حجِ بیت اللہ ارکان اسلام میں ایک اہم ترین رکن ہے۔ بیت اللہ کی زیارت او فریضہ ٔحج کی ادئیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا و آرزو ہے۔سفرِ حج ایک مسلمان کی زندگی کا سب سے اہم سفر ہے جس میں اسے ایک عظیم عبادت ادا کرنے کا موقع ملتا ہے اور وہ گناہوں سے اسی طرح پاک ہوجاتا ہے، جیسا کہ اس وقت تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔حج عبادات کا مرقع، دین کی اصلیت اور اس کی روح کا ترجمان ہے۔ یہ مسلمانوں کی اجتماعی تربیت اور ملت کے معاملات کا ہمہ گیر جائزہ لینے کا وسیع و عریض پلیٹ فارم ہے ۔ شریعت نے امت مسلمہ کو اپنے اور دنیا بھر کے تعلقات و معاملات کا تجزیہ کرنے کے لئے سالانہ بین الاقوامی سٹیج مہیا کیا ہے تاکہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاملہ میں اپنی کمی بیشی کا احساس کرتے ہوئے توبہ و استغفار اور حالات کی درستگی کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں۔حج وحدتِ اسلامی کا ایک عظیم مظہر ہے جس میں ذات پات، رنگ و نسل ،امیر و غریب قومیت و وطنیت کے سارے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں اور ایک ہی لباس میں ملبوس فرزندانِ توحید خدائے وحدہ لاشریک کی یکتائی کے ترانے کا ورد کرتے رہتے ہیں۔
لبیک اللہم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد و النعمۃ لک والملک لا شریک لک۔
ترجمہ: میں حاضر ہوں! اے اللہ میں حاضر ہوں! حاضر ہوں!
تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بے شک ساری تعریفیں اور نعمتیں تیرے ہی لئے ہیں اور ساری بادشاہی بھی تیرے لئے ہے۔
تیرا کوئی شریک نہیں۔ـ
ہر صاحب استطاعت مسلمان پرحج زندگی میں ایک بار فرض ہے، اور اس کے انکاری کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اللہ پاک قرآنِ حکیم میں ارشاد فرماتا ہے۔ترجمہ:بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا، وہی ہے جو مکّہ میں ہے، برکت والا ہے اور سارے جہان والوں کے لئے(مرکزِ)ہدایت ہے۔اس میں کھلی نشانیاں ہیں، (ان میں سے ایک)ابراہیم ؑ کی جائے قیام ہے، اور جو اس میں داخل ہو گیا امان پا گیا، اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، اور جو (اس کا)منکر ہو تو بے شک اللہ سب جہانوں سے بے نیاز ہے۔ (اٰل عمران:۹۶،۹۷)
معلوم ہوا کہ خانۂ کعبہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی حیثیت سے پسند فرمایااور اسے مسلمانوں کا قبلہ قرار دیا۔اللہ کا یہ قدیم ترین گھر مسلمانوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچنے والا ہے، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں۔دل اور پیشانیاں روزانہ پانچ مرتبہ خدائے وحدہٗ لا شریک کی خاطر خشوع و خضوع کے ساتھ، مطیع و فرمان بردار ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔دنیا کے تمام دور دراز راستوں سے مسلمان خانۂ کعبہ کی طرف وفد در وفد آتے ہیں ، حج ادا کرتے ہیں،اور طوافِ کعبہ کرتے ہیں جب سے حضرتِ ابراہیم علیہ السّلام نے اسے اپنے رب کے حکم سے بنایا۔
اللہ تعالیٰ نے حج کو دین کی عظیم بنیادوں میں سے ایک قرار دیا، جس نے ابراہیم علیہ السّلام کی دعائیں قبول کرتے ہوئے جسے چاہا بیت اللہ کے طواف کرنے اور دیگر مقاماتِ مقدّسہ میں سربسجود ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔اللہ تعلی نے انہیں حکم دیتے ہوئے فرمایا:ترجمہ: اور تم لوگوں میں حج کا بلند آواز سے اعلان کرو، وہ تمہارے پاس پیدل اور تمام دبلے اونٹوں پر (سوار) حاضر ہوجائیں گے جو دور دراز کے راستوں سے آتے ہیں۔(الحج ۲۷)
مذکور ہے کہ آپ نے اس وقت عرض کی کہ باری تعا لیٰ میری آواز ان تک کیسے پہنچے گی؟ جواب ملا کہ آپ کے ذمہ صرف پکارنا ہے، آواز پہنچانا میرے ذمہ ہے۔ آپ نے کھڑے ہو کر ندا کی کہ لوگو! تمہارے رب نے اپنا ایک گھر بنایا ہے پس تم اس کا حج کرو۔آپ کی آواز ساری دنیا میں گونج گئی ۔یہاں تک کہ باپ کی پیٹھ میں اور ماں کے پیٹ میں جو تھے انہیں بھی سنائی دی۔ ہر اس شخص نے جس کی قسمت میں حج کرنا لکھا تھانے بلند آواز سے اس پر لبیک کہا۔(تفسیر ابن کثیرؒ ملخصاً)
دراصل دنیا کے بت کدوں میں یہ اللہ کا پہلا گھر اسی لئے تعمیر ہوا تاکہ لوگ شرکیہ عقاید و نظریات سے دور رہ کر ہدایت اور بصیرت کے ساتھ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں جو اپنی ذات میں،صفات میں،کمالات میں اور اختیارات میں شریک کوئی ہونے سے منزّہ اور پاک ہے۔
رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا،زکوٰۃ ادا کرنا،رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔(بخاری و مسلم)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا: کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟آپ ﷺ نے جواب دیا:اللہ اور اس کے رسول پر ایمان۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا، پھر کون سا عمل بہتر ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ کی راہ میں جہاد۔آپ ﷺ سے پوچھا گیا، پھر کون سا عمل بہتر ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا:حجِ مبرور۔
عربی لفظ ـ’’ مبرور‘‘کا معنی ہے ’قبول کیا ہوا ‘ یعنی وہ حج جو اللہ کی بارگاہ میں قبولیت حاصل کر چکا ہے۔حج مبرور ایسا حج ہے جس میں مناسک حج کو اس کے جملہ آداب و شرائط کے ساتھ اور اس کی حقیقی روح اور مقصد کو پیش نظر رکھ کر ادا کیا گیا ہو۔
کثیر احادیثِ مبارکہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حجِ مبرور وہ حج ہے:
۱۔ جو صرف اللہ کے رضا کی نیت سے کیا جائے یعنی جسمیں اخلاص موجود ہو۔
۲۔ جس میں گناہ شامل نہ ہوں یعنی جو صرف اللہ کی مکمل اطاعت کے جزبے سے کیا جائے۔
۳۔ جو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی سنّت کے مطابق کیا جائے۔
۴۔ جسے ادا کرنے کے بعد بندہ اللہ کا فرمانبردار بن جائے۔
حضرتِ حسن بصری علیہ رحمہ کا ارشاد ہے:حج مبرور دنیا سے بے رغبت لوٹنے اور فکرِ آخرت پیدا کرنے کا نام ہے۔
اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی امت کو حج کرنے کا صحیح طریقہ خود سکھاتے ہوئے فرمایا:
یعنی مجھ سے اپنے مناسکِ حج سیکھ لو۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے طریقہ کی پیروی کرنے اور اپنی سنّت کے مطابق عمل کرنے کی تلقین فرمائی(رواہ المسلم)۔ کیونکہ عبادت اس وقت تک صحیح نہیںہوگی جب تک کہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اور سنّت نبویؐ کے مطابق ادا نہ کی جائے۔
حج کا لغوی و شرعی معنی:
حج کا لغوی معنی ہے :قصد کرنا: اور اس کا شرعی معنی ہے : (ایّامِ مخصوصہ میں) تعظیم کے ساتھ بیت اللہ کی زیارت کا قصد کرنا، اس کی شرط احرام ہے اور اس کے ارکان وقوفِ عرفہ اور طوافِ زیارت ہیں، یہ زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے اور اس کے فرض ہونے کی شرط یہ ہے کہ انسان کے پاس اتنا مال ہو کہ وہ حرمین شریفین تک جائے اور واپس آئے اور وہاں کھانے پینے اور رہائش کا انتظام کر سکے اور جو لوگ اس کے زیرِ کفالت ہوں، اتنے عرصہ کیلئے ان کا خرچ مہیا کر سکے اور اگر اس پر قرض ہوتو وہ ادا کر سکے اور وہ صحت مند ہو اور سفر کے قابل ہواور اس کے سفر میںکوئی قانونی رکاوٹ نہ ہو اور اگر عورت حج کرنے والی ہو تو اس کے ساتھ اس کا شوہر یا محرم ہو۔
حج کی فرضیت:
حج ۹ہجری میں فرض ہوا اور نبی کریم ﷺ نے حضرتِ ابو بکر ؓ کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کو اپنی امارت اورقیادت میں حج کرائیں اور اعلان کروایا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گااور ۱۰ ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے حج کیا اور اس حج کا نام حجتہ الوداع رکھا گیا، مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ حج عمر میں صرف ایک بار فرض ہے اور اس کے وجوب کی یہ شرائط ہیں : عقل، بلوغ اور استطاعت۔
( نعمۃ الباری فی شرح صحیح البخاری جلد ۳،صفحہ۷۶۶ )
اہم ہدایات :
۱۔ چونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر منحصر ہے لہذا اپنی نیت کو درست کرے۔حج صرف اور صرف اللہ کی رضا کیلئے کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:یعنی عنقریب لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ مالدار سیرو تفریح کے لئے حج کریں گے، علماء دکھاوے کے لئے اور غرباء و مساکین بھیک مانگنے کے لئے۔
۲۔انسان چونکہ گناہوں کا پتلا ہے اس لئے اس سفر پر نکلنے سے پہلے پچھلے گناہوں سے سچی توبہ کرے۔اس ارادے سے حج پر نہ جائے کہ واپسی پر پھر سے گناہوں میں ملوث ہوگا۔اگر کسی شخص کا حق کھایا ہے یا اس سے کچھ رنجش ہے تو اس کی حق ادائی کی جائے اور معافی طلب کی جائے۔ عازمین حج کو چار نعمتوں پر شکر کرنا چاہئے: ایمان کی دولت ملنے پر، زندگی میسر ہونے پر، صحتمند ہونے پراور کروڑوں لوگوں کے بیچ حج کیلئے منتخب ہونے پر۔
۳۔ حج علمائے کرام سے سیکھ کر کرے اور دیکھا دیکھی اور جلد بازی سے پرہیز کرے۔ارکان و واجبات سے واقفیت حاصل کرے اور انہیں ادا کرنے کیلئے تیار رہے۔اگر آپ سے حج کا کوئی رکن یا فرض رہ جائے تو آپ کا حج ہوا ہی نہیں۔واجب کے ترک ہونے پر دم یعنی قربانی بطور فدیہ دینا لازم ہے۔دم حج میں اسی طرح ہے جس طرح نماز میں سجدہ سہو۔ کوئی واجب چھوٹنے پر آپ کو اضافی قربانی کرنی ہوگی ،لہٰذا دھیان رکھیں۔مناسکِ حج کی آپس میں یاد دہانی کریں تاکہ آپ نہ بھولیں کہ آپ کو کب کون سے احکامات انجام دینے ہیں۔
۴۔یہ بات زہن میں بٹھائے کہ حج میں اگرچہ مشکلات بھی آتی ہیں مگر اچھی تربیت حاصل کرنے سے اسے انتہائی آسان بنایا جاسکتا ہے۔ حج بہت آسان ہے اس میں خدا نے صرف کرنے کی چیزیں رکھی ہیں پڑھنے کی نہیں۔ تلبیہ کے بغیر کوئی بھی عربی دعا پڑھنا واجب نہیں ہے۔
۵۔ خواتین کو با الخصوص سیکھ لینا چاہئے کہ نماز باجماعت کیسے پڑھیں، بیچ میں کیسے شامل ہوں اور کیسے مکمل کریں۔ خواتین طھارت کے بارے میں اپنے مخصوص مسائل کا علم حاصل کریں۔
۶۔ نیک اور سلیم الفطرت ساتھیوں کی صحبت میں رہیں۔کسی بھی صورت میں تنہائی میں سفر نہ کریں، زیادہ ہوشیار بننے کی کوشش نہ کریں۔
۷۔ اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ایّامِ حج کے دوران کم کھانے، کم پینے اور کم سونے کی عادت ڈالیں۔سادہ اور صاف ستھرا کھانا کھائیں۔پھل خوب کھائیں اور جوس پیں۔دھوپ سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کریں، سر پر کچھ کپڑا رکھیں یا چھتری کا استعمال کریں۔
۸۔ اپنے تمام ضروری دستاویزات ، دوائیاں، نقدی وغیرہ سنبھال کر رکھیں۔
۹۔لفٹ، اسکیلیٹر اور انگریزی طرز کے بیت الخلاء یعنی کموڈ کے استعمال کا طریقہ سیکھیں۔
۱۰ ۔ حرمینِ شریفین کے ادب و احترام کا خیال رکھیں، وہاں کے قوانین کے ، مطابق چلنے کی کوشش کریں۔
۱۱۔ جانے کے بعد حج کے لیے اپنی توانائی جمع کر کے رکھیں۔ غیر ضروری ادھر ادھر گھومنے سے پرہیز کریں۔اپنی طاقت کے مطابق ہی نفلی طواف کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ مکہ میں 4 ذوالحجۃ کو پہنچے مگر 8ذوالحجۃتک آپ نے اُمت کی آسائش کے لئے کوئی نفلی طواف نہیں کیا۔
۱۲۔سیلفیوں اور غیر ضروری فوٹوگرافی کے ذریعے اپنا خشوع و خضوع برباد نہ کریں، ریا سے بچنے کی کوشش کریں اور زیادہ سے زیادہ اجر حاصل کرنے کی کوشش کریں۔سمارٹ فون اور انٹرنیٹ کا صحیح استعمال کریں۔ موبائل ایپ Indian Haji Information Systemپلے اسٹور سے ڈاونلوڈ کریں اور سفر، رہائش اور دیگرقسم کی جان کاری حاصل کریں۔سستے میں فون پر بات کرنے کے لئے آپ ایپلیکیشن IMO کا استعمال کرسکتے ہیں۔
۱۳۔اس مقدس سفر کے دوران آنے والی جملہ مشکلات پر صبر کریں اور حرف ِشکایت زباں پر نہ لائیں۔یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رہے کہ آپ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مہمان ہیں ؎
گرمی ہے، تپ ہے، درد ہے کلفت سفر کی ہے
ناشکر یہ تو دیکھ کہ عزیمت کدھر کی ہے