استاد کے پیشے کو پیغمبروں اور ولیوں کے پیشے سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔اُستاد کا احترام نہ صرف مکتب میںبلکہ ہر جگہ کیا جاتا ہے ۔ اساتذہ بلا امتیاز شکل وصورت وبلا فکر معاوضہ معاشرے کے تمام بچوں کی دینی وعصری تعلیم و تربیت کو اپنا فرض اورذمہ داری سمجھتے ہیں اور یہی فرض شناسی اور بے لوث خدمت کا جذبہ ہے جو استاد کو روحانی باپ کا درجہ دیتی ہے۔کوئی بھی شخص اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے اساتذہ کرام کا دلی احترام نہ کرے۔ انسان کی زندگی کا سب سے اہم مقصد اور فرض زندگی کی سمجھ بوجھ حاصل کرنا ہے، اس مقصد کے لیے جو کوشش کرتے ہیں اُسے تعلیم کہتے ہیں ۔ یہ تعلیم روحانی، ذہنی اور جسمانی ہر طرح کی ہوتی ہے اور علم کی راہ پر منزلوں کا حصول استاد کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔ اسی لیے حضرت علیؓ کہتے تھے کہ جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا ،میں اسے اُستاد کا درجہ دیتا ہوں۔
چنانچہ جب میں نے خود درس وتدریس کا سفر انگلش میڈیم مڈل اسکول کریوہ شوپیان سے شروع کیا اور وہاں بچپن کے دوران امتحانات میں اپنے پسندیدہ استاد پر مضمون قلمبند کرنے کو کہا جاتا تھا تو اُس وقت استاد کی قدر قیمت کا اندازہ نہیں تھا مگر آج جب استاد کے صحیح معنی سمجھ آنے لگےتو احساس ہوا اگر اُستاد کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے الفاظ کو موتیوں کی لڑی میں پرو کر بھی تحریر کرنا دشوار ہے ۔ماضی میں تعلیم کا دوسرا نام تربیت تھا، والدین کے ساتھ ساتھ استاد کا بھی تربیت میں بڑا ہاتھ ہوتا تھا۔ بچّوں کے ذہن میں یہ بات شروع سے ہی ڈال دی جاتی تھی کہ استاد روحانی باپ کا درجہ رکھتا ہے، اس لیے اس کی عزت اور احترام بہت ضروری ہے۔ اسی طرح استاد اور شاگرد کا رشتہ بھی مضبوط ہوتا تھا اور استاد بھی اپنی ذمہ داری سمجھ کر شاگرد کو بہترین سے بہترین انسان بنانے کے لیے دن رات ایک کر دیا کرتا تھا ۔استاد کی تعریف اگر ان لفظوں میں کی جائے تو غلط نہ ہوگا’’ایک استاد لوہے کوپتھر میں تراش کر ہیرابناتا ہے۔ استادمعمار بھی اور لوہار بھی ‘‘یہ واجب الاحترام اور لائق تعظیم ہے۔ ایک زمانہ تھا جب طالب علم حصول علم کی تلاش میں میلوں کا سفر پیدل طے کرتے تھے، سالہاسال ملکوں میں گھومتے ،گھر بار سے دور رہ کر اپنے علم کی پیاس کو پوراکرتے ، استاد کی سزاؤں کو جھیلتے تب جاکر نگینہ بنتے مگر اُس دور میں طالب علم باادب اور باتہذیب ہوتے تھے۔ استاد کے قدموں بیٹھنا‘ان کی باتوں کو خاموشی سے سننا‘مذاق اڑانا تو دور کی بات نظر اٹھا کر بات کرنے سے بھی ڈرتے تھے۔ کوئی بھی شخص اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے اساتذہ کرام کا دلی احترام نہ کریں گے ۔جہاں کوئی اُستاد نہ بننا چاہے وہاں بظاہر پڑھے لکھے لیکن حقیقتاًجاہل راج کرتےہیں۔استاد وہ عظیم ہستی ہے جو اس کو انسان بنادیتا ہے اور آدمی کو حیوانیت سے نکال کر انسانیت کے گر سے آشنا کرواتا ہے۔
استاد ہی وہ شخصیت ہے جو تعلیم و تربیت کا محور و منبع ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ قوموں اور مہذب معاشروں میں استاد کو ایک خاص مقام اور نمایاں حیثیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ مہذب، پر امن اور باشعور معاشرہ کی تشکیل ایک استاد ہی کے مرہون منت ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے بھی استاد کی قدر کی وہ دنیا بھر میں سرفراز ہوئی۔استاد مینار نور ہے جو اندھیرے میں ہمیں راہ دکھلاتا ہے۔ ایک سیڑھی ہے جو ہمیں بلندی پر پہنچادیتی ہے۔ ایک انمول تحفہ ہے جس کے بغیر انسان ادھورا ہے۔آج اس ماڈرن دور میں ایسے استاد بھی موجود ہیں جو خیر کا کام کرتے ہیں،شرکے دروازے بند کرتے ہیں ,بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، داد دیتے ہیں ، آگے بڑھ کر ہاتھ تھامتے ہیں ,اپنی استطاعت میں رہ کر مدد کر دیتے ہیں، دوسروں کے شعور اور احساس کو سمجھتے ہیں، کسی کے درد کو پڑھ لیتے ہیں، مداوا کی سبیل نکالتے ہیں، رکاوٹ ہو تو دور کر دیتے ہیں، تنگی ہو تو آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مسکراہٹ بکھیرتے ہیں، انسانیت کو سمجھتے ہیں، انسانیت کی ترویج کر دیتے ہیں،کسی کی بیچارگی کو دیکھ کر ملول ہوتے ہیں اور اپنے تئیں چارہ گری کی سبیل کرتے ہیں، ہر اچھے کام کی ابتداء کرتے ہیں، پڑھنے کے نئے نئے طریقے ایجاد کرتے ہیں، ہر مصیبت زدگان کا مصیبت میں ساتھ دیتے ہیں، مل کر کھاتے ہیں، دکھ بانٹتے ہیں اور درد سمجھتے ہیں۔
اسلامی تاریخ کے سب سے بڑے خلیفہ حضرت عمر فاروق ؓ سے ایک بار کسی نے پوچھا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود آپ کے دل میں کوئی حسرت باقی ہے؟تو آپ ؓ نے فرمایا کہ کاش میں ایک معلم ہوتا۔
معذرت کے ساتھ آج کا سماج استاد کو تنخواہ دار ملازم ہی سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج علم ناپیدہوتا جارہا ہے اتنے سکول‘کالج‘یونیورسٹیاں ہونے کے باوجود معاشرے میں اخلاقیات اور تہذیب کا کوئی نام نہیں۔آج نہ تو وہ اساتذہ ہیں اور نہ ہی وہ والدین جو اپنے اولاد کو استاد کی عزت اور احترام کرنے کا درس دیں۔ جب بچہ استاد کی عزت ہی نہیں کرے گا تو اسے پڑھنے کا یہ کچھ سیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ یوٹیوب اور باقی سوشل میڈیا چینل سے بھی کچھ سیکھ سکتا ہے آپ اسے گھر میں بھی پڑھا سکتے ہیں لیکن اگر وہ استاد کے پاس جارہا ہے تو اسے سکھایا جائے کہ استاد کی عزت ہر حال میں کرنی ہےاور اسی طرح اساتذہ کرام سے گزارش ہے کہ اپنا مرتبہ اور مقام مت بھولیے۔اگر آپ استاد نہیں ہیں اور حادثاتی طور پر ٹیچنگ میں آ گئے ہیں تو کوشش کریں کہ اس سے شوق بھی بنائیں،اگرکوئی چیز آپکے لئے شوق بن جائے تو اس پہلو میں خود بہ خود دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے اور اس کام کو پائہ تکمیل تک پہنچانا آسان ہو جاتا ہے۔
اب تو تعلیم کو ایک پیشہ اور کاروبار بنا دیا گیا ہے۔ اب بچوں کے پاس ڈگری تو ہے مگر اخلاق اور شخصیت میں نکھار نہیں ہے۔ اگر ہم آج تعلیمی اداروں کی بات کریں تو ایک سے بڑھ کر ایک تعلیمی ادارے موجود ہیں مگر باریک بینی سے نظر دوڑائیں گے تو آپ کو اخلاقی قدروں میں فقدان نظر آئے گا۔ہم نے صرف ڈگریوں کی دوڑ میں لگ کر اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ اس سلسلے میں سماج کے ذی حس طبقہ کو نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے نہیں تو ہمارے تعلیمی نظام نے پستی کی جانب رخ کیا ہے، جس کے منفی اثرات مسقبل قریب میں نظر آئیں گے۔ میں اپنے تمام اساتذہ کرام کا بے حد مشکور و ممنون ہوں جنہوں نے مجھے پڑھنا لکھنا سکھایا ، خاص کر اپنے استاد ،والد محترم شیخ منیر حسین جنہوں نے مجھے قلم پکڑنا سکھایا اور یہی قلم آج میری طاقت ہے۔