بے گناہوں کا قتل عام رک جائیگا: ڈاکٹر فاروق
سرینگر//نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے فلسطین میں جنگ بندی پراطمینان کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ا س سے غزہ میں جاری بے گناہ اور معصوم لوگوں کا قتل عام رُک جائے گا۔ایک بیان میں ڈاکٹر فاروق نے اقوام متحدہ پرزوردیا کہ وہ فلسطین مسئلہ کوحل کرنے کیلئے اپنا رول نبھائے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں جنگی جرائم کے ارتکاب کیلئے اسرائیلی کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے اور اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ مستقبل میں اسرائیل اس قسم کی جارحیت اور دہشت گردی نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے ساتھ ہی یہ معاملہ سرد خانے میں نہیں ڈالا جانا چاہئے بلکہ فلسطین میں بچوں، خواتین، بزرگوں نیز معصوموں کی ہلاکتوں کیلئے اسرائیل سے جواب طلبی ہونی چاہئے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اسے جنگی جرائم کے ارتکاب کیلئے کارروائی ہونی چاہئے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ بیان بازیوں اور زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر فلسطین کے مسئلے حل کیلئے ٹھوس اور کارگر اقدامات کرے۔ انہوں نے اسلامی ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ یک زبان ہوکر اقوام متحدہ کو فلسطین پر ہورہے مظالم کو روکنے اور اس مسئلے کیلئے پُرامن حل کیلئے دبائو بنائیں۔
آغا حسن کا خیرمقدم
سرینگر// انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن نے عالمی دباو کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک اطمینان بخش اقدام سے تعبیر کیا۔ آغا حسن نے غزہ پر اسرائیل کی جارحیت کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل فلسطینی مظلوم مسلمانوں کو اپنی زمینوں سے بے دخل کرنے کے عزائم کی برابر تکمیل کر رہا ہے اور اس سلسلے میں تمام عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ غزہ میں سینکڑوں فلسطینی مرد و خواتین اور بچوں کی دلدوز شہادتوں پر گہرے صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور نام نہاد گریٹر اسرائیل کا صہیونی منصوبہ مشرقی وسطیٰ کے مستقبل کے لئے ایک سنگین خطرہ بنا ہوا ہے ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جس طرح آج عالمی قوتوں نے غزہ میں انسانیت کے درد و کرب کو محسوس کرکے فریقین کو جنگ بندی پر عمل درآمد کے لئے اثر و رسوخ کا استعمال کیا، اسی طرح دیگر تنازعات کے حوالے سے بھی عالمی برادری کو آگے آنا چاہے تاکہ دنیا میں امن و استحکام کا ماحول پیدا ہو سکے ۔ایران اور سعودی عربیہ کے درمیان مفاہمت اور قرابت کے رجحانات اور اس سلسلے میں دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان ابتدائی رابطوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ ایران سعودی عربیہ تعلقات میں خوش گوار تبدیلی عالم اسلام کے لئے حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران اور سعودی عربیہ خلوص نیت اور ملی و دینی جذبے کے ساتھ اپنے رشتے استوار کرے اور ماضی کی تلخیاں فراموش کریں ،تو یہ عالم اسلام کے لئے سب سے بڑی خوش خبری اور استکباری قوتوں کے لئے ایک انتہائی مایوس کن خبر ہوگی ۔