عظمیٰ نیوز سروس
پونچھ//چیف ایجوکیشن آفیسر پونچھ محمد حفیظ نے جے کے اسمارٹ اٹینڈنس پورٹل پر مبینہ طور پر پراکسی حاضری درج کرنے کے معاملہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متعلقہ ملازمین سے وضاحت طلب کی ہے۔ سی ای او دفتر کی جانب سے جاری ایک سرکاری حکم نامہ میں اس عمل کو حکومتی ہدایات اور سرکاری ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔سرکاری حکم نامہ کے مطابق جے کے اسمارٹ اٹینڈنس پورٹل کی جانچ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بعض ملازمین نے مبینہ طور پر اپنے ساتھی ملازمین کی جانب سے غیر مجاز طریقے سے حاضری درج کرنے کی کوشش کی۔ محکمہ تعلیم کے مطابق یہ عمل نہ صرف قواعد کی خلاف ورزی ہے بلکہ سرکاری نظام میں دھوکہ دہی اور اعتماد شکنی کے مترادف بھی ہے۔
حکم نامہ میں بتایا گیا ہے کہ 11 مئی کو زون ستھرا کے مڈل اسکول بی کے خان میں تعینات ایک استاد نے مبینہ طور پر اسی ادارہ کے دوسرے استاد کی پراکسی حاضری لگانے کی کوشش کی۔ اسی طرح 13 مئی کو زون بفلیاز کے مڈل اسکول رٹہ جبر میں ایک اور استاد پر اپنے ساتھی ملازم کی حاضری درج کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ایک اور واقعہ 14 مئی کو پیش آیا جہاں پرائمری اسکول گجر نار میں تعینات ایک باورچی نے مبینہ طور پر اسی اسکول کے ایک آر آر ای ٹی ملازم کی حاضری لگانے کی کوشش کی۔ محکمہ کے مطابق جے کے اسمارٹ اٹینڈنس سسٹم نے چہرے کے عدم مطابقت کی وجہ سے ان کوششوں کو کئی مرتبہ مسترد کیا، لیکن اس کے باوجود متعلقہ ملازمین مبینہ طور پر بار بار پراکسی حاضری درج کرنے کی کوشش کرتے رہے۔چیف ایجوکیشن آفیسر دفتر نے اپنے حکم نامہ میں واضح کیا کہ پراکسی حاضری سرکاری ریکارڈ میں جعلسازی، اعتماد کی خلاف ورزی اور فرائض میں غفلت کے زمرے میں آتی ہے، جو جموں و کشمیر سول سروس رولز کے تحت قابل سزا جرم ہے۔متعلقہ ملازمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دو دن کے اندر اندر اپنے متعلقہ زونل ایجوکیشن آفیسرز کے ذریعے تحریری وضاحت پیش کریں۔ اس کے ساتھ متعلقہ افسران کو اپنی سفارشات اور تبصرے بھی جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔حکم نامہ میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں جواب داخل نہ کیا گیا تو جموں و کشمیر سول سروس رولز کے تحت بغیر کسی مزید نوٹس کے محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس معاملہ کی اطلاع اعلیٰ تعلیمی حکام اور ضلع انتظامیہ کو بھی ضروری کارروائی کے لیے دے دی گئی ہے۔