پرویز احمد
سرینگر //وادی کے بڑے ہسپتال ،صدرسپتال سرینگر میںپارکنگ کی کمی کی وجہ سے مریضوں ، عملے ، تیارداروں اور مریضوں کی تیماداری میں مصروف لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہسپتال آنے والے مریضوں، تیمارداروں اور عملے کے علاوہ اسپتال احاطے میں قائم آیوش سینٹر، ہیوفیلیاء سینٹر اور دیگر تشخیصی مراکز بھی قائم ہیںاور ان اداروں میں علاج و تشخیص کیلئے آنے والے مریضوں کی بھیڑ صورتحال کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔ ہسپتال میں لوگوں کی اتنی بڑی بھیڑ نہ صرف مریضوں کا چلنا پھرنا ماحال بنا دیتی ہے بلکہ ایمرجنسی مریضوں کو لانے والی ایمبولنس گاڑیوں کو اندر آنے کیلئے جگہ نہیں ملتی۔ صدر اسپتال انتظامیہ پارکنگ کی کمی کا اعتراف کرتی ہے لیکن جگہ کی کمی کی وجہ سے پارکنگ بڑھانے سے قاصر ہے۔ہسپتال میں قائم مختلف شعبہ جات میں روزانہ آنے والے 10ہزار سے زائد لوگوں، طبی و نیم طبی عملہ اور تیمارداروں کی گاڑیوں کی وجہ سے نہ صرف ہسپتال کے سبھی راستوں میں گاڑیاں ہوتی ہے بلکہ ہسپتال احاطے میں موجود 4کارپارکنگ بھی گاڑیوں سے بھری ہوتی ہیں۔ گاڑیوں کی اتنی بڑی تعداد کی وجہ سے اسپتال آنے والی مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، صورتحال یہ تک خراب ہے کہ اسپتال کے شعبہ ایمرجنسی و حادثات کے سامنے بھی پارکنگ قائم کی گئی ہے اور وہاں ایمبولنس گاڑیوں کو کھڑا کرنے کیلئے بھی جگہ دستیاب نہیں ہے۔ عادل احمد نامی ایک تیماردار نے بتایا ’’ ہمارا والد اسپتال میں داخل ہے اور ہم کو گھر سے کھانا اور دیگر سامان روز لانا اور لے جانا پڑتا ہے۔ عادل نے بتایا ’’ اسپتال میں ایک رات کھڑا رہنے کے بعد تیمادار بدل جاتا ہے لیکن جو تیماردار آتا ہے، اس کو اپنی گاڑی اسپتال کے باہر سڑک پر رکھنی پڑتی ہے کیونکہ اسپتال میں کوئی بھی پارکنگ خالی نہیں ہوتی ہے۔ عادل نے بتایا کہ باہر گاڑی کھڑی کرنے کیلئے ہمیں پہلے آدھا گھنٹہ جگہ ڈھونڈنے میں لگتی ہے اور اگر جگہ مل بھی گئی تو پولیس آکر اس کا چالان کردیتی ہے۔ عادل نے بتایا کہ اسپتال کے اندر بھی عملے کی گاڑیاں اور میڈیکل کالج کی اندر بھی ڈاکٹروں کی گاڑیاں ہے، عام لوگوں کیلئے کوئی بھی جگہ نہیں رکھی گئی ہے۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر عندلیب بشیر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’پارکینگ کی کمی ہے لیکن ہمارے پاس پارکینگ بنانے کی جگہ موجود نہیں ہے۔‘‘ یپہ بات قابل ذکر ہے کہ صدر اسپتال سرینگر میں مریضوں کے علاوہ روزانہ عملے 2ہزار افراد کو بھی اپنی گاڑیاں پارک کرنے ہوتی ہے کیونکہ ڈاکٹروں سمیت تمام عملہ اپنی ذاتی گاڑیوں میں ڈیوٹی پرآتا ہے۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے ایڈمنسٹریٹر محمداشرف حکاک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ پارکینگ کی کمی ہے اور نئی پارکنگ کیلئے جگہ بھی نہیں ہے تاہم اس کا حل نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔