شیاما پرشادمکھرجی کی قربانی رنگ لائی | دفعہ370 ہٹاکر کشمیر کو آئینی حق دے پائے | بی جے پی کے41ویں یوم تاسیس کے موقع پر ویڈیو کانفرنسنگ سے مودی کا خطاب

نئی دہلی/یو این آئی//وزیراعظم نریندرمودی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک میں الیکشن نہیں بلکہ مہاتما گاندھی کی خدمات کے منتر کی بنیاد پر ملک کے عوام کا دل جیتا ہے اور پارٹی کی توسیع سے ڈرے ہوئے سیاسی مخالفین جھوٹ اور افواہیں پھیلا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مودی نے یہاں بی جے پی کے 41ویں یوم تاسیس کے موقع پر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ سے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ پارٹی کے دین دیال اپادھیائے روڈ پر واقع سینٹر دفتر میں بی جے پی صدر جگت پرکاش نڈا نے پارٹی کا پرچم لہرایا اور پنڈت دین دیال اپادھیائے اور ڈاکٹر شیاماپرشاد مکھرجی کے مجسموں پر گلہائے عقیدت پیش کرنے کے بعد پارٹی کے دیگر اہم رہنماؤں کے ساتھ وزیراعظم کا پیغام سنا۔وزیراعظم نے کہا کہ بی جے پی کی گورو شالی یاترا کے آج 41سال پورے ہورہے ہیں ۔ یہ 41سال اس بات کے گواہ ہیں کہ خدمت اور قربانی کے ساتھ کوئی پارٹی کیسے کام کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا’’ڈاکٹر شیاما پرشاد مکھرجی ،پنڈت دین دیال اپادھیائے،اٹل بہاری واجپئی ،کشابھاؤ ٹھاکرے ،راج ماتا وجیاراجے سندھیا ایسے بیشتر عظیم شخصیات کو بی جے پی کے ہر کارکن کی طرف سے میں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں‘‘۔ انہوں نے پارٹی کوآگے بڑھانے اور پارٹی کو اپنی زندگی مختص کرنے والے لال کرشن اڈوانی ،ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی سمیت سبھی سینئر رہنماؤں کو سلام کیا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی قربانی کی طاقت ہے کہ ہم دفعہ370 کو ہٹاکر کشمیر کو آئینی حق دے پائے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لئے ہمیشہ یہ منتر رہا ہے’’ شخص سے بڑی پارٹی، پارٹی سے بڑا ملک، یہ روایت ڈاکٹر شیاما پرشاد مکھرجی سے لے کر آج تک جاری و ساری ہے ۔ ہم سبھی نے دیکھا ہے کہ کیسے واجپائی نے ایک ووٹ سے حکومت گرنا قبول کیا تھالیکن پارٹی کے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا تھا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا ’’ہماری جو تہذیب ہے ،ہم سیاسی چھوت چھات پر یقین نہیں کرتے ۔ لہذا ہم سردار پٹیل کے لئے وقف مجسمہ بنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بابا صاحب کے لئے تہرتھ بنانے پر فخر کرتے ہیں۔ ہم کھلے دل سے بی جے پی کی کٹر مخالف شخصیات کا بھی احترام کرتے ہیں اور انہیں عزت دیتے ہیں۔ بھارت رتن سے لے کر پدم ایوارڈ اس کی مثال ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ کیرلہ اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں میں ہمارے کارکنوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں۔