سشمیتا
جموں// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ آئینِ ہند سے آرٹیکل 370کو ختم کرے تو نیشنل کانفرنس حکومت اگلے ہی دن قانون ساز اسمبلی میں اس کی بحالی کے لئے واضح قرارداد پیش کرے گی۔لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا’’لیکن بی جے پی ایسا نہیں کر سکتی کیونکہ وہ جانتی ہے کہ صرف آرٹیکل 370 ہی جموں و کشمیر کے ملک کے ساتھ تعلق کو آئینی طور پر جوڑتا ہے‘‘۔ وزیر اعلیٰ نے کہا’’میں ایک بار پھر واضح کرتا ہوں کہ این سی حکومت عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ان وعدوں میں سب سے اہم جموں و کشمیر کے خصوصی درجے کی بحالی ہے۔ اب قائدِ حزبِ اختلاف (سنیل شرما) صاحب ’خصوصی درجہ‘کی اصطلاح پر اعتراض اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ آرٹیکل 370کا ذکر کیوں نہیں کرتے؟ ہمیں آرٹیکل 370کا ذکر اس لیے ضروری نہیں لگتا کیونکہ آپ (بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت) نے اسے آئین سے ختم نہیں کیا ہے‘‘۔اس سے قبل بحث کے دوران قائدِ حزبِ اختلاف نے این سی کی قیادت والی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد’’ازخود مسترد‘‘ہو گئی کیونکہ آئینِ ہند میں جموں و کشمیر کے لیے’’خصوصی درجہ‘‘نام کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔
اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد میں آرٹیکل 370کا براہِ راست ذکر نہ کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا’’اگر آپ نے آرٹیکل 370کو ختم کر دیا ہوتا تو میں اس کو آئین میں دوبارہ شامل کرنے پر زور دیتا۔ آرٹیکل 370 اب بھی آئین میں موجود ہے، البتہ آپ نے اسے کھوکھلا کر دیا ہے۔ اسے کھوکھلا کرنے کے بعد آپ نے ہم سے ہمارا خصوصی درجہ چھین لیا۔ ہم آرٹیکل 370کو وہیں رکھنا چاہتے ہیں جہاں وہ ہے، اور اسی کے تحت ہمیں اپنا خصوصی درجہ بحال ہوگا‘‘۔انہوں نے کہا’’اسی لیے اس ایوان نے اپنے پہلے اجلاس میں یہ قرارداد منظور کی کہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ، جس کی آئینی ضمانت آرٹیکل 370کے تحت دی گئی ہے اور جو اب بھی قانون کی کتابوں میں موجود ہے، بحال کیا جائے گا۔ ہمیں اس سے زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ جس دن آپ آرٹیکل 370کو آئین سے ہٹائیں گے، اگلے ہی دن ہم اس ایوان میں اس کی بحالی کی قرارداد ضرور لائیں گے‘‘۔تاہم وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی ایسا نہیں کر سکتی۔انکاکہناتھا’’کیونکہ آپ اور میں دونوں جانتے ہیں کہ جموں و کشمیر کا اس ملک کے ساتھ آئینی رشتہ آرٹیکل 370پر ہی منحصر ہے۔ اگرچہ آپ نے اس کے بڑے حصے کو کمزور کر دیا، لیکن اس کا قانونی وجود ختم نہیں کر سکے۔ اسی لیے ہمیں قرارداد میں اس کا نام لینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی‘‘۔بحث سمیٹتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے حزبِ اختلاف کی اس تنقید کا بھی ذکر کیا کہ گزشتہ برس کے بجٹ اجلاس یا اس سے قبل لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب میں شامل کئی امور اس سال (2026) کے خطاب میں شامل نہیں تھے۔انہوں نے کہا’’جب حکومت جاری رہتی ہے تو اس کا عکس لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب کے تسلسل میں بھی نظر آتا ہے۔ اسی لیے پچھلے دو خطابات میں شامل امور کو دہرانے سے گریز کیا گیا، تاکہ حزبِ اختلاف ہمیں تکرار کا الزام نہ دے۔ لیکن اب ہمیں اس بات پر تنقید کا سامنا ہے کہ وہ امور اس خطاب میں شامل کیوں نہیں کیے گئے‘‘۔