سرینگر // لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایس کے آئی سی سی سرینگر میں ’گڈ گورننس‘ کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر اس سمت تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔دو روزہ علاقائی کانفرنس میں ایل جی کے علاوہ مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ بھی موجود تھے ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے ، فلاحی پروگراموں ، ڈیجیٹل گورننس میں بہترین طرز عمل کی تشکیل اور نفاذ کے لئے تجربات کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے کیلئے قومی اور ریاستی سطح کے ماہرین کو شامل کر کے ایک مشترکہ پلیٹ فارم بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا ’میں یقین رکھتا ہوں کہ فیصلہ سازی کی رفتار انتہائی ضروری ہے لہٰذاہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ عملدرآمد کے عمل میں تاخیر کو کم کیا جائے اور ایک مساوات معاشرے کی تعمیر کی طرف موثر انداز میں آگے بڑھیں۔عہدیداروں کے کام میں انسانی رابطے کے عناصر رکھنے پر زور دیتے ہوئے ،انہوں نے کہا کہ ہم سب کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک فائل کے بیچ ہر ایک کاغذ میں لوگ ہوتے ہیںاور ایک خاص لمحے میں آپ جو بھی کرتے ہیں یا نہیں کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، اس سے عوام کے ایک بڑے حصے پر اثرپڑتاہے ۔انہوں نے کہا ’’ ہم ناکامی کے بارے میں بھول جائیں، آئیے گننے لگیں کہ ہم کتنی کوششیں کر سکتے ہیں جو انتظامیہ کے وژن کے ساتھ پوری طرح منسلک ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم عمل پر مبنی انتظامیہ سے کارکردگی پر مبنی انتظامیہ کی طرف چلے جائیں ، جس سے نظام میں مزید بہتری پیدا ہو۔لیفٹیننٹ گورنر نے جے کے آئی ایم پی آر ڈی اور نیشنل سنٹر فار گڈ گورننس (این سی جی جی) کو صلاحیت سازی کے پروگرام پر ایک ایم او یو پر دستخط کرنے پر مبارکباد پیش کی ، جس سے جمہوریہ کے انتظامیہ کے 2000 افسران کو مڈ کیریئر ٹریننگ پروگرام کے ذریعے گڈ گورننس کے مختلف پہلوؤں پر ایک موقع فراہم کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ کی ٹیم شفاف انداز میں کام کر رہی ہے جو اچھی حکمرانی کی اساس ہے۔انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ ادارے کی اسکیمیں ، مختلف پروگرام ، معاشرتی بہبود کی سرگرمیاں تب ہی صحی ثابت ہو سکتی ہیں جب ان کا فائدہ ہر ایک شہری تک پہنچے ۔لوگوں کو ایک جوابدہ گڈ گورننس دینے پر خصوصی زور دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جے کے بیمز ، ایمپروائرمنٹ اقدام کے تحت عوامی ڈومین میں ہر چیز ڈال دی گئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مداخلت کے ذریعے چلنے والی گڈ گورننس کا مقصد حکومتی خدمات کو آن لائن دستیاب کرنا ، ڈیجیٹل سہولیات ہر گائوں تک پہنچانا اور سب سیڈی کو ہر فائدہ اٹھانے والے تک پہنچانا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ UT کی کسی بھی پنچایت میں بیٹھا کوئی بھی شخص اپنے گاؤں کی ترقی کیلئے مختص رکھا گیا فنڈس اور اس کے متعلق مکمل جانکاری حاصل کر سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر سے دربار مو کی منتقلی بھی اسی اقدام کا ایک حصہ ہے اور اس اقدام سے جموں سے سرینگر اور سرینگر سے جموں منتقل کی جانے والی فائلوں پر خرچ ہونے والے کروڑوں روپے کی بچت ہو گی ۔لیفٹیننٹ گورنر نے ریمارکس دیئے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کم سے کم حکومت اور زیادہ سے زیادہ گورننس کے ذریعہ حکمرانی کے عمل میں ایک نیا دور لایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سال 2016 میں لال قلعے سے اپنے خطاب میں گونر نے کہا تھا ملک گڈ گورننس کی طرف گامزن ہے اور یہ ان کا گڈ گورننس کاماڈل ہے کہ ہم کوویڈ 19 کے چیلنجوں کے باوجود اپنی معیشت کو بچانے ، ترقی کے نئے سنگ میل طے کرنے اور معاشرتی بہبود کے فوائد کے ساتھ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے سردار پٹیل کے انصاف ، شفافیت اور احتساب پر ان کے پختہ یقین کے بارے میں بھی بات کی۔اس موقعہ پر وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت سب کے لئے شفافیت اور انصاف کیلئے پرعزم ہے ، اور پچھلے سات سال میں کئے گئے عوام دوست اصلاحات سے فائدہ ہوا ہے ۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ’مشن کرم یوگی‘ کے ذریعہ حکومت کی طرف سے پیش کی جانے والی تغیراتی تبدیلیوں کو آگے لایا ، جس میں’’ این سی جی جی اور آئی ایم پی ڈی ڈی ‘‘کے مابین اشتراک سے 2000 سرکاری ملازمین کی صلاحیت سازی شامل ہے۔انہوں نے موثر کویڈمینجمنٹ کے لئے جموں و کشمیر کی حکومت کی تعریف کی اور وبائی امراض کے معاشراتی انتظام کیلئے مرکزی زیر انتظام خطے کے لوگوں کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے قومی گڈ گورنس انڈیکس کی طرز پر ڈسٹرکٹ گورننس انڈیکس تیار کرنے کیلئے جموں و کشمیر حکومت کے ساتھ محکمہ انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایات ‘ کے ساتھ تعاون کا بھی اعلان کیا۔محکمہ انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایات کے سکریٹری سنجے کمار سنگھ نے اپنے خطاب میں ، ڈیجیٹل گورننس اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے لوگوں کو تمام متعلقہ معلومات اور خدمات کی فراہمی کی اہمیت پر زور دیا۔ جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری ، ڈاکٹر ارون کمار مہتا ،نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے جدت طرازی میں استحکام کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور لوگوں بہتر انتظامیہ کی فراہمی کے لئے اس کو انتہائی اہم قرار دیا۔
مغل شاہراہ اور سنتھن روڑ
۔5 جولائی سے کھول دیئے جائینگے:منوج سنہا
نیوز ڈیسک
سرینگر // لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ، آج2 اہم فیصلے لئے گئے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پرایک ٹویٹ میں کہا’’ پچھلے دنوں راجوری ، پونچھ ، کشتواڑ ، ڈوڈہ کے بہت سارے وفود مجھ سے ملے‘‘۔منوج سنہا نے کہاکہ مغل روڈ اور سنتھن روڈ 5 جولائی سے عوام کے لئے کھول دیا جائے گا۔ایک اورٹویٹ میںمنوج سنہا نے لکھاکہ حدبندی کمیشن، حدبندی ایکٹ کے مطابق کام کرتاہے۔منوج سنہانے واضح کیاکہ حدبندی کمیشن کا عمل شفاف ہے۔ لہٰذا جب سیاسی جماعتیں اور عام لوگ حصہ لیں تو بہتر اسمبلی تشکیل دی جاسکتی ہے۔انہوںنے کہاکہ جو لوگ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اوراسمبلی انتخابات چاہتے ہیں،وہ اس جمہوری عمل میں ضرور حصہ لیں۔اپنے ایک اورٹویٹ میں لیفٹیننٹ گورنر نے لکھاکہ پچھلے کچھ مہینوں میں ڈرونوں کی بوچھاڑ ہوئی ، بی ایس ایف نے حال ہی میں ایک ڈرون کومارگرایا۔ پولیس نے ایسی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے آگے کہاکہ سیکورٹی اداروں نے جموں کے حالیہ واقعے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ ایسے تمام اداروں میں سکیورٹی کے انتظامات کئے جارہے ہیں۔ سیکورٹی ادارے اس خطرے سے نمٹنے کے قابل ہیں۔