اتوار 10اپریل1988ء کے روز صبح 9بجکر45 منٹ پر فیض آباد راولپنڈی کے اوجڑی کیمپ کے اسلحہ ڈپومیں ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ اس کے ساتھ ہی راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہروں پر راکٹوں اور میزائلوں کی بارش شروع ہوئی جو ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔ ایک ہفتہ تک افراتفری کا عالم رہا۔ دھماکوں کی آوازوں سے ہر طرف وحشت، نفسانفسی اور افراتفری کا ماحول تھا۔ فضا میں جو گردو غبار اور دھواں چھایا ہوا تھا وہ اس قدر ہولناک تھا کہ قیامت کا سماں تھا۔
اوجڑی کیمپ اسی ایکڑ پر پھیلا تھا۔ افغان جنگجوئوں کیلئے امریکہ روس کے خلاف لڑنے کیلئے جو سامان پاکستان بھیج رہا تھا اس کا 70 فیصدی اسلحہ اسی کیمپ میں ذخیرہ کیا گیا تھا۔ پاکستان میں افغان جنگجوئوںکیلئے اسلحہ کے سولہ ڈیپو اور فوجی تربیت کے سڑسٹھ کیمپ موجود تھے مگر اوجڑی کیمپ ہیڈ کوارٹر تھا۔ جہاں امریکی اسلحے کا بڑا ذخیرہ تھا دوسو اڑ تالیس سٹنگر مزائل بھی اسی کیمپ میں تھے۔ یہاں انتظامی امور کی عمارت کے علاوہ پانچ سو فوجیوں کیلئے مس کی سہولیات ، تین سو فوجی گاڑیوں کیلئے گیراجز اور فوج کی تربیت کیلئے ایک انسٹیچوٹ موجود تھا اسی ہزار افغان جنگجوئوں کو یہیں تربیت دی جاچکی تھی۔
اوجڑی کیمپ کا سانحہ موسم بہار میں اپریل کی دوسری اتوار کی صبح کو پیش آیا تھا۔ صدرجنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں اتوار کو چھٹی نہیں ہوتی تھی۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں جمعہ کو یوم تعطیل قرار دیا تھا۔ پہلا دھماکہ ہونے کے ساتھ ہی راولپنڈی اور اسلام آباد میں گھروں ، دکانوں ، دفتروں اور اداروں پر آتش و آہن کی بارش ہوتی رہی۔ لوگ اپنے گھروں کے دروازے کھلے چھوڑکر بھاگ رہے تھے۔ ایک گھنٹہ تک شدت سے راکٹ اور میزائیل برستے رہے۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے دوسرے دن شام تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ اوجڑی کیمپ آگ اگل کر گردوپیش کو تباہ و برباد کررہا تھا۔ افواہیں مزید پریشانی کا باعث بن رہی تھیں۔ ایک افواہ یہ تھی کہ دشمن نے ملک پر حملہ کردیا ہے۔ بعض لوگ کہہ رہے تھے کہ دشمن نے کہوٹہ ایٹمی پلانٹ پر حملہ کیا ہے۔ ایک افوا یہ تھی کہ روس افغانستان سے شکست کھا کر جارہا ہے، اس لئے جاتے جاتے اس نے پاکستان کو زخم دیا ہے۔ بارہ بجے ریڈیو پاکستان سے خبریں نشر ہوئیں جن میں بتایا گیا کہ اسلحے کے ڈیپو میں آگ لگ گئی ہے جس پر قابو پالیا گیا ہے۔ صدر جنرل ضیاء الحق اس وقت کویت کے دورے پر تھے۔ یہاں سے انہیں ایران کے سرکاری دور ے پر جانا تھا وزیر اعظم محمد خان جو نجو سندھ میں تھے۔ حادثے کی خبر سن کر دونوں اسلام آباد واپس آئے ۔
اوجڑی کیمپ کے سانحے سے جو تباہی ہوئی اس کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔ سانحے سے مرنے والوں کی تعداد103اور زخمیوں کی تعداد1300 بتائی گئی جبکہ غیر سرکاری اندازوں کے مطابق دونوں کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔ سانحے سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے والد خاقان عباسی بھی جان بحق ہوگئے تھے۔ خاقان عباسی صدر جنرل ضیاء الحق کے قریبی تھے اور وفاقی کا بینہ میں وزیر پیداوار تھے۔ وہ اسی وقت اپنے بیٹے زاہد خاقان عباسی کے ساتھ اپنے آبائی قصبے مری جارہے تھے۔ مری روڑ پران کی گاڑی کو میزائل لگا اور وہ وہیں پر جان بحق ہوگئے۔ ان کے بیٹے زاہد خاقان عباسی سترہ سال تک کو ما میں رہنے کے بعد2005ء میں دنیا سے چل بسے۔ اوجڑی سانحے سے ہزاروں لوگوں کے روز گار ختم ہوگئے۔ مکانوں ، دکانوں اور دوسری عمارتوں کو جو نقصان پہنچا وہ بے اندازہ تھا۔ کیمپ میں موجود اسلحے کا جو بھاری ذخیرہ تھا وہ بھی تباہ ہوگیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اتنے بڑے سانحے کی انکو ایری رپورٹ کبھی سامنے نہیں آئی۔
اوجڑی کیمپ کے اس عظیم سانحہ پر احمد فراز ؔ نے ایک طویل نظم لکھی جو ’شہر نامہ۔ (اوجڑی کیمپ کے حوالے)‘ کے عنوان سے ان کے مجوعہ کلام ’’پس اندازموسم ‘‘ میں شامل ہے۔ نظم ساٹھ اشعار پر مشتمل ہے اور اس میں سانحے کے بارے میں شاعر نے مختلف زاویوں سے سانحہ کو دیکھا ہے۔ سانحہ موسم بہار میں پیش آیا تھا۔ نظم کا آغاز اس طرح ہوتا ہے ؎
وہ عجیب صبح بہار تھی
کہ سحرسے نوحہ گری رہی
مری بستیاں تھیں دھواں دھواں
مرے گھر میں آگ بھری رہی
اس کے بعد شاعرنے بتایا ہے کہ کس طرح سڑکیں لہو سے بھری ہوئی تھی۔ انسانی جسموں کے ٹکڑے فضامیں اڑر ہے تھے۔ خواب چکنا چورہو رہے تھے۔ امید یں خاک میں مل چکی تھیں۔ آرزوئیں اور تمنائیں پتھروں اور ملبوں کے نیچے دفن ہوچکی تھیں۔ سازوسرور کی محفلیں ماتم کدوں میں بدل چکی تھیں۔ لوگ پریشانی اور بد حواسی کے عالم میں رورہے تھے۔ اپنے اپنے پیاروں کو یاد کررہے تھے ؎
کہیں نغمگی میں وہ بَین تھے
کہ سماعتوں نے سنے نہیں
کہیں گونجتے تھے وہ مرثیے
کہ انیس ؔ نے بھی کہے نہیں
شاعر اس پر ماتم کرتا ہے کہ موتیوں کی دکانیں سنگ ریزوں کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ جگنوئوں اور روشنیوں کے مسکنوں میں چیونٹیاں نظر آرہی ہیں۔ سانحے میں جو لوگ زخمی ہوئے ہیں وہ جن حالات میں پڑے ہوئے ہیں ان سے ظلم کا حوصلہ ہی بڑھے گا۔ گراہواخون شکاریوں ہی کو سراغ دے گا۔
نظم میں شاعر نے ملک کی سیاسی ، سماجی اور مذہبی حالت کی ابتری کا ذکر کیا ہے ۔ انہوں نے اس کا رونا رویا ہے کہ ملک کی عدالتیں جن سے مظلوموں کو انصاف کی توقع ہوتی ہے قاتلوں کی طرف داری کررہی ہے۔ خانقاہوں سے جو امیدیں عوام کو لگی تھیں وہ ایک ایک کرکے خاکستر ہوچکی ہیں۔ ارباب اقتدار نے انہیں مراعات دے کر خاموش کردیا ہے۔ ان کی قدر و منزلت ہی ان کی بزدلی کی دلیل ہے۔
شاعر نے نظم میں ملک کے ادیبوں اور شاعروں کے طرز عمل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے ملک کے ادیب اور شاعر گداگروں کی طرح ارباب اقتدار کے دروازوں پر بھیک مانگ رہے ہیں ۔ مجھ سے آواز ملا نے والے میرے ساتھی بہانہ بنا کر کہیں دور نکل گئے ہیں تاکہ انہیں اس کا جواب نہ دینا پڑے کہ وہ اس سانحہ پر کیوں خاموش رہے۔
شاعر کو ایسا لگ رہا ہے کہ اس سانحہ کے پیچھے کچھ بڑے لوگوں کا ہاتھ ہے ۔جو امن کے علمبردار بن کر فاختائوں کے روپ میں مردار خور کر گسوں کا کام کررہے ہیں۔
نظم میں کہا گیا ہے کہ ملک کی حالت یہ ہے کہ یہاں ہر شخص اور ہر طبقہ تاجر ہے ۔کوئی اپنا حسب و نسب بیچ رہا ہے۔ کوئی پشتوں سے دین فروشی کررہا ہے ۔ کوئی بزرگوں کی کفش برداری کرکے اپنی بزرگی جتا رہا ہے اور کوئی نعت پڑھ کر روزی اور عزت کما رہا ہے۔ نیز یہاں ہر شخص دستار قبا کا حریص ہے۔ اہل دل اور اہل ریا ایک ہی لباس میں ملبوس ہیں ؎
کوئی تاجر حسب و نسب
کوئی دیں فروشِ قدیم ہے
یہاں کفش بر بھی امام ہے
یہاں نعت خواں بھی حکیم ہے
کوئی فکر مند کلاہ کا
کوئی دعوی دار قبا کا ہے
وہی اہل دل کے ہے زیب تن
جو لباس اہل ریا کا ہے
نظم میں آگے چل کر شاعر نے ملک کے ارباب اقتدار کی خبر لی ہے کہ کس طرح ان لوگوں نے قوم کی دولت کو لوٹا ہے اور قومی دولت کو مال یتیم اور مال غنیمت سمجھ رکھا ہے۔ صاحب تخت اور اس کے مصاحبین ایک ہی روش پر کام کررہے ہیں۔ یہاں داروغہ ہی رات کو ڈاکہ ڈالتے ہیں ستم یہ کہ مال مسروقہ میں شیخ دین بھی فریق ہوتا ہے ؎
مرے پاسباں ،مرے نقب زن مرا ملک مِلکِ یتیم ہے
مراد یس میر سپاہ کا
مرا شہر مال غنیم ہے
جو روش ہے صاحب تخت کی
سو مصاحبوں کا طریق ہے
یہاں کوتوال بھی دُزد شب
یہاں شیخ دیں بھی فریق ہے
شاعر نے ’’میرا دیس میرِ سپاہ کا ہے‘‘ کہہ کر جنرل ضیاء الحق کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جو فوج کے سربراہ تھے۔ جنرل ضیاء الحق ملک میں ترہیب و ترغیب Stick and Carrot کی پالیسی بھی اپناتے تھے نظم میں اس طرف بھی شاعر نے اشارہ کیا ہے ؎
یہاں سب کے نرخ جدا جدا
اسے مول لو اسے تول دو
جو طلب کرے کوئی خونہا
تو دہن خزانے کاکھول دو
وہ جو سرکشی کا ہو مرتکب
اسے قمچیوں سے زبوں کرو
جہاں خلق شہر ہو مشتعل
اسے گولیوں سے نگوں کرو
شاعر نے نظم میں ان لوگوں کا بھی ذکر کیا ہے جو ملک کے حالات سے مطمئن نہ تھے مگر یہ لوگ یا تو جیلوں میں پڑے ہوتے تھے یا ان کے ہونٹ سی دئے گئے تھے۔ کہیںسے کوئی آواز نہیں اُٹھی۔ ہر طرف سناٹا تھا۔ ملک کے عوام نے قومی زندگی کا اکثر حصہ اسی اندھیرے میں گزارا تھا۔ آرام و آسائش کے دن دیکھنے کی آرزوئیں کبھی پوری نہیں ہوتیں۔ اس طرح قوم پر کتنی قیامتیں گزریںمگر خطاکاروں کو کبھی سزانہ ملی۔ زندگی اور موت میں کبھی کوئی فرق نہ تھا ؎
اسی عرصہ شب تار میں
یونہی ایک عمر گزر گئی
کبھی روز وصل بھی دیکھتے
یہ جو آرزو تھی وہ مرگئی
یہاں روز حشر بپا ہوئے
یہ کوئی بھی روزِجزا نہیں
یہاں زندگی بھی عذاب ہے
یہاں موت میں بھی شفا نہیں
اوجڑی کیمپ کے سانحے کو تنتیس برس پورے ہورہے ہیں۔ اس کی برسی کے موقع پر احمد فراز کا ’’شہرنامہ‘‘ ہر سال پڑھا جائے گا۔ احمد فراز ایک بلند پایہ فن کار تھے۔ انہوں نے اپنی تخلیقات میں ان موقعوں پر بھی رویا ہے جہاں کوئی رونے والا نہیں ہوتا تھا۔ فن کار کے اسی منصب کو مدنظر رکھ کر علامہ اقبال نے شاعر کو قوم کی آنکھ کہا ہے ؎
مبتلائے درد ہو کوئی عضو روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
رابطہ۔حدی پورہ،رفیع آباد،بارہمولہ کشمیر
����������