اک خوابِ رائیگاں کو سجانے نکل گئے
ہم بھی ہوا پہ نقش بنانے نکل گئے
آنکھوں کے آئینے میں لکھی تھیں اُداسیاں
ہم مسکرا کے ان کو چھپانے نکل گئے
دیوارِ دل پہ اس کا جو سایہ سا نقش تھا
ہم خونِ دل سے نقش مٹانے نکل گئے
اِس دل کی تشنگی کا بھلا کیا علاج ہو
ہم آنسوؤں سے پیاس بجھانے نکل گئے
جب کوئی راز داں نہ ملا شہرِ درد میں
ہم پتھروں کو درد سُنانے نکل گئے
خوابوں کی وادیوں میں تھی اک خلق بے خبر
ہم شور کر کے سب کو جگانے نکل گئے
عادت سی قیسؔ ہو گئی ہم کو بھی عشق کی
ہم اپنی کائنات لُٹانے نکل گئے
کیسر خان قیس
ٹنگواری بالا ضلع بارہ مولہ
موبائل نمبر؛6006242157
دونوں ہی جانب کی قومیں ان دنوں مستی میں ہیں
حکمرانِ وقت جب سے فکرِ یکجہتی میں ہیں
جن کو ساحل کی تمنا ہے نہ طوفانوں کا خوف
ناخدا ایسے مسافر بھی تری کشتی میں ہیں
جل گئی تو آگ بجھ جائے تو ہے خالی دھواں
رازِ دل پنہاں بہت اس موم کی بتی میں ہیں
آپ عہدِ نو کے پیمانے میں اب ڈھل جائیے
کیوں بضد اتنا کبھی تولہ کبھی رتی میں ہیں
ملتوی کرتا رہے گا اپنا وہ قہر و غضب
جب تلک کچھ نیک صالح لوگ اس بستی میں ہیں
واقفِ سود و زیاں ہیں پھر بھی اس دنیا کے لوگ
کچھ تو ہیں ذکرِ وفا میں اور کچھ مستی میں ہیں
ان دنوں ظلِ الٰہی کی نگاہوں میں جناب
آپ ہی کیا حضرتِ مصداقؔ بھی پستی میں ہیں
مصداقؔ اعظمی
جوماں،مجواں، پھولپور، اعظم گڑھ یوپی
موبائل نمبر؛9451431700
شہر بھر میں پھیلتا رہتا ہے چہروں کا ہجوم
دل مگر تنہا ہے تنہائی میں وعدوں کا ہجوم
کیا قیامت خیز تھا دریا میں موجوں کا ہجوم
ڈوبتے سورج میں دیکھا اپنے رشتوں کا ہجوم
میں نے لکھنی چاہی دل کی بات کاغذ پر مگر
ریت کی صورت نکلنا حرف لہجوں کا ہجوم
اب کتابِ عشق میں وہ باب باقی ہی نہیں
بس سرِعنوان ہے چند نانوں کا ہجوم
شام آئی تو لگا جیسے صدی گزری ابھی
منتظر تھا میں بھی جس کا کب سے سایوں کا ہجوم
اب تو خود سے بات کرنے کی بھی فرصت ہے نہیں
وقت نے دیوار پر کھینچا ہے لمحوں کا ہجوم
لفظ بکھرے ہیں فضا میں جیسے خوابوں کا بدن
چھوٹی چھوٹی خواہشوں میں ہے یہ خوابوں کا ہجوم
ہم نے دیکھا ہے ہر اک میلے میں ہر تنہائی میں
بے نمازی سر پھرے آوارہ بندوں کا ہجوم
کون جانے کس کے دل کی سرزمیں اُجڑی ہے اب
ہے نظر کے سامنے ہر گھر کے نقشوں کا ہجوم
اب بھی بارش میں اُتر آتا ہے بچپن کا سکوت
کاغذی کشتی کہیں ہے اور بچوں کا ہجوم
لاکھوں چہرے یاد آئے اور منزل کی تلاش
یوں لگا صحرا میں گم ہے سارے رشتوں کا ہجوم
بجھتے بجھتے بجھ گئے راقمؔ امیدوں کے چراغ
اب بھی تنہائی میں جل اٹھتا ہے اشکوں کا ہجوم
عمران راقم
موبائل نمبر؛9163916117
نفع کی فکر میں کھوئے ہو، تمہارا کیا ہے
جس نے پایا ہی نہیں، اُس کو خسارہ کیا ہے
ایک امید پہ قائم ہے یہ دنیا ورنہ
ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا کیا ہے
دھڑکنیں تیز ہوئیں جب بھی قریب آئے ہو
میں تو سمجھا ہی نہیں، دل کا اشارہ کیا ہے
سوچ میں ڈوبا ہوا چاند فلک پر ہو گا
تیرے ماتھے پہ چمکتا یہ ستارہ کیا ہے
اہلِ ساحل کو کہاں علمِ کنارہ ہو گا
ڈوبنے والے سے یہ پوچھو، کنارہ کیا ہے
ہے کچھ ایسی ہی مقدر کی لکھاوٹ اپنی
اب جو ہے سو ہے، کہو دوش ہمارا کیا ہے
نقش اپنا ہی جو دیکھا تو یہ پوچھا اُس نے
تم نے کاغذ پہ قلم سے یہ اُتارا کیا ہے
عشیار عبداللہ
موبائل نمبر؛7006347399
خواب سب آنکھوں سے جُدا ہوگئے
دلِ پریشان ہے، تم کہاں کھو گئے
وہ نہیں مل سکے، کیا کہیں اَب کہ ہم
دلکے ارماں کئی بے صدا رو گئے
درمیاں جب ہمارے بنے فاصلے
عہدِ اُلفت کے سب سلسلے سو گئے
یاد کی تلخیاں دِل کو جب چُھو گئیں
بن کے یوں آنسوں داغِ دل دھو گئے
لوگ صورتؔ کو پھر ڈھونڈتے رہ گئے
ہم زمیں سے اُٹھے آسماں کو گئے
صورت سنگھ
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9622304549
نہ تم ہو، نہ آئو گے یہ انتظار کیوں ہے
بِنا تیرے اس زندگی سے پیار کیوں ہے
پیاسی نگاہیں سدا در کو تک رہی ہے
ہر آہٹ پر گماں تیرا دل بیقرار کیوں ہے
تیری کمی کی دل میں اک کسک سی ہے
ویران من کی نگری میں یہ بہار کیوں ہے
خوابوں میں منظر، نیندوں پر قبضہ تیرا
راتوں کو تیرے ہونے کا اعتبار کیوں ہے
لہجے بتا رہے ہیں تو کہیں تو کوئی نہیں
لوگ بے حس کیوں ہیں ظالم سنسار کیوں ہے
پُر سکون ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں
پلک تیری محفل ؔ پھر اشکبار کیوں ہے
محفلؔ مظفر
پلہالن پٹن بارہمولہ ،کشمیر
ای میل؛[email protected]
ہم نے سوچاتھا کہ بدلیں گے زمانے کا رُخ
کھینچی جوذ ہن نے وہ تدبیر نہ بنے
پاؤں رستوں کی مسافت میںشل ہو کے رہ گئے
ہم سفر تو رہے پاؤں کی زنجیر نہ بنے
ہاتھ کی مستند لکیروں میں ڈھونڈتے رہے انہیں
ہاتھ اٹھے تو دعا قسمت کی لکیر نہ بنے
تھے جو صیاد و ہی آکے محافظ ٹھہرے
ہم رہے قید مگر قفس کے اسیر نہ بنے
ہم نے مانا کہ بہت زہر بھرا تھا اُن میں
تیر جو دل پہ لگے وہ کبھی تاسیر نہ بنے
ہم پہ مرتی رہی دنیا اور ہم مرتے رہے اُن پر
پر ہماری موت پر بھی چشمِ دلگیر نہ بنے
عمر بھر چلتے رہے وقت کے سائے میں صائمہ
خواب تو دیکھے مگر قابل تعبیر نہ بنے
صائمہ مقبول
ٹکی پورہ اولاب ، کپوارہ، کشمیر