وزیر اعلیٰ نے مستحقین میں تقرر نامے سونپے
سرینگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو واضح کیا کہ ریاست کی عوام محض اداروں کے نام بدلنے سے زیادہ بہتر طرزِ حکمرانی، شفافیت اور عملی کارکردگی کے خواہش مند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی دلچسپی ناموں میں نہیں بلکہ حکومت کے کام میں ہوتی ہے، اس لیے کارکردگی میں بہتری بنیادی ترجیح ہونی چاہیے ۔
تقریب
سرینگر میں ایک تقریب کے حاشیہ پر نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران وزیرا علیٰ نے کہا کہ نام بدلنا ٹھیک ہے ، لیکن عوام کو ناموں سے زیادہ اس بات کی فکر ہے کہ حکومت کیا کام کر رہی ہے ،لوگ نام نہیں دیکھتے ، کام دیکھتے ہیں۔ انہوں نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے پر تبصرہ کیا جس کے تحت ملک بھر میں راج بھون کا نام تبدیل کر کے لوک بھون رکھا جا رہا ہے ۔ عمر عبداللہ نے نیم مزاحیہ لیکن معنی خیز انداز میں کہا:’اگر نام بدلنے سے عوامی خدمت میں اضافہ ہوتا ہے تو اچھی بات ہے ، لیکن لوگوں کو اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ میں خود کو چیف منسٹر کہوں، مکھ منتری یا وزیرِ اعلیٰ، اصل بات یہ ہے کہ ہم ان کے لیے کیا کر رہے ہیں۔’ ریزرویشن سے متعلق وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں ریزرویشن پالیسی کے تازہ جائزے سے متعلق فائل بدھ کی شام لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر کو بھیج دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی منظوری ملے گی، اس سلسلے میں آگے کے اقدامات متوقع ہیں۔ وادی کشمیر میں درجہ حرارت میں مسلسل گراوٹ کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے پییک ونٹر سپلائی شیڈول پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت دی ہے ۔ انہوں نے کہا:’ہم پوری کوشش کریں گے کہ بجلی کے طے شدہ شیڈول پر سختی سے عمل ہو۔ عوام کو شیڈول کے مطابق بجلی فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔’
برسی
وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ عام تعطیلات کا اعلان کرنے کا اختیار مرکز کے پاس ہے جموں و کشمیر کی منتخب حکومت کے پاس نہیں ہے ۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ یہی وجہ ہے کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال ہونا چاہئے ۔ ان کا کہنا ہے کہ شیخ محمد عبداللہ کی برسی پر چھٹی ہو یا نہ ہو، وہ لوگوں کے دلوں میں رہتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ‘شیخ محمد عبداللہ کی برسی پر چھٹی رکھی جائے یا نہیں وہ پھر بھی لوگوں کے دلوں میں رہتے ہیں’۔ ان کا کہنا تھا ‘ اختیارات کی تقسیم کے تحت یہاں کی منتخب حکومت کو چھٹی کا اعلان کرنے یا ختم کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا ہے ، یہ طاقت مرکزی حکومت کے پاس ہے ،اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ ہمیں ریاست کا درجہ واپس ملنا چاہئے تاکہ ہم چھوٹے اور بڑے دونوں فیصلے خود لے سکیں’۔ عمر عبداللہ نے کہا: ‘شیخ عبداللہ کی برسی منانے کے لئے چھٹی کی کوئی ضرورت نہیں ہے وہ اس کے بغیر بھی لوگوں کے دلوں میں رہتے ہیں۔
تقرر نامے
وزیر اعلیٰ نے شیر کشمیر انٹرنیشنل کنوکیشن سینٹر(ایس کے آئی سی سی) میں مستحقین کو ایس آر او-43/آر اے ایس کے تحت تقرر نامے سونپے ۔وزیر اعلیٰ کے دفتر کے ‘ایکس’ ہینڈل پر ایک پوسٹ میں کہا گیا ‘ کل جموں میں اسی طرح کے آرڈرز کے تقسیم کے بعد، وزیر اعلیٰ نے آج ایس کے آئی سی سی، سرینگر میں مستحقین کو ایس آر او -43/ آر اے ایس کے تحت تقرری کے احکامات سونپے اور اس طرح حکومت کی ہمدردانہ حکمرانی اور غمزدہ خاندانوں کی مدد کے عزم کا اعادہ کیا گیا’۔