سرینگر// نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ خصوصی پوزیشن کی بحالی ایک ایسا واحد اقدام ہے جوجموں وکشمیر اور نئی دلی کے درمیان اعتماد بحال کرکے یہاں کے حالات میں سدھار لا سکتا ہے۔ پارٹی ہیڈکوارٹر پر ضلع سرینگر کے 8حلقوں کے عہدیداروں کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے مؤقف میں ذرا برابر بھی تبدیلی نہیں آئی ہے اور جموں وکشمیر کیلئے اٹانومی کا حصول آج بھی اس جماعت کا بنیادی منشور ہے اور ہماری جماعت دفعہ370اور 35اے کی بحالی کیلئے قانونی جدوجہد میں مصروفِ عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دفعات کی منسوخی سے تینوں خطوں کے لوگ ناراض ہیں، جب یہ دفعات منسوخ کی گئیں اُس وقت جموں وکشمیر کے تینوں خطوں کو جیل خانے میں تبدیل کردیا گیا اور لوگوں کو اپنے گھروں میں محصور کیا گیا۔ مرکزی حکومت کے اس یکطرفہ اور غیر جمہوری فیصلے نے جموںوکشمیر کے عوام کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے اور مایوسی کے بھنور میں ڈال دیا ہے۔ عمر نے کہا کہ 9اگست 2019کے فیصلوں کی واپسی سے ہی جموں وکشمیر کے تینوں خطوں کے لوگوں کا اعتماد بحال کیا جاسکتا ہے اور یہاں کے حالات میں سدھار آنے کی اُمید ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر سے متعلق 5اگست 2019کے مرکزی حکومت کے فیصلوں کو صرف نیشنل کانفرنس نے ہی نہیں بلکہ تینوں خطوں کے عوام نے مسترد کیا ہے ۔ تینوں خطوں کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ کے تحت چھینی گئی آزادی پر برہم اور سراپا احتجاج ہیں۔اجلاس میں سینئر لیڈران علی محمد ساگر، مبارک گل محمد سعید آخون، عرفان احمد شاہ، پیر آفاق احمد، صبیہ قادری، سلمان علی ساگر، احسان پردیسی، جگدیش سنگھ آزاد، سارا حیات شاہ، عفرا جان، غلام نبی وانی تیل بلی، غلام نبی بٹ اور ضلع سرینگر کے عہدیداران بھی موجود تھے۔