بلال فرقانی
سرینگر// محکمہ بجلی نے سمارٹ میٹر والے علاقوں میں پوشیدہ بجلی کٹوتی کا سلسلہ پھر شروع کیا ہے۔سمارٹ میٹر والے علاقوں میں2سے3گھنٹوں تک صبح اور شام کے مصروف ترین اوقات میں بجلی گُل کرنے سے صارفین نالاں نظر آرہے ہیں۔صارفین کا ماننا ہے کہ سرکار نے وعدہ کیا تھا کہ سمارٹ میٹر والے علاقوں میں بجلی بند نہیں کی جائے گی تاہم سرکار اپنا وعدہ وفا کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ مالی سال2025 کے اختتام کے ساتھ ہی محکمہ بجلی کو بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب اور بوسیدہ انفراسٹرکچر کے باعث شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 8 برسوں میں بجلی کی طلب میں قریب5 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، تاہم محکمہ اب بھی پرانے اور فرسودہ نظام پر انحصار کر رہا ہے۔محکمہ بجلی کا کہنا ہے کہ وہ 2026 تک چار بڑے منصوبوں کے ذریعے 3014 میگاواٹ اضافی پن بجلی پیدا کر کے مجموعی پیداوار کو دوگنا کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ مزید چار منصوبوں کے تحت 3284 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق دسمبر 2025 تک جموں و کشمیر میں ریاستی پول سے بجلی کی پیداوار میں تقریباً 80 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اگرچہ مجموعی پیداواری صلاحیت 1200 میگاواٹ ہے، تاہم اس وقت عملی طور پر صرف 330 سے 400 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔دوسری جانب بجلی کی طلب 3737 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ دستیابی صرف 2460 میگاواٹ ریکارڈ کی گئی۔بجلی کی تقسیم کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ کشمیر میں اوسطاً 1700 میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ مصروف ترین اوقات میں طلب 1900 سے 1950 میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے۔ طلب پوری نہ ہونے کی صورت میں محکمہ کو ’پیک اوقات‘ میں ؎200 سے 250 میگاواٹ تک بجلی کی کٹوتی کرنا پڑتی ہے۔مقامی بجلی پروجیکٹوں سے پن بجلی کی پیداوار میں تقریباً 70 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ محکمہ کے ایک افسر کے مطابق تمام مقامی بجلی پروجیکٹوں سے مجموعی پیداوار میں 800 سے 900 میگاواٹ کی کمی آئی ہے۔بغلیار منصوبے کے ایک یونٹ سے 250 تا 380 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، جبکہ دوسرے یونٹ، کشن پور اور نیو ونپوہ پلانٹ سے زیادہ سے زیادہ صرف ایک میگاواٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے۔سال 2025 کے آخری تین مہینوں کے دوران کم بارشوں کے باعث بجلی کی پیداوار انتہائی کم رہی، جس نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا۔کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ تقریباً 13 لاکھ صارفین کو بجلی فراہم کر رہی ہے، جن میں سے اب تک تقریباً 4.5 لاکھ صارفین کے لیے سمارٹ میٹر نصب کیے جا چکے ہیں۔ باقی صارفین روایتی بلنگ کے نظام کے تحت ہیں اور انہیں ابھی تک سمارٹ میٹر فراہم نہیں ہوئے۔حکام کے مطابق، سمارٹ میٹرنگ اور نظام کی نگرانی میں بہتری کے باعث بلنگ اور ریونیو کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری درج کی گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، بلنگ میں56 فیصد بہتری سے بڑھ کر تقریباً 69فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ حصولی میں بہتری میں 75 فیصدسے بڑھ کر 94 فیصدتک اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ چار برسوں میں بجلی کے استعمال میں 13 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ سات برسوں میں فی کس بجلی کی کھپت 1171 یونٹ سے بڑھ کر 1507 یونٹ تک پہنچ چکی ہے، جس کی اوسط سالانہ شرحِ اضافہ 4.10 فیصد بنتی ہے۔