دبئی//یو این آئی// عالمی یوم خواتین کے موقع پر دنیا بھر عورتیں اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے آج بڑی تعداد میں ریلیاں نکال رہی ہیں۔ اس دن کی مناسبت سے دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں عورت مارچ، ریلیوں اور مظاہروں کا انعقاد کیا جا رہا ہے بدھ کے روز تھائی لینڈ اور انڈونیشیا عورت مارچ کا انعقاد کیا گیا جہاں درجنوں خواتین پارلیمنٹ کے سامنے جمع ہوئیں اور قانون سازوں سے گھریلو ملازمین کے تحفظ کے لیے طویل عرصے سے زیر التوا بل منظور کرنے پر زور دیا اور کچھ خواتین نے نعرے بھی لگائے ۔ فرانس سمیت یورپ کے کئی ممالک میں مارچ کا انعقاد کیاکیا جہاں مظاہرین تقریباً 150 قصبوں اور شہروں میںروزگار اور زندگی دونوں میں برابری کا مطالبہ کیا مظاہروں کی یہ تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے ۔مظاہروں کے دوران فرانس کی غیر مقبول پنشن اصلاحات کے خلاف جاری مزاحمت کو اجاگر کیاکیا لندن میں مادام تساؤ میوزیم میں ایملین پنکھرسٹ کے مومی مجسمے کی نقاب کشائی کے ساتھ منایا گیا جنہوں نے 120 سال قبل خواتین کے حق رائے دہی کے حصول کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے عالمی پیش رفت ‘ہماری آنکھوں کے سامنے غائب ہوتی جارہی ہے ’ اور صنفی مساوات کے دور ہوتے ہدف کو حاصل کرنے میں مزید تین صدیاں لگیں گی۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کمیشن آف دی اسٹیٹس آف ویمن کی سربراہی میں ہونے والی 2 ہفتوں پر محیط گفت و شنید کا آغاز کرتے ہوئے 8 مارچ کو عالمی یومِ نسواں سے قبل جنرل اسمبلی میں ایک تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ‘موجودہ رفتار پر صنفی مساوات مزید دور ہوتی جارہی ہے اور اقوام متحدہ کی خواتین اسے 300 سال کی دوری پر دیکھتی ہیں’۔