عظمیٰ نیوز سروس
جموں //وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ ریزرویشن پالیسی کو معقول اور منصفانہ بنانے کیلئے جموں و کشمیر کے لوگوں سے کئے گئے وعدے کو پورا کیا گیا ہے۔کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریزرویشن پالیسی ایک حساس مسئلہ ہے جس پر غیر ذمہ دارانہ سیاست کرنا بہت آسان ہے، اسی لیے حکومت نے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں کابینی کارروائی کی تفصیلات بتانا مناسب نہیں سمجھتا، کیونکہ یہ فائل ایل جی کے دستخط کے لیے بھیجی جائے گی۔ لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ ہم نے عوام سے کیے گئے وعدے کے مطابق پالیسی کو منصفانہ بنانے کی کوشش کی ہے اور یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ کسی طبقے کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس معاملے پر کئی بار تفصیلی مشاورت کی ہے اور یہ تیسری یا چوتھی نشست ہے جس میں ریزرویشن پالیسی پر بحث کی گئی۔ ہم نے ہر نکتے کا جائزہ لیا، ہر اعتراض پر دوبارہ غور کیا اور ایک ایسے فارمولے کی کوشش کی ہے، جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ عمر عبداللہ نے کہا ، جو ریزرویشن کے معاملے میں ہم نے عوام سے وعدے کیے تھے، ان کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش کی گئی، ۔کسی کا نام لئے بغیر عمر عبداللہ نے کہا کہ جو لوگ پہلے حکومت پر تنقید کرتے تھے کہ کچھ نہیں کیا گیا، وہی اب احتجاج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا اس مسئلے پر سیاست کرنا بہت آسان ہے،جو ہمیں طعنے دے رہے تھے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا، اب وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ نے یہ قدم اٹھایا تو ہم احتجاج شروع کریں گے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریزرویشن کے معاملے پر جو کچھ کیا گیا اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا جاسکتا تھا۔انہوںنے کہا ہم اس سے زیادہ تفصیلی مشق نہیں کرسکتے تھے،ہر پہلو کا جائزہ لیا گیا،یہ معاملہ کابینہ میں کئی بار زیرِ بحث آیا اور کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے چھ ماہ میں پورا عمل مکمل کیا۔انہوں نے کہا، یہ معاملہ اب ایل جی کے پاس جائے گا، اس پر مزید بات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
ڈیلی ویجرز کی رپورٹ طلب
وزیر اعلیٰ کی صدارت میں ہوئے کابینہ اجلاس میں مختلف محکموں کی کئی اہم تجاویز کو بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس صبح 9 بجے وزیر اعلیٰ کی جموں رہائش گاہ پر منعقد ہوا، جس میں بالخصوص محکمہ تعمیراتِ عامہ میں افسران کی ترقیوں سے متعلق تفصیلی بحث کے بعد منظوری دی گئی۔ اجلاس میں محکمہ بجلی، ریزرویشن پالیسی اور سردیوں کی تیاریوں سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ اس دوران لائیو سٹاک اور فشریز سیکٹر سے جڑے کوآپریٹو سوسائٹیز کو مضبوط کرنے کے لیے مالی امداد کی منظوری بھی دی گئی۔جاوید رانا نے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ کئی اہم ایجنڈے منظور کیے گئے، جن میں آر اینڈ بی محکمے کے افسران کی سینیارٹی کی توثیق اور ترقیوں کا معاملہ سب سے نمایاں رہا۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے جموں و کشمیر اینمل پروٹیکشن بورڈ کے قیام کی بھی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد مویشیوں کی فلاح و بہبود، جانوروں سے متعلق قوانین کی موثر نگرانی اور متعلقہ محکموں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے۔اس دوران مختلف محکموں میں کام کرنے والے ڈیلی ویجرز کے مسئلے پر بھی غور کیا گیا۔ جاوید رانا نے بتایا کہ چیف سیکریٹری کو جلد از جلد جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔انہوں نے کہا، ڈیلی ویجرز کا معاملہ بڑا اور حساس ہے۔ حکومت ان کے ساتھ انصاف کرنے کی پابند ہے، اس لیے فیصلہ سازی کے لیے تفصیلی رپورٹ جلد طلب کی گئی ہے۔اجلاس کے اختتام پر تمام محکموں کو ہدایت دی گئی کہ زیر التوا رپورٹس جلد جمع کرائی جائیں اور آج منظور شدہ فیصلوں پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے، تاکہ عوامی خدمات اور انتظامی نظام میں بہتری لائی جا سکے۔