پرویز احمد
سرینگر //سرینگر شہر اور وادی کے دیگر اضلاع میں کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں اور آوارہ کتوں کی بڑی تعدادنے شہروقصبوں کو جنگلی جانوروں کیلئے معذون جگہ بنا دیا ہے اور کھانے کی تلاش میں ریچھ اور تیندوے شہرو قصبوں کا رخ کررہے ہیں۔نگین، حضرت بل، صدر بل،سکمز صورہ، آنچار اور دیگر علاقوں میں جہاں ایک طرف ریچھ کی تلاش جاری ہے تو وہیں ان علاقوں میں خوف کی وجہ سے عمر رسیدہ افراد، بچے اور خواتین خوف کی وجہ سے صبح و شام گھروں سے باہر نکلنا ہی بند کردیا ہے۔ محکمہ وائلڈ لائف کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ داچھی گام میں ریچھوں کی تعداد بڑھ گئی اور آبادی والے علاقوں میں گندی کے ڈھیروں اور آوارہ کتوں کی بڑی تعداد ان کو شہرو قصبہ جات کی طرف راغب کررہی ہے۔ پچھلے 10دنوں سے نگین ، حضرت بل، زکورہ، صدر بل،لال بازار،سکمز صورہ، آنچار اور دیگر علاقوں میں لوگوں کی نیند حرام کرنے والا ریچھ پچھلے 24گھنٹوں کے دوران نظر نہیں آیا ہے لیکن محکمہ والڈ لائف نے تلاشی کاروائی جاری رکھی ہے۔ ان علاقوں میں لوگوں کا کہنا ہے کہ ریچھ کی موجودگی کے ڈر سے نہ تو صبح کے وقت نماز مسجد میں ادا کرپاتے ہیں اور نہ ہی شام کے وقت عمر رسیدہ افراد، بچے اور خواتین کھل کر گھروں سے باہر آتے ہیں۔
صدر بل کے رہنے والے صالح شیخ نے بتایا ’’ یہ ریچھ پچھلے ایک ہفتے سے نگین سے ملہ باغ اور صورہ کے درمیان گھوم رہا ہے اور لوگوں کے مکانوں اور آنگن میں گھستا رہتا ہے ۔ ان علاقوں کے لوگوں کیلئے گھروں سے باہر آنا مشکل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمر رسیدہ افراد ، خواتین اور بچوں کا گھروں سے باہر آنا مشکل ہوگیا ہے اور ڈر کی وجہ سے کئی لوگ اپنے بچوں کو ٹیوشن پڑھنے کیلئے بھی نہیں بھیج رہے ہیں۔ سرینگر کے مضافاتی علاقوں میں ریچھ کی موجودگی پر والڈ لائف وارڈن (سینٹرل) پرویز احمد وانی نے بتایا ’’ پچھلے 24گھنٹوں میں ریچھ کی موجودگی کی کوئی خبر نہیں ملی ہے اور نہ کسی نے اُس کو دیکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے کئی دنوں نے محکمہ کی ٹیمیں اس کی تلاش میں ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ وہ نکل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نگین، حضرت بل، صدر بل، صورہ ، سکمز اور دیگر جگہیں ریچھ اور دیگر جنگلی جانوروں کیلئے معذون ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں مین روڑ تو صاف ہے لیکن اندرونی علاقوں میں گندگی ہے اور لمبی لمبی گھاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ سردیوں میں خوراک نہ ملنے کی وجہ سے یہ آبادی والے علاقوں کی طرف رخ کرتے ہیں جہاں ان کو غذا ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریچھ ان علاقوں میں 7دن رہا کیونکہ اس کو غذا مل رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر شہر اور دیگر قصبہ جات میں کوڑے اور آوارہ کتوں کی موجودگی سے جنگلی جانوروں کا آبادی والے علاقوں میں آنا بڑھ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آوارہ کتے ریچھ اور تیندوے کی من پسند غذا ہوتی ہے اور یہ غذا سرینگر شہر اور دیگر قصبہ جات میں کافی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ داچھی گام میں ریچھوں کی تعداد 50سے زائد تک پہنچ گئی ہے کیونکہ ریچھوں کی تعداد بڑھانے کیلئے خصوصی پروگرام چلائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف جنگلی جانوروں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف ہم نے اپنے گھروں کے باہر اور علاقوں گندگی کے ڈھیر جمع کررکھے ہیں، یہ شہر و قصبہ جات میں نہیں آئیں گے تو کہاں جائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گندگے اور آوارہ کتے پسندیدہ غذا ہوتی ہے ۔پرویز نے بتایا ’’ آبادی وادی علاقوں کو ریچھ اور تیندوں نکل و حرکت سے دور رکھنے کیلئے مونسپٹی اور دیگر بلدیاتی اداروں کا اہم رول ہے کیونکہ مونسپلٹی ہی صفائی کا خیال اور آوارہ کتوں کی تعداد کو کم کرسکتی ہے۔