دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ ،طلبہ ایجی ٹیشن کی مکمل حمایت
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے ورکنگ صدر رمن بھلہ اور دیگر سینئررہنماؤں کے ہمراہ شہیدی چوک، جموں میں ایک احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی۔ مظاہرین نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا، ملک کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور بی جے پی کے احتجاج کو غنڈہ گردی قرار دیتے ہوئے اس کا بھرپور جواب دیا۔بڑی تعداد میں کانگریس رہنماؤں اور کارکنوں کے ہمراہ احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے طارق حمید قرہ نے بی جے پی کے مظاہرین اور رہنماؤں کو چیلنج کیا کہ وہ شہیدی چوک میں واقع کانگریس دفتر پر حملہ کر کے دکھائیں۔ انہوں نے اس عمل کو اپوزیشن کے خلاف بی جے پی کی کھلی آمریت اور غنڈہ گردی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ شہیدی چوک، جموں میں کانگریس دفتر پر حملے کی کوشش بی جے پی کی آمرانہ سوچ اور غنڈہ گردی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ برسرِ اقتدار جماعت کو کانگریس دفتر کے باہر احتجاج کرنے کی آخر کیا ضرورت پیش آئی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اقتدار میں رہتے ہوئے بی جے پی آمریت کا راستہ اختیار کرتی ہے اور اقتدار سے باہر اپوزیشن کے خلاف غنڈہ گردی پر اتر آتی ہے۔احتجاج کے دوران نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے طارق حمید قرہ نے کہا کہ مودی حکومت نے طلبہ کے احتجاج اور نیٹ پرچہ لیک کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث سے انکار کر دیا، اس لیے قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں سڑکوں پر اور وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے سامنے کیا گیا پرامن احتجاج مکمل طور پر جائز تھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے خلاف پولیس کارروائی، جس کے دوران راہل گاندھی زخمی ہوئے، مودی حکومت کی ہٹلر طرز کی پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے تعلیمی نظام کے سربراہ کی حیثیت سے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو طلبہ کی خودکشیوں کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔ قرہ نے ملک بھر میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے دھرمیندر پردھان کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد تعلیمی نظام میں بے ضابطگیوں اور تعلیم کے بڑھتے ہوئے تجارتی رجحان پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے تاکہ ملک کی نئی نسل کی جان اور مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔اس سے قبل بڑی تعداد میں کانگریس کارکنوں نے شہیدی چوک میں کانگریس دفتر کی جانب بڑھنے والے بی جے پی کے احتجاج کا بھرپور جواب دیا ۔ مظاہرین نے کانگریس پارٹی اور راہل گاندھی کے حق میں جبکہ مودی حکومت اور بی جے پی کے خلاف مسلسل نعرے بازی کی۔دونوں جماعتوں کے کارکنوں کو قابو میں رکھنے میں پولیس کو سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
ست شرما کی نئی دہلی میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے ملاقات
سرحدی دیہات کو ترقی دینے اور دیگرسرحدی مسائل حل کرنے کا مطالبہ
عظمیٰ نیوزسروس
نئی دہلی//جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ ست شرما نے نئی دہلی میں مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کی اور قومی سلامتی، سرحدی بنیادی ڈھانچے اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کی فلاح و بہبود سے متعلق مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ملاقات کے دوران ست شرما نے بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول کے ساتھ آباد خاندانوں کو درپیش مشکلات پر مبنی ایک مفصل زمینی رپورٹ وزیر دفاع کے سامنے پیش کی۔ انہوں نے حفاظتی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے، اجتماعی اور انفرادی بنکروں کی مرمت، توسیع اور جدید خطوط پر ترقی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ست شرما نے ان سرحدی رہائشیوں کو زمین کے معاوضے کا دیرینہ مسئلہ بھی بھرپور انداز میں اٹھایا، جن کی اراضی دفاعی افواج یا دیگر سرکاری اداروں نے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور تزویراتی مقاصد کے لیے استعمال کی ہے۔ انہوں نے وزیر دفاع سے مطالبہ کیا کہ ایسے متاثرین کو فوری اور منصفانہ معاوضہ فراہم کیا جائے تاکہ قومی مفاد میں اپنی زمین اور روزگار قربان کرنے والے افراد کو انصاف مل سکے۔ست شرما نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزارت دفاع کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے جموں و کشمیر کے سلامتی کے منظرنامے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ملی ٹینسی کے خلاف ’’زیرو ٹالرنس‘‘ کی پالیسی نے ماضی کی کمزوریوں کا خاتمہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں ترقی اور استحکام کی نئی راہیں ہموار ہوئی ہیں۔مرکزی حکومت کے اہم وژن کا ذکر کرتے ہوئے ست شرما نے سرحدی دیہات کی تیز رفتار ترقی پر زور دیا اور کہا کہ انہیں ملک کے ’’آخری گاؤں
‘‘ نہیں بلکہ ’’پہلے گاؤں‘‘ کی حیثیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط بنیادی ڈھانچہ، بہتر رابطہ سڑکیں اور روزگار کے مواقع قومی سلامتی کو نچلی سطح سے مستحکم بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ست شرما کی جانب سے اٹھائے گئے تمام نکات کو غور سے سنا اور یقین دلایا کہ بنکروں اور زمین کے معاوضے سے متعلق معاملات کا ہمدردانہ انداز میں جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جلد ہی جموں و کشمیر کے سرحدی علاقوں کا دورہ کرنے پر غور کریں گے تاکہ وہاں کے عوام اور سیکورٹی اہلکاروں سے براہِ راست ملاقات کر کے زمینی صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔راج ناتھ سنگھ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جموں و کشمیر پائیدار امن اور مکمل قومی انضمام کی جانب ایک ناقابلِ واپسی سفر پر گامزن ہے۔