اس وقت کروناوائرس جیسے عالمگیر وبائی صورتحال کے تناظر میں پورے ملک کے اندرلاک ڈاؤن بدستور جاری ہے۔ لاک ڈاؤن سے جہاں کورونا سے بچاؤ کی تدابیر سے متاثرہ افراد کی تعداد میں کسی حد تک کمی ہورہی ہے۔ وہی دوسری طرف عوام کو غذائی اجناس نہ ملنے سےکافی پریشانیاں پیدا ہوئی ہے۔ حکومت جموں و کشمیر نے عوام الناس سے ریلیف فنڈ جمع کرنے کی اپیل بھی کی ہے اور بہت سارے محکموں نے قابل اپنے ملازمین کے ایک یا دو یوم کی اجرت سرکار کو دینے کے لیے اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف بہت ساری تنظیمیں و انجمنیں رفاعی کام میں مشغول ہیں۔ انفرادی سطح پر بھی جگہ جگہ مسافروں کے علاوہ غریبوں، بیوا?ؤں، محتاجوں و دیگر ضرورت مندوں کے لیے اشیائے خوردنی تقسیم ہونے کی تصویریں سامنے آرہی ہیں۔ کہیں ماسکس تو کہیں طبی عملہ کے لیے ذاتی بچاؤ کا ساز و سامان (Personal Protective Equipments) تقسیم کئے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بہت سارے رفاعی اداروں کے کام کاج معہ تصویروں سمیت نظر آرہے ہیں۔ ہمیں ان کے نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ ایسے لوگوں کی نیت اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں ،سوشل میڈیا پر بھی اس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس وقت مشہور مکالمہ 'نیکی کر دریا میں ڈال' کے مصداق کے الفاظ کو بدل کر 'فیس بک پر ڈال' جیسے مکالمہ بنایا گیا ہے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کا فرمان موجود ہے کہ انفاق نافلہ یعنی اللہ کی خوشنودی کے لئے صدقات و خیرات کرنا جیسی نیکی کو کھلا یا پوشیدہ دونوں صورتوں میں خرچ کرنے کی اجازت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے "جو لوگ اپنا مال رات اور دن، پوشیدہ اور ظاہر (راہ خدا میں) خرچ کرتے رہتے ہیں، ان کا صلہ پروردگار کے پاس ہے اور ان کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ غم۔" (البقرہ : 274)
ایک اور مقام پر بھی اسی طرح دونوں صورتوں کی اجازت دی گئی ہے۔ چاہو تو پوشیدہ خیرات کرو اور چاہو تو ظاہر کر کے خیرات کرو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ "اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو وہ بھی، اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے-" (البقرہ :271)
شریعت میں انفاق فی سبیل اللہ کے معاملے میں پوشیدگی کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے اور پسند بھی فرمایا گیا ہے۔ روزِ قیامت جو لوگ عرش الٰہی کے سایے میں ہوں گے ، اْس وقت جب عرشِ الٰہی کے سایے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہ ہوگا، ان میں ایک وہ شخص بھی ہوگا جو اس طرح خرچ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہوپائے کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ ( بخاری :660 ، مسلم:1031)
دوسری طرف قرآن کریم نے ریاکاروں اور لوگوں کو بڑھ چڑھ کر دکھانے والوں کو شیطان کا ساتھی قرار دیا گیا ہے۔ (النساء :38)
پوشیدہ انفاق میں ریاکاری، واہ واہ یا شہرت کے ملنے کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے اور یہ کافی حد تک اللہ اور بندے کے درمیان ہی رہتا ہے۔ جس کی تازہ مثال مرحوم محمد اشرف انیم صاحب جو حال ہی میں کووڈ -۹۱ کے مہلک وبا میں گرفتار ہوکر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ آپ کے خدمت خلق کے چرچے آپ کے مرنے کے بعد لوگوں سے سننے کو ملے ہیں۔ لیکن خود آپ نے کبھی سوشل میڈیا پر نہ ہی کسی دوسرے ذرائع پر لوگوں کو دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اللہ پاک انہیں جنت الفردوس نصیب فرمائے ۔
جہاں تک خدمت خلق کے کام کو سوشل میڈیا پر دکھانے والوں کا تعلق ہے، میرے ذہن کے مطابق ان کا یہ فعل دوسرے لوگوں کو متحرک کرنے کے لیے اور اپنی انجمن کی سرگرمیوں کو اپنے مستقل مالی امداد فراہم کرنے والوں (Donators) تک پہنچانے کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ واللہ اعلم۔ ایسے افراد کو مستحقین کی تصویر کشی سے گریز کرنا چاہئے۔ یہاں ہمیں تنقیدی پہلو کے بجائے توصیفی پہلو کو اجاگر کرنا چاہئے اور ایسے کام کرنے والوں کی سراہنا کرنی چاہئے اور اپنی اپنی صلاحیت، استعداد اور مثبت ذہن سازی کے مطابق نجی سطح پر بھی متحرک الفعال بننا چاہئے۔ چہ جائیکہ یہ صرف بسکٹ کا ایک چھوٹا سا پیکٹ یا چاول کا ایک کلو ہی کیوں نہ ہو۔
کورونا کے وبا نے عالمی سطح پر تمام ممالک کی معاشی حالت کمزور کر کےرکھ دی ہے اور یہی حال ہر دیہات و شہری قصبوں کا ہے۔ آئے روز مزدوری کرنے والوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ بیوائیں، ضعیفوں اور بزرگوں کے لئے ایک ہزار کا سرکاری وظیفہ ملنا بھی دشوار ہو چکا ہے۔ غور کیا جائےکہ ان گھروں کیا صورت حال ہوگی، جہاں کل کے لئے ایک روپیہ بھی بچت نہیں تھا۔ ایک ماں اپنے عیال کو کیا کھلائے گی ،جہاں چولہے پر ایک خالی ہانڈی صرف بچوں کا دل بہلانے کے لیے رکھی گئی ہے ؟ بے کس و بے سہارا ضعیف بزرگ ماں باپ کس کے در پر جائیں گے ؟
کوروناوائرس کے ڈر سے پہلے ہی ہمارے گھر چاروں طرف دیواروں سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ محتاجوں کے لیے تمام راستے بند کر کے رکھے ہوئے ہیں۔ مستحقین اور محتاجوںسے ہمارا دور کا واسطہ نہیںرہا۔ بیوہ کی نظر بھی ہمیں گوارا نہیں ۔ ضعیف بے کس و بے سہارا بزرگوں پر ہمیں ترس نہیں۔ بس اپنی ہی دنیا میں مست، کوئی کیسے جیئے ہمیں اس پر سوچنے کی اشدضرورت ہے۔ حالانکہ یہاں نامساعد حالات نے ہر بستی میں بیشتر گھروں کو اجاڑکر رکھ دیا ہے،انہیں مسکین، بیوہ، یتیم اور محتاج بنا دیا ہے ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، "مسکین وہ نہیں جس سے ایک، دو لقمے در در پھرائیں۔ مسکین تو وہ ہے جس کے پاس مال نہیں، لیکن اسے سوال کرنے سے شرم آتی ہے اور وہ لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتا یعنی کمائے مگر بقدر ضرورت نہ پا سکے۔" (الصحیح البخاری ح: 1476)
آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے دوسری جگہ مسکین کی وضاحت یوں فرمائی کہ " اصلی مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے زریعہ سے بے پرواہ ہو جائے۔ اس حال میں کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اس سے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لئے اٹھتا ہے۔" (الصحیح البخاری؛ ح: 1479)
اب آپ حدیث مبارک کے الفاظ پر سنجیدگی سے غور کریں، اپنے محلے کا نقشہ ذہن میں لائیں، اپنی نظریں گھمائیں اور پھر دیکھیں کہ کیا واقعی آپ کے محلے میں کوئی غریب و محتاج موجود نہیں۔ ضرور بالضرور متعدد گھر ملیں گے۔ جن کا ضمیر، عزت نفس، پاک دامنی، شرمندگی اور سادگی آپ کے سامنے انہیں ہاتھ پھیلانے نہیں دیتا۔
یہاں پر ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کی غیرت اور خود داری کو مجروح نہ ہونے دیں، ان کے عزت نفس کو پامال ہونے نہ دیں، تصویر کشی سے انہیں رسوا نہ کریں اور اس موقع پر ان کا اس طرح تعاون کریں کہ ہر حال میں یہ راز، راز ہی رہے۔گھر میں بیٹھے ہوئے بھی تب ہی ممکن ہے جب ہم مل کر نجی اور اجتماعی طور پر ضرورت مندوں کے لئے مؤثر اقدامات اٹھانے میں کامیاب ہوں گے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر غریبوں اور محتاجوںکو کھانا کھلانے کی ترغیب کیوں دی؟ اور اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کھانا کھلانے کو عظیم صدقہ کیوں قرار دیا؟ یہی سوال جب قرآن کریم سے پوچھا تو یوں جواب ملا کہ کیا آپ غور سے نہیں دیکھتے کہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی مختلف صورتوں کا بیان میرے اندر موجود ہیں۔
جو شخص روزہ نہ رکھ سکے اس کا فدیہ مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ (البقرہ۔?184) قسم کا کفّارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ (المائد?ہ۔ :89) حرم پاک میں کوئی شخص شکار کرلے تو اس کا کفّارہ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ (المائدہ۔?95) ظِہار (بیوی کو ماں کہہ دینے) کا کفارہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ (المجادل?۔4) پریشانی کے دن یتیموں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کو عظیم عمل کہا گیا ہے۔ ( البلد :14-16)
اہلِ جنت کا ایک وصف یہ بیان کیا گیا کہ وہ دنیا میں اللہ کو خوش کرنے کے لیے مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ (الدھر :8) اور جہنم کا ایندھن بننے والوں کا ایک جرم یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ نہ خود مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے اور نہ دوسروں کو اس نیک کام پر ابھارتے تھے۔ (الفجر :18، الماعون :3)
اللہ رب العزت نے کافروں اور مسلمانوں کے درمیان ایک امتیازی لکیر اس طرح کھینچی ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ "مسلمان کا یہ شیوہ نہیں کہ وہ مال کے معاملے میں کنجوسی اختیار کریں۔ اور وہ مال کی محبت میں بڑا مضبوط ہے۔" (العادیات: 8)
یہاں کنجوسی جیسے برے القاب سے پاک انسان کو ہی مسلمان بتایا گیا ہے اور یہ واضع کردیا گیا کہ ایمان والا کبھی کنجوس نہیں ہو سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال کے تناظر میں حال ہی میں بحرین کے شیخ نے دنیا کا سب سے مختصرخطبہ اسی عنوان پر دیا کہ "بھوکے کو پیٹ بھر کر کھلانا سو مسجدوں کی تعمیر سے بہتر ہیں"۔ یہ خطبہ ازخود بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ بات مختصر ہی سہی لیکن ایک بھوکے کو کھانا کھلانا کس قدر بہتر ہے۔اور کتنی افضل عبادت ہے۔
گھر نہیں تو کھلے آسمان تلے رہ سکتے ہیں، سواری نہیں تو پیدل چل سکتے ہیں لیکن بھوک ہو اور کھانے کو کچھ نہ ہو تو صبر کے بعد زیادہ دیر تک بھوک کو ٹالنا ناگزیر ہو جاتا ہے، جس سے آخر پر موت واقع ہونے کے امکانات زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔ اسی لیے بھوکے کو پیٹ بھر کر کھانا کھلانے کی اتنی اہمیت دی گئی ہے۔ جو شخص اس سے عملانے کی کوشش کرے گا وہ بے انتہا ثواب حاصل کرنے کا مستحق ہوگا۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ قیدی کو چھڑایا کرو ‘ بھوکے کو کھلایا کرو ‘ بیمار کی عیادت کرو۔‘‘ (الصحیح البخاری :3046)
اسی طرح دوسری حدیث میں جنت کا بدلہ دیا جائے گا کے بارے میں یوں فرمایا " کھانا کھلانے والے جنت میں جائیں گے۔" (مسند ?حمد: 8979)
ایک مشہور واقع ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک انصاری صحابہ سے بھوکے کو کھلانے اور خود فاقے رہنے پر فرمایا کہ رات کو تم دونوں میاں بیوی کے اس نیک عمل سے اللہ تعالٰی نہایت خوش ہوئے اور اس سے اتنا پسند فرمایا کہ اس پر سورۃ الحشر کی آیت نمبر ۹ نازل فرمائی، جس میں اللہ تعالٰی نے بھوکے کو کھلانے والوں کی تعریف اس انداز سے کیں ’’اور وہ ( انصار ) ترجیح دیتے ہیں اپنے نفسوں کے اوپر ( دوسرے غریب صحابہ کو ) اگرچہ وہ خود بھی فاقہ ہی میں ہوں اور جو اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا گیا سو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (الصحیح البخاری : 3798)
یہی اوصاف نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے تمام جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین میں کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے تھے۔ سماج میں مرجھائے ہوئے چہروں کو دیکھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ " سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ تم کسی بھوکے کو کھانا کھلادو۔" (مسند احمد: 9084، بیہقی فی شعب الایمان :3367، الترغ?ب و الترھیب :92/2) (جاری)
ہاری پاری گام ترال
فون نمبر – 9858109109