آزادیٔ فکر ایک ایسی قدر ہے جو انسانی معاشرے کے فروغ کے لئے ہوا اور پانی کی طرح ضروری ہے۔ اسی کی برکت سے انسان تحقیق و تجسس کی نئی راہیں کھولتا ہے۔اگر حریت فکر و نظر سے انسان کو محروم رکھا جائے تو جہالت ، تنگ نظری اور تعصبات انسانی معاشرے میں داخل ہو کر اسے تباہ و برباد کرکے چھوڑتی ہے۔ جدید جمہوری طرز فکر کی بدولت آزادیٔ اظہار مغربی معاشروں میں سرایت کر گیا ہے مگر اکثر دیکھا جاتا ہے کہ اس قدر کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔مغرب اور اسلام کے درمیان جو نظریاتی تصادم چل رہا ہے، اس کے نتیجے میں مغربی اقوام اسلام کی بنیادی اقدار کو سمجھنے میں صدیوں سے غلط فہمیوں کا شکار ہوئے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم ایک مسلمان کے ایمان کا جزو لازم ہے اور ایک مسلمان کچھ بھی برداشت کرسکتا ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین نہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ والہانہ جذباتی وابستگی ایمان کی جان بھی ہے اور تقاضا بھی۔ جب ہم یہ سنتے ہیں کہ کسی غیر مسلم نے کسی جگہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے، تو بطور مسلمان ہمیں حیرت ہوتی ہے کیونکہ کچھ بھی ہوسکتا ہے مگر ایک مسلمان خدا کے کسی پیغمبر کی گستاخی نہیں کرسکتا کیونکہ ہمارے نبی نے ہمیں ہر پیغمبر کی تعظیم و تکریم کرنے کی تلقین کی ہے۔ حتیٰ کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے مخاطب ہوکر فرماتا ہے کہ تم ان کافروں کے جھوٹے خداؤں کو بھی برا مت کہو، انہیں گالیاں مت دو کیونکہ ردعمل میں وہ تمہارے سچے خدائے واحد کو برا کہیں گے۔گویا اسلام کی بنیادی قدر ہی باہمی رواداری ہے مگر یہ جان کر بھی غیر مسلم اقوام ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں ، کارٹون بناتے ہیں، بے بنیاد الزام تراشیاں کرتے ہیں اور بار بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم شخصیت کو مسخ کرکے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ ایسے میں ایک مسلمان کا ردعمل کیا ہونا چاہئے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اگر کوئی شخص گستاخی کرتا ہے تو وہ اپنی ہی عاقبت کو برباد کرتا ہے کیونکہ انسانیت کی نجات کے لئے کوئی راہِ نجات خداوند قدوس نے متعین کی ہے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ذات والیٰ صفات ہے۔کوئی شخص اگر دن چڑھے سورج پر تھوکتا ہے تو اس کا تھوک واپس اسی کے چہرے پر آکر گرتا ہے ۔اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت روز روشن کی طرح ہر عیب و نقص سے پاک و صاف ہے۔جب اس طرح کی کوئی خبر ہم تک پہنچتی ہے تو پہلے ہمیں تحقیق کرنی چاہئے کہ سچ میں کسی نے یہ نازیبا حرکت کی ہے یا نہیں کیونکہ کبھی کبھار کچھ افواہ باز اپنے مقاصد پورے کرنے کے لئے بھی اس قسم کی افواہیں اڑاتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے جذبات بھڑکا کر ان پر شدت پسند ہونے کا لیبل چسپاں کر سکیں۔آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ سال پہلے ٹیلی ویژن کے حوالے سے کسی نے یہ خبر اڑائی کہ امریکہ میں قرآن مجید کی بے حرمتی کی گئی ہے، اس قسم کے معاملات میں چونکہ لوگ تحقیق نہیں کرتے اور فوراً جذبات میں آ جاتے ہیں، اس کے ردعمل میں پرتشدد احتجاجی جلوس نکالے گئے جس میں کئی لوگ جان بحق ہوئے اور بعد میں پتا چلا کہ یہ ایک غلط خبر اڑائی گئی تھی۔اسی طرح سوشل میڈیا پر اکثر کچھ خاص تصاویر شئیر کی جاتی ہیں جن میں اسلام کے شعائر کی توہین ہوتی ہے اور مسلمان بھی ان تصاویر کو جنہیں نظر انداز کیا جانا چاہئے تھا، یہ لکھ کر آگے بھیجتے ہیں 'لعنت بھیج کر شیئر کریں' اس سے ہوتا یہ ہے کہ غیر شعوری طور پر وہ بھی اس توہین آمیز مواد کی تشہیر کرکے گناہوں میں ملوث ہوجاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے گستاخوں کو کوئی جانتا بھی نہ تھا لیکن جب ان کی بے سند اور بے بنیاد بکواسات کو اہمیت دے دی گئی، ان کے خلاف فتوے نکالے گئے، ان کے پتلے جلائے گئے، نتیجے کے طور پر مسلمان دشمن مغربی طاقتوں نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا اور ان کی کتابوں کو شہرت مل گئی اور یوں ہم نے اپنا ہی نقصان کیا۔ہونا یہ چاہئے تھا کہ ان کی ان بکواسات کو نظر انداز کیا جاتا ، بے بنیاد الزامات کا مثبت انداز سے جواب دیا جاتا اور دنیا کی مختلف عدالتوں میں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی۔ دنیا کے پچاس سے زیادہ مسلمان ممالک اگر مختلف فورموں پر یک زبان ہو کر اس مسئلے کو اٹھاتے اور توہین رسالت کے خلاف اپنے مقدمے کو پیش کرتے تو کچھ کامیابی حاصل کی جاسکتی تھی مگر اس قسم کے واقعات میں صرف وقتی جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے اور 'جوش، خروش اور خاموش' کے مصداق جلد ہی مسئلہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔
جہاں تک اسلامی قانون کا سوال ہے، جمہور فقہاء ِ اسلام کا یہ نظریہ رہا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کی سزا قتل ہے۔فقہا یہ کہتے ہیں کہ مسلمان اگر توہین رسالت کا ارتکاب کرے گا تو مرتد ہو جائے گا اور مرتد کی سزا قتل ہے۔ اِسی طرح غیر مسلم ذمی اِس کا مرتکب ہو گا تو اْس کے لیے عقد ذمہ کی امان ختم ہو جائے گی اور اِس کے نتیجے میں اْسے بھی قتل کر دیا جائے گا۔فقہ اسلامی میں اِس استدلال کی ابتدا غالباً عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اِس راے سے ہوئی ہے، اْن کا ارشاد ہے:’’جو مسلمان اللہ اور اْس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یا نبیوں میں سے کسی دوسرے نبی پر سب و شتم کرے گا، وہ رسول اللہ کی تکذیب کا مرتکب ہو گا۔ یہ ارتداد ہے جس پر اْس سے توبہ کا تقاضا کیا جائے گا۔ اگر رجوع کر لیتا ہے تو چھوڑ دیا جائے گا اور نہیں کرتا تو قتل کر دیا جائے گا۔ اِسی طرح غیرمسلم معاہدین میں سے کوئی شخص اگر معاند ہو کر اللہ یا اللہ کے کسی پیغمبر پر علانیہ سب و شتم کرتا ہے تو عہد ذمہ کو توڑنے کا مجرم ہو گا، تم اْسے بھی قتل کر دو گے۔‘‘ (زاد المعاد، ابن قیم ۴/ ۹۷۳)
مگر سب سے بڑا اور اہم سوال یہ ہے کہ یہ کون فیصلہ کرے گا کہ آیا کسی نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے یا نہیں۔ظاہر ہے اس کا فیصلہ کرنا ملک کی عدلیہ کی ذمہ داری ہے، جو حقوقِ انسانی کی پاسداری کا کام انجام دیتی ہے۔یہ اختیار عوام الناس کو یا کسی دوسرے طبقے کو کسی بھی صورت میں نہیں دیا جاسکتا اور اگر یہ اختیار عوام کو دیا جائے توسارا نظام ہی درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ ملک کے ارباب اختیار کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ توہین رسالت کا مسئلہ ایک سنگین اور حساس مسئلہ ہے اور اس کے مرتکب کو معقول اور فوری سزا ملنی چاہئے تاکہ کوئی بھی شخص رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے کی جرأت نہ کرسکے۔