یواین آئی
ممبئی//امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے اعلان کے بعد منگل کے روز گھریلو شیئر بازاروں میں مسلسل دوسرے روز تیزی دیکھی گئی، تاہم آئی ٹی شعبے کی کمپنیوں کے حصص میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔بی ایس ای کا سینسیکس 78.56پوائنٹس )0.09 فیصد(اضافے کے ساتھ 83,817.69 پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی-50انڈیکس بھی 48.45 پوائنٹس یعنی 0.19فیصد بڑھ کر 25,776پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ دونوں اہم اشاریے 12 جنوری کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر بند ہوئے۔اس دوران آئی ٹی کمپنیوں پر شدید دبا دیکھا گیا جس کے باعث صبح کے وقت مرکزی اشاریوں میں کمی رہی اور ایک مرحلے پر سینسیکس 600پوائنٹس سے زائد نیچے آ گیا تھا۔امریکی شیئر بازاروں میں درج ہندوستان کی آئی ٹی کمپنیوں کے حصص پیر کو گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ایک ایسے اے آئی ٹول کی تیاری کی خبر کے بعد یہ کمپنیاں دبا میں آ گئیں جو دستاویزات کے جائزے اور ڈیٹا کے تجزیے کا کام انجام دے سکتا ہے۔ فی الحال بیشتر عالمی کمپنیاں یہ خدمات ہندوستانی کمپنیوں سے آٹ سورس کراتی ہیں، جس کا اثر آج بازار کھلتے ہی واضح نظر آیا۔سینسیکس میں آئی ٹی کمپنیوں کے حصص میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔ انفوسس کا شیئر سات فیصد سے زیادہ گر گیا، جبکہ ٹی سی ایس میں بھی تقریبا سات فیصد کی کمی رہی۔ ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز اور ٹیک مہندرا کے حصص چار فیصد سے زائد نیچے آئے۔