خوردبینی جرثومہ کووِڈ19-نے نسل انسانی کو معدومیت کے خطرے سے دوچارکردیا ہے اورعالمی سپر پائور اپنے اختلافات کوبھلارہے ہیں، اس لئے نہیں کہ بہار کی آمد اس کی متقاضی ہے یااختلافات بے مطلب ہیں، بلکہ کوروناوائرس کی عالمگیر وباء ہماری تباہی کیلئے کافی ہے۔کووِڈ۔19 دنیا بھر میں موت کے شکار پر چل پڑا ہے اور ہم اب ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے کے بجائے اس کیخلاف لڑائی میں متحد ہوگئے ہیں ۔کس نے یہ سوچاہوتاکہ بین الاقوامی مخاصمت اور جھگڑوں کودور کرنے کیلئے ہمیں ایک خوردبینی جراثیم چاہیے تھاجو ہمیں اپنے گھروں میں بند کرکے موت وحیات پرمراقبہ کرنے پرمجبور کرے گا؟ سوال یہ ہے کہ اختلافات کو پس پشت ڈالنا اگرچہ علامتی ہے لیکن یہ اس مہلک جراثیم یاوائرس کیخلاف متحد ہ عالمی مہم ہے ۔فرانس،امریکہ ،برطانیہ اورچین اس بڑی لڑائی میں ایک ہوگئے ہیں جبکہ روس بھی کوروناوائرس کیخلاف عالمی اتحاد میں شامل ہورہا ہے۔اقوام متحدہ کے سبھی پانچ مستقل ممبران اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ اس لڑائی میں دوسرے مخمصوں کو پس پشت ڈالنے میں ہی دانشمندی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ہفتوں سے عالمی رہنمائوں کو آپسی جھگڑے بُھلا کرکوروناوائرس کی عالمگیر وباء کا مقابلہ کرنے کیلئے توجہ مرکوز کرنے پرزوردے رہے ہیں ۔اُمید ہے کہ دوسرے ممالک بھی سلامتی کونسل کی اس اپیل پر غور کریں گے۔اگرچہ یہ علامتی ہی ہولیکن بہتر یہی ہے۔ اس کابنیادی مقصدیہی ہے کہ تمام ممالک نسل انسانی کی بقاء کو درپیش خطرے کااکٹھے مقابلہ کریں۔
اختلافات کو پس پشت ڈالنے کے دوران بھی کیاحریف ایک دوسرے کیخلاف الفاظ کی جنگ بھی بند کریں گے۔ نہیں ،امریکہ اور چین کی قیادت کے بیانات سے یہی دکھائی دیتا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اورچین کے صدر شی زن پنگ ایک دوسرے پر الزام تراشی کررہے ہیں جوکوروناوائرس کو شکست دینے میں نقصان دہ ہے۔ایسابھی نہیں ہے کہ الزامات بے بنیادہیں۔چین نے اس وباء کے ووہان میں پھوٹ پڑنے کے بعداس کی شدت اورشرح اموات کوچھپایا اوراگر چین نے دیانتداری کے ساتھ سب معلومات وقت پرظاہر کی ہوتی تو اس وباء کی چین سے باہر شدت شایدآج اتنی نہیں ہوتی ۔امریکی صدرڈونالڈٹرمپ نے چین کے ساتھ مبینہ ملی بھگت پر عالمی صحت تنظیم کی مالی مددمنقطع کی ہے ۔چین نے اس کے جواب میں الزام لگایا کہ امریکی فوج نے چین کے ووہان شہرمیں یہ وائرس پھیلایا۔یہ الزامات اور جوابی الزامات بموں کی گن گرج سے اگرچہ کم ڈرامائی ہیں لیکن بالآخران کے اثرات بھی کم مہلک نہیں ہوں گے ۔
اس وباء کے خاتمے کے بعد ایک دوسرے پرالزامات لگانے کیلئے ہمیں کافی وقت ہاتھ آئے گا۔لیکن اس وقت ہماری توجہ اس وائرس کے پھیلائو کوروکنے اور اس کے خلاف ٹیکہ تیار کرنے پر مرکوزہونی چاہیے ۔یہ صرف باہمی اختلافات پس پشت ڈال کر اوراس بات کاادراک کرکے ،کہ یہ وائرس گورے کالے کا بھید نہیں کرتا،ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ سے ہاتھ ملاکر چلنے سے ہی ممکن ہے ۔ گروپ سات ممالک کے رہنمائوں نے حال ہی میں ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران عالمگیر وباء کے اِن اَیام میں اختلافات کو پس پشت ڈالنے پر غور کیاکیونکہ اسی میں دانشمندی ہے۔ لیکن اس کے برعکس بھارت میں کووِڈ 19 -کامقابلہ ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ سے ہاتھ ملا کر چلنے کے بجائے مسلمانوں کیخلاف نفرت اُگلنے سے کیا جارہا ہے۔کوروناوائرس سے بچائو کے بارے میں حکومت کو مشورہ دینے کے بجائے ملک کے اکثر ذرائع ابلاغ کے ادارے ،کالم نویس ،قلمکاراورٹیلیویژن چینلوں کے اینکرکسی ثبوت کے بغیر مسلمانوں پرالزام تراشی کرکے صورت حال کومزیدخراب کررہے ہیں۔تبلیغی جماعت نے اگر مبینہ طورحکومتی احکامات پر عمل نہیں کیا تواِس کیلئے اس تنقید کی جاسکتی ہے لیکن پوری مسلمان قوم کواس بہانے نشانہ بناکرہراساں کرنے کاکیاجواز ہے۔کئی روزقبل احمدآبادکے اسپتال میں مسلمان مریضوں کو وارڈوں میں الگ رکھاگیا جس کی بڑے پیمانے پر ذرائع ابلاغ میں مذمت کی گئی۔متعدشہروںمیں سبزی والے اوردکاندار مسلمانوں کوچیزیں فروخت نہیں کررہے ہیں جبکہ مسلمان ریڑے والوں اوردکانداروں سے بھی چیزیں خریدنے سے گریزکیاجاتا ہے۔آخرایسا کیوں نہ ہو،کئی فرقہ پرست سیاستدان لوگوں کو مسلمانوں کاسماجی بائیکاٹ کرنے کیلئے اُکساتے ہیں۔حال ہی میں پروفیسرکے این پنڈتااورایس گوروسوامی نے اپنے کالموں میں تبلیغی جماعت کواسلامی جہادی تنظیموں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ اسلامی جہادیوں کیلئے ذرخیزمیدان ہے اورالقاعدہ اوردیگراسلامی جنگجوتنظیموں میں بھرتی کیلئے افرادی قوت فراہم کرتی ہے۔ تبلیغی جماعت ہی نہیں بلکہ کوروناوائرس پھیلانے کی آڑمیں مسلمانوں کوملک بھر میں نشانہ بنایاجارہا ہے۔ ابھی کچھ روز قبل ہی ہماچل پردیش میں قریب ایک درجن کشمیری مزدوروں کی مارپیٹ کی گئی۔بجائے اس کے کہ ملک گیر لاک ڈائون کی وجہ سے کسمپرسی کی حالت میں درماندہ اِن کشمیر ی مزدوروں کیلئے قیام وطعام کاانتظام کیاجاتا،اُنہیں جانوروں کی طرح ماراپیٹاگیا۔کشمیری مزدوروں کی مارپیٹ کئے جانے کی تصاویر جب سوشل میڈیاپروائرل ہوئیں،تومقامی انتظامیہ بھی خواب غفلت سے بیدارہوئی اور اُس نے کشمیری مزدوروں پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کااعلان کیا۔یہ سب ٹیلی ویژن چینلوں اورسوشل میڈیا پر متعدد ناعاقبت اندیش اینکروں کے ذریعے پیدا کئے گئے جنون اور دیوانگی کانتیجہ ہے۔
دوسری طرف مسلمان مخیرافراد کی طرف سے کوروناوائرس کی روکتھام کیلئے دیئے گئے عطیات کاکہیں ذکر ہی نہیں ہورہاہے۔عظیم پریم جی،شاہ رُخ خان،سلمان خان اوردیگرسینکڑوں مسلمان دولتمندوںنے کووِڈ- 19کی روکتھام کیلئے اربوں روپوں کاعطیہ دیا۔عالمی شہرت یافتہ دواسازکمپنی’سپلا‘ کے پولینڈمیں پیدا ہوئے بھارتی نژادچیئرمین خواجہ یوسف حمید دن رات کوروناوائرس کے علاج کیلئے وائرس کی تیاری پر کام کررہے ہیں ۔یوسف کاکہنا ہے کہ بھارت چھ ماہ کے دوران کوروناوائرس کے تدارک کیلئے ٹیکہ تیار کرنے میں کامیاب ہوگا۔یہ بات یقینی ہے کہ نوع انسانی اس عالمگیروباء سے بھی نجات حاصل کرے گی لیکن اس کے لئے آج کے حریفوں کو ایکدوسرے کے ساتھ ہاتھ سے ہاتھ ملا کر چلنا ہوگااور عین ممکن ہے کہ آج اِن کا اتحاد کل اِن کی مستقل دوستی میں تبدیل ہوجائے لیکن اس بات کا کیاکیاجائے کہ یہاں ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی کو ہوا دینے کیلئے اس عالمگیر وباء کے اَیام میں بھی لوگوں کواُکسایا جارہا ہے جب پر افسوس کے سوا شاید ہی کچھ کیاجاسکتا ہے۔
رابطہ : [email protected]