دنیا کے دوسرے سب سے بڑے مسلم اکثریت والے ملک پاکستان پر، جس پر ماضی میں بھی شدت پسند مذہبی تنظیموں کی پشت پناہی کے الزام لگ چکے ہیں، اس پر ہمسایہ ملک افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہونے کے بعد کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ کیونکہ اب خود پاکستان کو انتہائی شدت پسند مذہبی تنظیم کے ساتھ، جس کی وہ ماضی میں پشت پناہی اور ہر طریقے سے مدد کرتا رہا ہے، اس کے ساتھ حکومتی سطح پر تعلقات قائم کرنا ہوں گے اور ساتھ ہی اسے یہ خدشہ بھی ہے کہ کہیں طالبان، پاکستان کے خلاف نہ ہوجائیں اور اسے بالکل ہی گردانے نہیں۔
مغربی تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ خطے میں انتہائی شدت پسند تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی وجہ سے ہی امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان اور وسطی ایشیا سے اپنی افواج واپس بلانے کا فیصلہ لیا تھا۔ ایک اعلیٰ امریکی افسر کے مطابق صدر بائیڈن کا یہ ماننا ہے کہ اسلامی شدت پسندی وسطی ایشیا کا معاملہ ہے اور اس کا امریکہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور اس لیے افغانستان سے اپنی افواج کو واپس بلا کر روس اور چین کو اس معاملے سے نمٹنے دیا جائے کیونکہ وہ ان کے زیادہ قریب کا معاملہ ہے۔ امریکہ کے لیے زیادہ اہم انڈو-پیسفک ہے نہ کہ وسطی ایشیا۔ اس تجزیہ سے دو مفہوم نکالے جاسکتے ہیں کہ شاید اب تک امریکہ کو شدت پسند تنظیموں سے اسے جو ڈر لاحق تھا وہ یکسر غائب ہوگیا ہے اور دوسرے یہ کہ شاید اب اس کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں میں ہندوستان ایک اہم رول ادا کرے کیونکہ ہندوستان انڈو-پیسفک کے دفاعی معاہدے کواڈ کا بھی رکن ہے۔
صدر بائیڈن کے اس فیصلے کا اثر پاکستان کو ایک مرتبہ پھر موقع فراہم کرے گا کہ وہ عالمی تنازاعات اور مسائل کو اپنی منفی سوچ سے نہ دیکھے جس میں ہر مشکل اس کے ہمسایہ ملک یعنی ہندوستان کی پیدا کردہ ہوئی ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی طالبان کے ساتھ رہا ہے اور اب بھی اس کی یہی کوشش رہے گی کہ طالبان ہندوستان مخالف ہی رہے نہ کہ پاکستان مخالف ہوجائیں۔ معاشی سطح پر پاکستان کی خواہش رہے گی کہ افغانستان کی نئی حکومت ملک کی تعمیر نو کے لیے پاکستانی اور چینی کمپنیوں سے اشتراک کرے اور باہر کی دنیا سے تجارت پاکستان کے گوادر بندرگاہ سے کرے۔
درحقیقت جس طریقے سے پہلے امریکہ اور پاکستان نے مذہب کو افغانستان میں اپنے مقاصد پورے کرنے کے لیے سیاست کی آمیزش کے ساتھ استعمال کیا اس کے منفی اثرات اب پاکستان اور افغانستان دونوں کی اندرونی سیاست پر مرتب ہوں گے۔ کیونکہ جس طریقے سے امریکہ اور پاکستان نے افغانستان سے روسی افواج کے خلاف محاذ کھولا تھا اس کی وجہ سے بعض مذہبی تنظیمیں اتنی طاقتور ہوچکی ہیں کہ اب وہ نہ امریکہ اور نہ پاکستان کے کہنے پر چلتی ہیں بلکہ اب وہ انتہائی شدت پسند تنظیمیں پورے وسط ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔
نتیجتاً امریکہ کو طالبان کی بات مانتے ہوئے اپنی افواج کا انخلا 31؍اگست سے پہلے مکمل کرنا پڑا کیونکہ طالبان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت تبھی قائم کریں گے جب تمام امریکی افواج افغانستان سے چلی جائیں گی۔ پاکستانی فوج گزشتہ کئی برسوں سے امریکی حکام کو یہ مشورہ دیتے آرہے تھے کہ انھیں طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے کیونکہ ان کا ماننا تھا کے طالبان ہی مستقبل میں کوئی نئی حکومت افغانستان میں قائم کرسکیں گے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ حکومت پاکستان کے اشاروں پر چلے گی۔ آخر کار امریکہ نے پاکستانی حکام کی بات مانتے ہوئے 2019میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کردیا۔ مگر اس کے باوجود پاکستان کسی ایسے گروپ کو افغانستان میں اپنی کٹھ پتلی بناکر حکومت پر قابض نہ ہوسکے گاجو کہ صرف اس کے اشاروں پر چلے۔
اس ضمن میں لندن میں مقیم تجزیہ نگار عائشہ صدیقہ کی رائے ہے کہ پاکستانی افواج اور آئی ایس آئی کا مقصد کابل میں کسی ایسی حکومت کو قائم کرنا تھا جو کہ ہندوستان کے خلاف پاکستانی منصوبوں میں اس کا ساتھ دے سکے۔ لیکن درحقیقت پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی دونوں ہی اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ گزشتہ 27برس کی محنت وہ رنگ نہیں لائی جو وہ چاہتے تھے۔ عملی طور پر طالبان، پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی تینوں ہی اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کا استعمال کرتے رہے لیکن اس میں سب سے بڑا نقصان پاکستان کا ہوا ہے۔ لیفٹنٹ جنرل فیض حمید نے گزشتہ جولائی میں ہی پاکستانی حکومت کو ایک خفیہ بریفنگ میں یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ طالبان پر اب پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی دونوں کی پکڑ کمزور ہوتی جارہی ہے۔
دراصل طالبان کے لیے پاکستانی حمایت ہمیشہ ہی اس کے لیے ایک دو دھاری تلوار رہی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ کون کس پر سبقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ کیا طالبان افغانستان میں کوئی ایسی حکومت قائم کریں گے جو کہ پاکستان کی طرح صرف نام کی جمہوری حکومت ہو یا پھر طالبان کی انتہائی شدت پسندی کا اثر پاکستانی سیاست پر اپنی چھاپ چھوڑنے میں کامیاب رہے گا؟
دوسری جانب پاکستان کو یہ خدشہ بھی ہے کہ کہیں طالبان کی فتح کے بعد پاکستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان (TTP)اپنے آپ کو اور زیادہ طاقتور نا سمجھنا شروع کردے، کیونکہ حال کے عرصے میں TTPنے خود اپنے زور پر پاکستان میں ہی اندرونی حملے کرنا شروع کردیے ہیں۔ اصل میں طالبان کی فتح کی بڑی وجہ انتہائی شدت پسندی اور مذہب کی آمیزش رہی ہے اور پاکستان کو خوف ہے کہ کہیں اس طریقے کے سیاسی جذبات طالبان کی پشت پناہی سے پاکستان میں نہ پنپنے لگیں۔ اور بجائے اس کے پاکستان افغانستان میں اس کے زیرِ اثر کسی حکومت کو قائم کرسکے اس کے بالکل برخلاف پاکستان میں افغانی اثر نہ جڑ پکڑ جائیں۔
پاکستان اس خطرے سے بخوبی واقف ہے اور اس لیے اس نے افغانستان میں سرگرم دیگر شدت پسند تنظیموں سے تعلقات استوار کرنے شروع کردیے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہی طالبان مخالف Northern Allianceکے ایک وفد نے اسلام آباد میں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے حکام سے میٹنگ کی جس کے معنی ہیں کہ پاکستان طالبان کے علاوہ دیگر افغانی تنظیموں کو بھی اپنی کوششوں میں شامل کرنے کے لیے تیا رہے۔
مجموعی طور پر گزشتہ 75سال کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان ہر علاقائی اور عالمی مسئلے پر اپنے ہمسایہ ملک یعنی کہ ہندوستان کے خلاف موقف اختیار کرتا چلا آیا ہے۔ افغانستان میں بھی اس کی یہی کوشش تھی کہ کسی طریقے سے افغانستان کے مسئلے کو سلجھانے میں ہندوستان کوئی رول نہ ادا کرپائے اور کسی حد تک اس کی یہ کوشش کامیاب بھی رہی۔ کیونکہ حال ہی میں ماسکو میں افغانستان کی صورتِ حال اور کسی ممکنہ حکومت کے قیام کے سلسلے میں جو میٹنگ ہوئی اس میں روس نے ہندوستان کو مدعو نہیں کیا۔ لیکن اب جس طریقے سے حالات بدل رہے ہیں، اس سے اندازہ یہی ہوتا ہے کہ ان سب کوششوں کے باوجود پاکستان ہندوستان کو افغانستان مسئلے سے الگ تھلگ رکھنے میں ناکام رہے گا۔ اب اس نے دوسرے طریقے سے افغانستان میں مقیم دیگر انتہائی شدت پسند تنظیموں کو اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے شروع کردیا ہے۔ اس ضمن میں القاعدہ کی جانب سے کشمیر سے متعلق جو حالیہ پیغام بھیجا گیا ہے اس کا تجزیہ کرنے والی ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کی رائے ہے کہ یہ پیغام پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی ایما پر بھیجا گیا ہے۔ کیونکہ اب القاعدہ ایک عالمی شدت پسند تنظیم نہ رہ کر کئی ملکوں میں بٹ کر انفرادی طور پر کام کررہی ہے نہ کہ ایک عالمی تنظیم بن کر۔
وقت کی نزاکت کے مطابق پاکستان کو اب یہ کوشش کرنی چاہیے کہ افغانستان میں جو بھی حکومت قائم ہو وہ ایک مستحکم حکومت ہو جو کہ عوام کی فلاح و بہبود اور ملک کی تعمیرِ نو کے لیے مؤثر طریقے سے کام کرسکے۔اور اس پورے عمل میں اگر پاکستان کوئی مثبت کردار ادا کرپاتا ہے تبھی وہ اپنے یہاں موجود شدت پسند تنظیموں کو ختم کرنے میں کامیاب ہوپائے گا۔
یہاں یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ افغانستان کی تعمیر نو کے لیے اور پاکستان میں موجود چودہ ملین افغان پناہ گزینوں کی مدد کے لیے پاکستان نے دیگر ممالک سے امداد کی اپیل کی ہے۔اقوامِ متحدہ میں پاکستانی سفیر منیراکرم نے A.P.کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان کو یہ مدد افغانستان کے لیے چاہیے۔اور یہی طریقہ کار پاکستان ماضی میں اپنا چکا ہے کہ افغانستان کے نام پر عالمی امداد کا بڑا حصہ وہ شدت پسند تنظیموں کی پشت پناہی کے لیے استعمال کرتا چلا آیا ہے اور اب ایسا کرنا مستقبل میں اس کے لیے کافی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔)
www.asad-mirza.blogspot.com