علامہ اقبالؒ کا شمار اپنے عہد کی قدآور شخصیات میںہوتا ہے۔وہ شاعر ،فلسفی ،صوفی اور سیاست دان سبھی کچھ تھے۔انہوںنے تعلیمی موضوعات ،مسائل او ر ان کے حل پر بھی ا پنے خیالات کا اظہار کیا۔ اُن کے کلام، بیانات اور مکاتیب وغیرہ کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیںکہ اُن کے نزدیک تعلیم کی دو قسمیںہیں ،1 ؛ رسمی تعلیم ۔2؛غیر رسمی تعلیم۔ اگرچہ علامہ اقبالؒ نے درس وتد ریس،تعلیم ومعلم اور طلبا و مدارس وغیرہ جیسے تعلیم کے رسمی موضوعات پر کوئی بحث نہیںکی تاہم ایک دانشور ،فلسفی اور بڑے شاعر کی حیثیت سے انہوں نے تعلیم کے غیر رسمی مسائل پرخوب خامہ فرسائی کی ہے اور ان مسائل کو اپنے کلام کا حصہ بنا یا ہے جن کی تفہیم یا تشریح کے لئے ان کے فلسفۂ خودی یا بے خودی کو سمجھنا نا گزیر ہے ۔تا ہم محض ان کے فلسفے کو ہی بنیاد بنا کر انہیںماہر تعلیم یا مفکر تعلیم کہنا یا ماننامناسب نہیں ،کیوںکہ اقبالؔنہ ہی ماہرِ تعلیم تھے اور نہ ہی انہوںنے فنِ تعلیم پر کوئی سند حاصل کی تھی جبکہ وہ فلسفے کے فارغ التحصیل تھے ۔تا ہم وہ بہترین استاد ضرور تھے اور دنیا کا کوئی بھی محقق یا ناقد اس حقیقت سے ا نکار کرنے کی جرأت نہیںکر سکتا ۔اقبالؔایک ایسی شخصیت کے مالک تھے جنہوںنے بیک وقت مشرق ومغرب کو متا ثر کیالہٰذا ان کے تعلیمی نظریات ( Educational ideas or theories )کویکسرنظراندازکردیناایک غیر ذمّہ دارانہ،غیر منصفا نہ اور غیر دانشمندانہ عمل ہو گا۔
اقبالؔنے تعلیم کے فنّی اور علمی پہلوؤںپر غوروفکر کر نے کے ساتھ ساتھ تعلیم کے مفہوم، مسائل،اغراض ومقاصد، ڈھانچے اور معیار پر خامہ فرسا ئی کی ہے۔انہوںنے جدیدمغربی ،قدیم مشر قی اور اسلامی نظام تعلیم پر بحث کی ہے،مدرسہ، اساتذہ، طلبہ، نصاب وغیرہ تمام موضوعات پر غورو خوض کیا ہے اور یہ بتا یا ہے کہ حیات وکا ئنات کی تفہیم، تعبیر اور تشریح،زند گی کو کا میاب طریقے سے گزارنے اور شرکی قوتوں سے مزاحمت کر نے یا ان پر قا بو پا نے کے لئے کس طرح کی تعلیم یا تعلیمی نظام کی ضرورت ہے۔تعلیم اور مسا ئلِ تعلیم سے اقبالؔکا لگائو نظریاتی اور عملی دونوںسطح پر نظر آتا ہے۔مثال کے طو ر پرانہوںنے ملک کی بڑی جامعات میں تعلیم کے مو ضوع پر جو لیکچر دیئے ،ان کی حیثیت اعلیٰ ـتعلیم کے موضوع پر تو ضیحی خطبات کی ہے اور تعلیم سے ان کی عملی وابستگی کا سب سے بڑا ثبوت یہی ہے کہ وہ شعبۂ تعلیم سے تقریباََ پندرہ سال تک منسلک رہے۔علاوہ ازیں وہ مختلف یونی ور سٹیوںکی تعلیمی کمیٹیوں کے ممبر،اعلیٰ اسناد کے امتحان میں ممتحن بھی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تعلیم کے موضوع کو بھی مر کزِ بحث بنایا اور اہم تعلیمی مسائل سے وابستہ ان کے خیا لات کوملکی اور بین الاقوامی سطح پر قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ جب ۱۲ ۱۹ء میںمسٹر گو کھلے نے امپیر ئل لیجسلیچر کونسل میں جبری تعلیم کا مسودہ پیش کیاتواس پر سیا سی تنظیموں کے ساتھ ساتھ مذہبی جماعتوںنے بھی اس کی تر دید کی۔
لیکن ۸ ۱ فروری ۱۹۱۲ ء میںاسلا میہ کا لج لا ہور میںایک جلسے کی صدارت کے دوران اقبالؔ نے جبر یہ تعلیم کوروحانی چیچک کا ٹیکہ قرار دیااور یہ فر ما یا کہ اسلا م میںجبری تعلیم کا نظریہ مو جود ہے اور مسلمانوںکو حکم ہے کہ وہ کہ وہ اپنے بچوں کو زبر دستی یا جبراََ نما ز پڑھا ئیں،روزہ رکھنے پر مجبور کریں۔معلوم ہوا کہ اقبالؔمسائل تعلیم کی تفہیم میں کس قدرکشاد گی سے کام لیتے تھے۔ تعلیم کے عملی اور نظریاتی مسائل سے ان کی دلچسپی کا اندازہ’’اسرار خودی‘‘اور ’’رموز بے خودی‘‘سے بھی لگا یا جا سکتا ہے۔کلام اقبالؔ کے ان مجموعوں کے مطالعے سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ اقبال ؔعلوم جدیدہ کے ساتھ ساتھ قران حکیم اور اسلامی تاریخ کی تعلیم کے بھی حامی تھے اور دونوں مضا مین کی تعلیم کوکسی بھی ملک،قوم اور معا شرے کی ترقی کے لئے نا گزیر تصور کر تے تھے۔ ان کے خیال میں جدید تعلیم مذہبی تعلیم کے بغیر فرد میںہوس،لالچ اور خودغرضی کو فروغ دیتی ہے اور خالص مذ ہبی تعلیم کے خول سے طالب علم انقلاب دُور حاضر سے بے بہرہ،روشن خیالی سے خالی اورقدامت پرست ہوتا ہے۔ان کا یہ خیال اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے مسا ئل تعلیم پر بڑی گہری بصیرت حاصل کر لی تھی اور تعلیم کے بنیادی مسائل پر ان کے جو خیال وافکار سامنے آئے ،ان کو ما ہرین تعلیم کافی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک حصولِ تعلیم کا مقصد عظمت آدمیت اوراحترامِ آدمیت ہو نا چاہیے اور ایسا تب ہی ممکن ہے جب انسان کی خودی مستحکم ہو گی کیوں کہ استحکامِ خودی سے انسان میں وہ سیرت اور کردار پیدا ہو تا ہے جس کی بدولت وہ زندگی کے تمام تر مصا ئب و مشکلا ت پر قابو پا لیتا ہے۔اقبالؔکے نزدیک خودی کی تربیت کے لیے غیر رسمی تعلیم کی اہمیت کسی طرح سے بھی کم نہیں بلکہ یہ رسمی تعلیم کے مقا بلے میں کہیںزیادہ حقیقت شناس ہوتی ہے نیز اسکا سلسلہ لحد تک قا ئم رہتا ہے۔ لہٰذا اقبال کے نزدیک غیر رسمی تعلیم رسمی تعلیم کے مقا بلے میں کا فی طویل عمل ہے اور یہ انسان میں زندگی بھر کے لئے شراب علم کی جستجو اور ولو لہ پیدا کر دیتی ہے نیز انسانی خیا لات و نظریات کے ارتقاء اور نشو نماء میں تب تک لگی رہتی ہے جب تک اسے معراج بشریت نہ حا صل ہو جائے۔ مشرق ومغرب کے نظام ِتعلیم پر اپنے خیالات کا اظہار کر تے ہوئے اقبالؔ فرما تے ہیں کہ مشرق کا نظام ِتعلیم غیر مؤثر اور بے روح ہے،یہ حاکم قوموں کا زا ئیدہ ہے جو طالب علموں کو یا سیت، محرومی اور غلامانہ ذہنیت کا شکار بناتاہے لہٰذا مشرقی تعلیمی نظام تعلیم کے اُن مقاصد کو پورا نہیں کر رہاجن کا تعلق سیاسی، سماجی،نفسیاتی اور معاشی محکومی سے آزادی اور انسان میں عمل،یقین وسعی پیدا کرنے سے ہے۔ان کے مطابق مشرقی درسگا ہوں میں جس طرح کی تعلیم مروج ہے، اس کی بدولت نوجوان یاس اور محرومی کا شکار ہو جاتے ہیںاور ان میںخیالات کی جدت،علم کی گہرائی، حقائق کی جستجواور تجددکا ذوق پیدا نہیں ہو سکتا۔
اقبالؔ کے نزدیک موجودہ عہد کے تعلیمی اداروں میں جس طرح کے علم کے حصول پر زور دیا جاتاہے، اس سے لادینی اوربے یقینی کے خیالات کو بڑھاوا ملتا ہے،دل بے نور رہتا ہے اور باطن میں عشق کی وہ حرارت پیدا نہیں ہوتی جو انسان کو ’’اَنَااَلحَق‘‘کہنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اقبالؔنے مغربی نظام تعلیم پر بھی طنز وتنقید کی ہے ۔اپنے تین سالہ قیام یورپ کے دوران انہوں نے اسکا لراور استاد کی حیثیت سے یورپ کے تعلیمی اداروں،نصاب،طریقۂ تعلیم وتربیت اور ان کے وہاں کی تہذیبی وثقافتی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو قریب سے دیکھا لیکن مغرب کی تہذیبی ترقی کی شان وشوکت اقبالؔجیسے حکیم النظر شخص کو متا ثرنہ کر سکی اور انہوں نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ مغربی تعلیم اور یہ نظا م تعلیم مادہ پرستی کی بنیاد پر استوار ہے اور یہ نظام تعلیم عنقریب اپنی تبا ہی وبربادی کا سبب خود بخود بن جا ئے گا۔اقبالؔکے نزدیک ہروہ نظام اور نظریہ وقت کے ساتھ ساتھ مٹ جا تا ہے جس کی بنیا دیں اخلا قیا ت اور دینیا ت پر استوار نہ ہوں۔ان کے خیال میں مغربی تعلیم کے حصول سے ہم مادی ترقی اور اس کی کا میا بی اور کامرانی تو حاصل کر سکتے ہیں مگر دل و دماغ کو روشن اور منور نہیں کر سکتے چنانچہ وہ فر ما تے ہیں۔ ؎
جوقوم کہ فیضان سماوی سے ہو محروم
حداس کے کما لات کی ہے بر ق و بخارات
ہے دلوںکے لئے موت مشینوں کی حکو مت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آ لا ت
مغربی تعلیم اور نظامِ تعلیم پر اقبالؔ کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ وہ لا دینی،غیر اخلاقی اور بے یقینی کے خیا لات کو ہوا دیتا ہے۔ اس تعلیم کے حصول سے بدن کی پیاس تو بجتی ہے لیکن روح کی تشنگی نہیں جا تی،مغربی دا نش گا ہوں میں اہل دانش تو پیدا ہوتے ہیں مگر اہل نظر نہیں بنتے،ان دانش گاہوں میں حصول ِتعلیم سے انسا ن سوز ِدما غ سے تو آشنا ہو جا تا ہے مگر سوزِ جگر سے نا آشنا ہی رہتا ہے۔وہ فر ما تے ہیں ؎
عذاب دا نش حا ضر سے با خبر ہوں میں
کہ میں اس آگ میں ڈا لا گیا ہوں مثل خلیل
مجھے وہ درس فرنگ آج یاد آتے ہیں
کہاں حضور کی لذت کہا ں حجا ب دلیل
’’بال جبریل‘‘میں’’ شیخ مکتب‘‘کے عنوان سے لکھی گئی نظم میں اقبالؔ نے مدرسے کے استاد پر اپنے خیا لات کا اظہا ر کر تے ہوئے کہا ہے کہ استاد کی ذمّہ داری ہے کہ وہ طلبا کی سیرت کاصحیح سانچہ تیار کریں۔انہوں نے استاتذہ کو مخا طب کرتے ہوئے کہا ہے کہ استاد ہی صحیح معنوں میںقوم کے معمار ہیں اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبا کی جسمانی اور روحانی تر بیت اعلیٰ سطح پر کریں۔ انہوںنے مزید کہا کہ یہ استاتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے طالب علموں کو ایسی تعلیم دیںجس سے ان کے روح بھی منور ہوںاور وہ فیضان سماوی سے مستفید ہونے کے اہل بھی ہو جائیں۔اقبالؔفرماتے ہیں ؎
شیخ مکتب ہے اک عمارت گر جس کی صفت ہے روح انسانی
نکتہ دلپزیر تیرے لئے کہہ گیا حکیم قاآنی
’’پیش خورشید بر مکش دیوار خواہی از صحن خانہ نو رانی‘‘
اسی طرح ’’ضرب کلیم‘‘میں ’’ تربیت‘‘ ، ’’اجتہاد‘‘ اور ہندی مکتب‘‘ کے عنوان سے لکھی گئی نظموں میں انہوں نے مدرسے، تعلیم ،معلم اور نصاب پر اپنے خیا لات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے ؎
زندگی کچھ اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
زندگی سوز جگرہے علم ہے سوز دماغ
شیخ مکتب کے طریقوں سے کشاد دل کہاں
کس طرح کبریت سے روشن ہو بجلی کا چرا غ… (نظم-تربیت)
یہ اور اس طرح کے بے شمار اشعاراقبالؔ کے کلام میں مو جود ہیںجن میں انہوں نے تعلیم اوراس موضوع سے متعلق بڑی تفصیل سے اظہارِ خیا ل کیا ہے اور ان کو میں طوا لت کی وجہ سے پیش نہیں کررہا۔اقبالؔ نے مشرقی اور مغربی دونوں طرح کے نظامِ تعلیم کو طنزو تنقید کا نشا نہ بنا یا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اقبالؔ مشرقی و مغربی دونوں طرح کے نظام تعلیم سے بد ظن اور نا لاں ہیں تو پھر ا نہیں کون سا یا کس قسم کا نظا مِ تعلیم قابل قبول ہے،تو اس ضمن میں ان کے کلام کے مطا لعے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مدا رس کے تنگ نظر ما حول سے پاک، محکو می اور غلامی سے مبرا،روشن خیا لی سے مزین،تعصب اور تنگ نظری کے بجا ئے کشا دہ نظری،احترامِ آدمیت،اخوت اور انسا نی محبت وبھا ئی چارے پراستوار ایسے تعلیمی نظام کے خوا ہاں ہیں جو انسا ن میں خودی پیدا کرے۔ان کی یہ خوا ہش ہے کہ درس گا ہیں سب سے پہلے آدمی کو انسان بنا ئیں،اُسے ما دیت کے ساتھ ساتھ روحانیت بھی عطا کریں،دین کے ساتھ ساتھ دنیا داری بھی سکھا ئیں تاکہ ان مدارس سے فارغ التحصیل طلبا علم وفکر کی روشنی کے ساتھ ساتھ قلب و نظر کوبھی منور کر سکیں اور ایسااُسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے تعلیمی نظام اور نصاب میں دینی اور اخلاقی تعلیم کو بنیا دی اہمیت دیں گے۔اقبالؔ کے نزدیک مذہبی نظا مِ تعلیم کی سب سے بڑی خا می، کمی یا کمزو ری یہ ہے غیر اخلاقی یا لا دینی ہے جس کی بدولت سوزِ جگر، عشق و یقیںاور کشادِ قلب کے تمام تر امکا نا ت ختم ہو گئے ہیں ۔وہ فر ما تے ہیں ؎
وہ آنکھ کہ سرمہ ء افرنگ سے ہے رو شن
پر کا روسخن ساز ہے نم ناک نہیں ہے
گر چہ مکتب کا جوان زندہ نظر آتا ہے
مردہ ہے ما نگ لایا ہے فرنگی سے نفس
اُٹھا میں مدرسہ وخا نقاہ سے نم ناک
نہ زندگی نہ محبت نہ معر فت نہ نگا ہ
اقبالؔ کے خیال میں مشرقی نظام ِتعلیم بے بنیاد ہے اور باطنییت اورخود کو فنا کر دینے والی روحا نیت کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ خا رجی دنیا کے حقا ئق و کو ائف کو یکسر نظر اندا ز کر دیا گیا ہے ۔لٰہذا اقبالؔ مشرقی و مغر بی نظا م تعلیم کو رد کر تے ہیں ۔اور ایک ایسے نظا مِ تعلیم کے حا می ہیں جس میں دین ودنیا کی ساری خوبیاں مجتمع ہوں، تا ہم مغربی تعلیم کے سلسلے میں اقبالؔ کسی قسم کی تنگ نظری یا تعصب کا شکار نہیں تھے۔ ان کو معلوم تھا کہ مغرب کا نظام تعلیم مشرق کے مقابلے میںحیات افروز اور فکر انگیز ہے تاہم ان کی یہ خواہش ہے کہ مغرب عقل کے ساتھ ساتھ عشق کو بھی اپنا لے۔اقبالؔیہ چاہتے تھے کہ ملّت اسلامیہ تجدد واجتہاد سے کام لے کر اپنی درسگا ہوں اور دانش گاہوں کے لیے ایسا نظامِ تعلیم مرتب کرے جس کے رہنما اصول قرآنِ مقدس اور سیرت محمدیؐ سے ماخوذ ہوں۔ان کی یہ خواہش بھی تھی کہ مسلمان ا پنے تعلیمی نظام میں علوم جدیدہ کے شانہ بہ شانہ اسلامی تا ریخ کو بھی شا مل کریں کیونکہ تاریخ کے مطالعہ سے ہی قومیں ماضی سے حال کو کامیاب اورمستقبل کو حال کی مدد سے تابناک بناتی ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ علامہ اقبالؔ علم وفن کی اہمیت اور افادیت سے نہ صرف با خبر تھے بلکہ وہ ملت کی زبوںحالی،غفلت، مظلومیت اور غلامی سے نجات کا ذریعہ اور ملت کی تمام تر خرابیوں اور امراض کی دوا تسلیم کرتے تھے۔ اقبالؔاس بات کے زبردست حامی تھے کہ فرد ،قوم اور ملت کی روشن خیالی، خودشناسی اور خداشناسی کا سب سے بڑا اور واحدذریعہ،راستہ یا منبع نور خورشید علم ہی ہے ؎
اس دور میںتعلیم ہے امراض ملّت کی دوا
ہے خون فاسد ئے تعلیم مثل نیشتر
(کالم نویس ادب میں ڈاکٹریٹ ہیں، معروف اسکالر، براڈکاسٹراور شعبۂ تدریس سے منسلک ہیں)
رابطہ ۔ بابا نگری ،کنگن کشمیر
موبائل نمبر۔ +919541060802