ہمارے پیارے نبی ؐ کا ارشادِ گرامی ہے،’’ انبیائے کرام ؑ کی میراث نہ درہم تھا نہ دینار بلکہ ان کی میراث ’علم‘ تھی ۔پَس جس نے علم حاصل کیا ،اُس نے بہت کچھ پالیا ۔اس لئے علم حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لےلو۔‘‘ لیکن ایسے ’علم‘ جس سےنفع نہ ہو،اللہ کی پناہ مانگوکیونکہ ناقص و اُدھورا علم اکثر موجب فساد ہوتا ہے۔حق تو یہ بھی ہے کہ علم کی قوت جب حد سے بڑھ جاتی ہے تومکاری اور بسیار دانی پیدا کرتی ہے اور جب ناقص ہو تو حماقت اور بدخواہی پیدا کرتی ہے ،گویا علم شریفوں کو متواضع بناتا ہے اور رذیلوں کو متکبّر۔بے شک علم کی خوبی اس کے عمل کرنے میں ہےاور تمام خوبیوں کا مجموعہ علم سیکھنا اور دوسروں کو سکھانا ہے۔علم کا حصول ہر مسلمان پر فرض ہے اوراسلام میں علم کی طلب صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک عبادت کی طرح ہے، جو انسان کو نہ صرف دنیاوی فوائد فراہم کرتا ہے بلکہ آخرت میں بھی انسان کو انعامات کا مستحق بناتا ہے۔علم کا راستہ صرف دنیا میں کامیابی کی راہ نہیں کھولتا بلکہ یہ انسان کی آخرت کی فلاح کے لئے بھی ضروری ہے۔ فلاسفروں کا کہنا ہے کہ علم انسان کے دل و دماغ کو روشن کرتا ہے اور اس کی زندگی کو صحیح سمت دیتا ہے، انسان کو معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے اور وہ اپنی ذاتی، اخلاقی اور روحانی حالت کو بہتر بناتا ہے۔بے شک تعلیم انسان کی ذہنی، روحانی اور اخلاقی تربیت کا ایک اہم ذریعہ ہے،جس سےوہ فطری صلاحیتوں سے آگاہ ہوجاتاہے اور اُسے صحیح راستوں کی نشاندہی ملتی ہے۔علم دولت سے بہتر ہے، کیونکہ علم انسان کی حفاظت کرتا ہے، جبکہ دولت سے اُسے نقصان بھی پہنچ سکتی ہے۔ علم انسان کی شخصیت کو بہتر بناتا ہے اور اس کی زندگی میں سکون اور توازن لاتا ہے۔علم کا حصول صرف فرد کی ذاتی ترقی کے لیے نہیںبلکہ اس کا گہرا اثر معاشرے پر بھی پڑتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ فرد نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتا ہے بلکہ اپنے معاشرے کو بھی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔ تعلیم انسان کی اخلاقی تربیت کا حصہ ہے اور اس کے ذریعے انسان میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے وہ معاشرتی مسائل کا حل تلاش کرتا ہے اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو بہتر بناتا ہے۔ اس طرح تعلیم نہ صرف فرد کی فلاح کا ذریعہ ہے بلکہ پورے معاشرے کی فلاح کا بھی ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔مجموعی طور پر تعلیم انسان کی زندگی میں تبدیلی اور ترقی کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ علم انسان کی ذہنی اور روحانی ترقی کا ضامن ہے اور اس کے ذریعے انسان اپنے مقصد زندگی کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان پرلازم ہے کہ وہ علم حاصل کرے اور اس کو اپنی زندگی میں نافذ کرے تاکہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکے بلکہ اپنے معاشرتی ماحول میں بھی بہتری لا سکے۔ ظاہر ہے کہ جاہلیت میں انسان کا ذہن تاریکی میں ڈوبا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ دنیا کے مسائل کو صحیح طور پر سمجھ نہیں پاتا۔ اس کی فہم و شعور محدود ہوتا ہے اور وہ ہر قدم پر صحیح فیصلے نہیں لیتا ہے۔ جاہل انسان اپنے ذاتی مفادات کو سب سے اہم سمجھتا ہے اور اس کے عمل میں خودغرضی کی جھلک ہوتی ہے، وہ نہ تو اپنے حالات کا تجزیہ کرتا ہے اور نہ ہی اس کے دل میں کسی اور کے لیے ہمدردی یا شفقت ہوتی ہے۔ دوسری طرف تعلیم انسان کے ذہن کو روشن کرتی ہے اور اس میں فہم و بصیرت پیدا کرتی ہے۔ تعلیم انسان کو اپنی غلطیوں کا احساس دلاتی ہے اور اسے سچائی اور راہ راست کی طرف رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ جب انسان علم حاصل کرتا ہے، تو اس کی زندگی میں نیکی، فہم اور درست فیصلوں کا رجحان بڑھتا ہے اور وہ اپنے مقصد کو بہتر طور پر سمجھتا ہے،گویاتعلیم نہ صرف اُس کی زندگی کو بہتر بناتی ہے بلکہ اس کا اثر پورے معاشرے پر بھی پڑتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ فرد اپنی ذاتی زندگی میں بہتر فیصلے کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے معاشرتی ذمہ داریوں کو بھی بخوبی سمجھتا ہے۔ تعلیم انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ دوسروں کے حقوق کا احترام کرے اور ان کے ساتھ انصاف اور ہمدردی سے پیش آئے۔تعلیم کا معاشرتی اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ معاشرہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہوتا ہے ،تعلیم یافتہ لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں، معاشرتی برائیوں کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں،انسانوں کے درمیان فرق کو مٹاتے ہیں ، انہیں ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیںاور ایسے ہی معاشروں میں امن، سکون اور ترقی کی فضاء قائم ہوتی ہے۔