ماضی کے حادثات کو تازہ کرے ہے دل
ہر دن نئی غزل کا تقاضہ کرے ہے دل
یادوں کو بوریوں میں سلیقے سے باندھ کر
ذہن و جگر میں ان کا ذخیرہ کرے ہے دل
چارہ گری کے فن میں یہ ماہر ہے دوستو
زخمِ جگر نظر کا مداوا کرے ہے دل
حسرت نہ خواہشیں نہ تمنائیں بے شمار
جو کچھ ملے اسی پہ گزارا کرے ہے دل
جب جب بھی میں نے پوچھا ہے آسان راستہ۔۔!
ہر بار سمتِ غیب اشارہ کرے ہے دل
حسن و ادا و عشق کے جھانسے میں ڈال کر
اہلِ خرد کو پل میں دِوانہ کرے ہے دل
سورج سے لے کے ہر گھڑی اُلفت کی روشنی
عالم ؔ میں ہر ڈگر پہ اُجالا کرے ہے دل
آفتاب عالم ؔ شاہ نوری
کروشی بلگام کرناٹک
موبائل نمبر؛8105493349
کیسے بتاؤں محبت کیا ہے
دل ہی جانے یہ حقیقت کیا ہے
عمر گزری ہے اسی الجھن میں
میرے حصے میں قسمت کیا ہے
وہ جو لکھتا ہے عبارت دل پر
اس کے ہاتھوں کی حکمت کیا ہے
سامنے وہ ہے تو خاموشی ہے
ہجر میں پھر یہ قیامت کیا ہے
ہم تو ٹھہرے دستِ قضا کے قیدی
پھر یہ خواہش، یہ بغاوت کیا ہے
جس نے بخشا ہے یہ سوزِ دروں
اس کی نظروں کی کرامت کیا ہے
محمد ایوب گنائی
ترال بالا پلوامہ
موبائل نمبر؛9596359446
تاج ہو یا تخت نہیں چاہئے
زر، زمیں، اے بخت! نہیں چاہئے
چھوڑ دی ہیں میں نے تمنائے دل
اب کوئی کمبخت! نہیں چاہئے
ایک نگر پیار کا جنت نُما
ضابطے واں سخت، نہیں چاہئے
وصل کی خاطر ہو فقط ایک پل
اس کے سوا وقت نہیں چاہئے
قاعدے قانون نہیں مانتے
کہہ دیا یک لخت! نہیں چاہئے
عشق کی کڑیاں مجھے منظور ہیں
قید مگر سخت نہیں چاہئے
یاد کی اوڑھی ہے میں نے شال، سو
اور کوئی رخت نہیں چاہئے
یادوں کا سرمایہ ہے کافی مجھے
اس کے سوا، بخت نہیں چاہئے
رُخسانہ پروین
باغات، برزلہ، سرینگر
دستِ صنم کیا ملا ہم خدا کو بُھلائے بیٹھے ہیں
عشق کی آگ میں خود کو جلائے بیٹھے ہیں
سنگ دل ہے ! صنم نے کہہ دیا مگر
کیوں مجھے دل کا خدا بنائے بیٹھے ہیں
جنونِ عشق تیرا اب عجب عالم دیکھا ہے
تجھ کو بھول کر،ہم اُسے گلے لگائے بیٹھے ہیں
لوگ محبت میں شرین و فرہاد ہوگے
ہم سجدے کرتے بھی سیاہ کار بنائے بیٹھے ہیں
ساقی شراب عشق کا جام پیا ہے جب سے
ہم تو ہر راہ پہ اس کے ترانے سنائے بیٹھے ہیں
نورؔ آنکھوں سے بینائی چھن جائے تو کیا غم ہے
دل کی بستی میں تیرے خواب سجائے بیٹھے ہیں
انشاء نورؔ
طالب علم،سمسٹر دوم
گورئمنٹ ڈگری کالج ڈنگی وچہ، بارہمولہ کشمیر