عظمیٰ نیوز سروس
ایران// شیراز میڈیکل یونیورسٹی کے طلبا بحفاظت قم پہنچ گئے ہیں اور ان کے ویزے جاری ہونے کے بعد وہ آذربائیجان یا آرمینیا کی طرف روانہ ہوں گے۔دریں اثنا، قم سے روانہ ہونے والے طلبا کا ایک اور گروپ سرحد پر پہنچ گیا ہے اور اس وقت امیگریشن کلیئرنس کا انتظار کر رہا ہے۔ارمیا یونیورسٹی کے طلبا پہلے ہی سرحد عبور کر کے آرمینیا میں داخل ہو چکے ہیں اور ہوٹلوں کی طرف جا رہے ہیں، وہ محفوظ ہیں۔
جن کی 14 مارچ کو پروازیں طے ہیں وہ جلد ہی اپنے اگلے سفر کے لیے ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہوں گے۔ اراک میڈیکل یونیورسٹی کے 27 طلبا اور چند دیگر افراد بھی بحفاظت سرحد پر پہنچ گئے ہیں۔ وہ اس وقت سرحد کے قریب ایک ہوٹل میں مقیم ہیں اور محفوظ ہیں۔ ان کے فلائٹ ٹکٹ 20 مارچ کو شیڈول ہیں۔مزید برآں، اے آئی ایم ایس اے کو 12 مارچ کی شام کو اراک یونیورسٹی کے متعدد طلبا کی کالیں موصول ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ان کے ہاسٹل سے متصل ایک عمارت پر حملہ کیا گیا ہے، جس سے حفاظت کے سنگین خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ طلبا نے حکام بالا سے فوری توجہ کا مطالبہ کیا ہے۔اصفہان یونیورسٹی کے طلبا نے بھی حفاظتی خدشات کے پیش نظر نقل مکانی کی درخواست کی ہے۔آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر محمد مومن خان، ایران میں ہندوستانی سفارت خانے پر زور دے رہے ہیں کہ وہ تمام ہندوستانی شہریوں اور طلبا کو فوری طور پر سیکورٹی خدشات کے درمیان محفوظ مقامات پر منتقل کرے۔