غریب طبقے کیلئے مقامی بیت المال، مساجد کمیٹیاں اور دیگر فلاحی ادارے سامنے آگئے | 3لاکھ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور رجسٹر،کل تعدادساڑھے 13لاکھ، اکثریت نان شبینہ کے محتاج

 سرینگر //جموں وکشمیر میں مزدور طبقے کے لاکھوں افراد کیلئے کورونا کی وباء اپنے ساتھ بھوک اور فاقے بھی لائی ہے۔ایک طرف حکام لاک ڈائون کر کے کورونا کے بڑھتے ہوئے معاملات سے نپٹنے کی کوشش کر رہی ہے وہیں اس لاک ڈائون نے غریب دھیاڑی داروں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے کیونکہ جموں وکشمیر میں لاک ڈاؤن نے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے غریب مزدور طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سال2017کی ایک سروے کے مطابق جموں وکشمیر میں ساڑھے13لاکھ افراد یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں جن میں سے صرف ساڑھے تین لاکھ ہی متعلقہ سرکاری محکمہ کے پاس رجسٹرڈ ہیں جنہیں گذشتہ سال کے لاک ڈائون کے دوران ماہانہ ایک ہزار روپے کا معاوضہ فراہم کیا گیا تھا، اور امسال بھی انہیں فی الحال دو مہینے کیلئے فی کس ایک ہزار دیا جائیگا۔ اس وقت اگرچہ حکام نے تعمیراتی کاموں پر کوئی پابندی نہیں رکھی ہے لیکن مزدوروں کے کورونا ٹیسٹ ،ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے پر پابندی اور ساتھ میں کنسٹرکشن میٹریل لانے کیلئے جاری بندشوں نے اس سب سے بڑے طبقہ کو گھروں میں رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بہت سی سماجی اور فلاحی تنظیمیں ایسے مستحق  افراد کی مدد کر رہی ہیں لیکن ایسے تمام گھرانوں کے بھوک کے مسائل ختم نہیںہو گئے ہیں۔یومیہ اجرت پر مزدوری کرنے والوں کی زندگی کا ایک المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انکی زندگی کا دارومدار اسی پر ہوتا ہے۔جس دن وہ کام نہیں کریں گے تو انکا چولہا نہیں جلتا ہے۔سرینگر کی ایک فلاحی تنظیم نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے ابتک قریب 70مزدوروں کی مالی مدد کی ہے۔ایک اور فلاحی تنظیم نے کہا کہ وہ ابھی تک 200کنبوں کی مالی معاونت کرچکے ہیں۔وادی میںسینکڑوں کی تعداد میں مقامی سطح پربیت المال کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ 2019میں انہی بیت المال سے سینکڑوں لوگوں کو بھر پور مالی معاونت فراہم کی گئی۔ پچھلے سال بھی مقامی مساجد کمیٹیوں اور قائم کئے گئے بیت المال کی جانب سے مالی مدد فراہم کی گئی ہے۔مسلم وقف بورڈ کی جانب سے بھی اس طرح کی مالی امداد فراہم کی جارہی ہے۔وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مفتی فرید نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انکے پاس 600کنبے رجسٹر ہیں۔ان میںسے 200کی ویری فکیشن ہوئی ہے جن کے حق میں ابھی تک تین روز قبل 20لاکھ روپے کی امداد فراہم کی گئی ہے۔دیگر کی ویری فکیشن کا عمل جاری ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ وقف نے اس دوران تمام ملازمین کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے محلوں یا علاقوں اور دیہات میں ایسے لوگوں کی تفاسیل جمع کریں جنہیں مالی معاونت کی اشد ضرورت ہے۔جموں کشمیر کی سب سے بڑی فلاحی و دینی تنظیم جمعیت اہلحدیث کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عبدالطیف نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گذشتہ سال 5000کنبوں کو مالی معاونت فراہم کی گئی کیونکہ 7ماہ تک کورونا لاک ڈائون جاری رہا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ امسال ابھی 25دن لاک ڈائون کو ہوگئے ہیں اور ابھی تک 1500کنبوں کی مالی کفالت کی جاچکی ہے اور ان میں ہر روز اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح پر بھی جمعیت کی جانب سے اسی طرح کی سرگرمیاں جاری ہیں۔کرناہ چیرٹیبل ٹرسٹ کی جانب سے ابتک مزدور طبقے کے حق میں 3لاکھ روپے کی امداد دی جاچکی ہے۔سرینگر میںفلاحی ادارہ دارالخیر کا کہنا ہے کہ پچھلے 25روز کے دوران قریب 2500افراد کو مالی معاونت فراہمی کی گئی ہے اور یہ عمل ابھی رکا نہیں ہے۔ ادارہ کا کہنا ہے کہ اسکے علاوہ بیماروں کو آکسیجن کنسنٹریٹرس بھی فراہم کئے گئے ہیں۔لیبر یونین کا کہنا ہے کہ 3لاکھ 82ہزار مزدورکنسٹرکشن ورکر ڈیولپمنٹ بورڈ میں رجسٹرڈ ہیں اور باقی 9لاکھ کے قریب دھیاڑی پر کام کرنے والے مزدوروں کی رجسٹریشن نہیں ہو سکی ہے اور یہ افراد فاقہ کشی کی دہلیز پر پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے افراد کے حق میں معاوضہ فراہم کیا جائے ۔