فائر معاہدے میں رکاوٹ قرار دے دیا۔ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نے غزہ کی پٹی پر قبضے کے ارادے ظاہر کرتے ہوئے یرغمالیوں کی رہائی تک جنگ بندی کا امکان مسترد کردیا۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ حماس کے ساتھ جنگ کے بعد اسرائیل غزہ پٹی کی غیر معینہ مدت کے لیے سلامتی کی مجموعی ذمہ داری سنبھالے گا، اس وقت حماس کی وجہ سے اسرائیل کے پاس سکیورٹی کی ذمے داری نہیں ہے۔