انسان کا تخیل(Imagination) خالق ِ حقیقی کی طرف سے ودیعت کی گئی ایک عظیم نعمت ہے۔انسان ظاہری طورپر کتنا بھی آزاد اورطاقتورکیوں نہ ہو لیکن پھر بھی وہ چند حدود و قیود میں بندھا ہوتا ہے۔ لیکن ہمارا تخیل ہر قید و بند اور پابندی سے آزاد ہے۔بعض چیزوں کا خیال تو انسان اپنی مرضی سے لاتا ہے اور بعض تصورات اور خیالات بِن بُلائے مہمان کی طرح ہمارے اذہان میں وارد ہوتے ہیں اور ہماری ذہنی بے چینی کا باعث بنتے ہیں۔اب دیکھئے نا،کبھی کبھار ایک انسان اپنے گھر کی چار دیوری میں قید ہوتا ہے لیکن اُس کا تخیل پرواز کرکے اُسے ہزاروں میل دور کسی ملک کی سیر کراتا ہے اور کبھی بیٹھے بیٹھے تخیل کے پردے پر کچھ ڈراؤنی تصاویر ابھرتی ہیں مثلاً سب کچھ ٹھیک ہوکر بھی آپ کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ اگر میرے والد ین کی موت واقع ہوئی یا اگر مجھے حادثہ پیش آجائے ،اور آپ کا تخیل پھر وہ تصاویر آپ کے ذہن میں ایک فلم کی طرح چلاتا ہے۔آپ کے والدین صحیح و سالم آپ کے سامنے بیٹھے ہیں اور تخیل میں آپ اُن کا جنازہ پڑھ رہے ہیں!آرام دہ بستر پرلیٹے ہیں اور تخیل کی دُنیا میں آپ کو حادثہ بھی پیش آیا اور آپ سڑک پر خون میں لت پت پڑے ہیں۔تخیل کا ہی کمال ہے اعلیٰ معیاری افسانے اور ناولیں منصہ شہود پر آجاتی ہیں۔اسی کا زور ہے کہ آپ کے پاس دو وقت کا کھانا بھلے ہی نا ہو لیکن آپ اگر کوئی بڑا سپنا دیکھتے ہیں تو پھر یہ آپ کی آنکھوں کے سامنے ایسے مناظر پیش کرتا ہے کہ آپ اُن میں کھو کر حقیقی دُنیا سے بے گانے ہوجاتے ہیں۔ ریاست ِ مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والے ورُن برنوال (Varun Baranwal) نے بھی ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھا،حالانکہ مالی حالت تو ویسی نہ تھی،والد سائیکلیں سنبھالنے کی دوکان چلاتے تھے۔لیکن سپنے دیکھنے میں کون سا خرچہ لگتا ہے؟سپنے تو ہر کوئی دیکھ سکتا ہے خواہ امیر ہو یا غریب،کالا ہو یا گورا،عربی ہو یاعجمی۔
ورُن برنوال نے ڈاکٹر بننے کا خواب تو دیکھ لیا لیکن خواب توبہرحال خواب ہی ہوتے ہیں۔انسان سپنوں کی حسین دُنیا تو آباد کرتا ہے لیکن بعض اوقات حالات سپنوں کے اُس محل کو چکنا چور کردیتے ہیں ۔ورُن کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔دسویں کا امتحان دے رہے تھے اور والد بیمار ہوگئے۔امتحان ختم ہوا اور ابھی نتائج آنا باقی تھے کہ اُنہیں ایک ایسا حادثہ پیش آیا جس نے اُن کے سپنوں کے شیش محل کو چکنا چور کردیا۔اُن کے والد کا انتقال ہوگیا!اڑان بھرنے سے پہلے ہی اُن کے پرَ ٹوٹ گئے۔اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالنے کیلئے چار پیسوں کی ضرورت تھی اور ورُن نے فیصلہ کیا کہ اب وہ پڑھائی ترک کرکے والد کی دوکان چلائے گا۔ایک قلیل مدت کے اندر کیا سے کیا ہوگیا تھا۔ڈاکٹری کے خواب دیکھنے والا لڑکا اب پڑھائی چھوڑ کر والد کی چھوٹی سی دوکان چلانے نکلا تھا۔اُنہوں نے دوکان پر کام کاج شروع کیا۔ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا تھا کہ دسویں کے نتائج آگئے اور ورُن اپنے اسکول کے ٹاپر تھے۔وہ گھر پہنچ گئے تو اُن کے بقول وہاں سب رورہے تھے۔روتے بھی کیوں نا؟ایک عجیب صورتحال تھی،ایک طرف دسویں جماعت کے تابناک نتائج اونچی پروازبھرنے کی دعوت دے رہے تھے اور دوسری طرف حالات نے اُن کے پَر کاٹ ڈالے تھے۔ خیر اس موڑ پر ماں کی ممتا اُمڈ آئی اور اُن سے کہا گیا کہ تم پڑھائی جاری رکھو باقی کام ہم سنبھال لے گیں۔
اُنہیں پڑھائی جاری رکھنے کیلئے کہا تو گیا لیکن مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔نتائج آنے کے بعد اب گیارہویں جماعت میں داخلہ لینا تھا اور اُس کیلئے دس ہزار روپے بطورِ عطیہ (Donation) بھرنے تھے۔اپنی سائیکل کی دوکان پر والدہ کے ساتھ اسی کا رونا رورہے تھے اور اسی اثناء میں وہاں سے ایک ڈاکٹر کا گزر ہوا۔یہ وہی ڈاکٹر تھے جنہوں نے اُن کے والد کا علاج کیا تھا۔وہ اپنے بچے کا داخلہ کرانے جارہے تھے۔اُنہوں نے جب ورُن کو دوکان پر دیکھا تو رُک گئے اور اُ ن سے استفسار کیا کہ کیا چل رہا ہے؟ورُن نے اپنی صورحال سے آگاہ کیا اور اُن سے کہا کہ میں نے سوچ لیا ہے کہ میں پڑھائی نہیں کروں گا۔ڈاکٹر نے جیب سے فوراً پیسے نکال کر اُنہیں تھما دئے اور کہا کہ جاؤ، ایڈمیشن (admission) کرا کے آؤ اور اس طرح اُن کے داخلے کی سبیل ہوگئی۔
گیارہویں اور بارہویں اُن کی زندگی کے مشکل ترین سال رہے ہیں۔وہ صبح چھ بجے اٹھتے اور سات بجے کالج جاتے تھے۔وہاں سے ایک بجے لوٹ آتے ۔دو بجے سے رات کے دس بجے تک بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے تھے۔پھر دس بجے کے بعد اپنی دوکان پر جاتے اور وہاں حساب کتاب نپٹا کرواپس گھرلوٹ آتے تھے ۔واپس آنے کے بعد وہ پڑھائی کرتے تھے۔داخلہ تو اب ہوچکا تھا لیکن اب ماہانہ فیس کا معاملہ درپیش تھا۔اس کیلئے اُنہوں نے من بنا لیا تھا کہ میں وہ فیس نہیں بھروں گا۔اُن کا ارادہ تھا کہ وہ اچھے سے پڑھائی کریں گے اور اچھے نمبر لے کر آئے گے اور پھر اپنے پرنسپل سے درخواست کریں گے کہ میری فیس کو معاف کردیا جائے۔پہلے ہی مہینے اُنہوںنے اپنے سارے اساتذہ کو متاثر کیااور سب واقف ہوچکے تھے کہ اُن کی گھریلو صورتحال کیسی ہے۔اب ماہانہ فیس کا بندوبست بھی ہوگیا۔اُن کے دو برسوں کی فیس اُن کے اساتذہ نے ادا کی۔اب ایک مرتبہ پھر غور کیجیے کہ اگر اُن کی والدہ نے بھی ہار مان کر اپنی غریبی کا رونا رویا ہوتا تو وہ کہاں ہوتے؟خود اُنہوں نے تو پڑھائی چھوڑنے کا من بنا لیا تھا لیکن اُن کی والدہ نے ایک مسیحا کی طرح اُن کی ڈھارس بندھائی اور اُنہیں ہمت دی۔یہاں بھی ہم سب کیلئے یہی پیغام پنہاں ہے کہ’ہمت ِ مرداں مدد خدا‘ اور’مشکلات کے سامنے گھٹنے ٹیک کر ہار نہیں ماننی چاہیے‘ ۔مجھے اس بات کا بھرپور احساس ہے کہ بعض اوقات انسان پر ایسے مصائب آجاتے ہیں جن سے ابھرنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔مولیٰ سے ہمیشہ دست بدعا ہوکر سخت آزمائشوں سے پناہ مانگنی چاہیے۔مشکلوں کے سامنے گھٹنے نا ٹیک کر پامردی سے اُن کا مقابلہ کرنے کی مناسبت سے راقم نے ایک متاثر کُن مقرر (Motivational Speaker) کی زبانی ایک کہانی سُنی۔مجھے اس بات کا علم نہیں کہ وہ کہانی حقیقت پر مبنی ہے یا نہیں البتہ قارئین کی دلچسپی اور تحریک(Motivation) کیلئے راقم اُسے یہاںاپنے الفاظ میں قلم بند کرے گا۔
ایک بڑی آرٹ گیلری نے مصوری مقابلے(Painting competition) کا اعلان کیا اور کہا کہ ’’امن‘‘ کو ظاہر کرنے والی سب سے اچھی تصویر کو دس ملین ڈالر کا انعام دیا جائے گا۔اتنا بڑا انعام تھا اور ظاہر سی بات ہے کہ اس مقابلے میں دُنیا کے نہ جانے کتنے ہی مصوروں نے شرکت کی اور ایک سے بڑھ کر ایک پینٹنگ بنائی جن میں امن ہی امن جھلکتا تھا۔ان ساری تصاویر میں سے ایک سو کو شارٹ لسٹ کیا گیا اور اُنہیں نمائش کیلئے رکھا گیا۔ان سو میں سے ساری ایک سے بڑھ کر ایک تھیں ۔جب اُن کی نمائش ہوئی تو بعض کی طرف لوگ کچھ زیادہ ہی مائل ہوئے۔یہ ایسی تصاویر تھی جن کی طرف دیکھ کر ہی انسان کو ذہنی سکون ملتا تھا کیونکہ اُن میں شورش تھی اور نہ کوئی طلاطم۔ان میں ایسا سکوت تھا علامہ اقبالؒ کے اس شعر کی بخوبی عکاسی ہوتی تھی ؎
شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو
کانٹے کی ٹکر تھی اور منصفوں کیلئے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ کس تصویر کو انعام کیلئے منتخب کیا جائے۔بہرحال فیصلے کی گھڑی آہی گئی اور اُن سب میں سے ایک پینٹنگ کو انعام کیلئے چنا گیا۔نہ جانے کتنے ہی لوگ،مصور اور صحافی اُس شاہکار کو دیکھنے کے منتظر تھے اور بالآخر جب اُسے اُن سب کے سامنے پیش کیا گیا، وہ حیران ہوگئے اور ایک دوسرے کا منہ تکنے لگ گئے۔حیرت کی وجہ یہ تھی کہ جس تصویر کو چُنا گیا تھا اُس سے امن ظاہر ہی نہیں ہوتا تھاجو کہ بنیادی شرط تھی۔بعض مصور آرٹ گیلری کے مالک کے پاس گئے اور اُن سے اس بارے میں استفسار کیا کہ کہیں کوئی غلطی تو نہیں ہوئی ہے؟اُنہوں نے جواباً کہا کہ نہیں کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے اور اسی پینٹنگ کو انعام ملے گا۔اس پریہ بھڑک گئے۔اتنے میں صحافی بھی اُس کے پاس آئے کہ یہ کیا ماجرا ہے؟اس پر اُس نے جواباً کہا کہ اس سے قبل کہ آپ مجھ سے کچھ کہیں،اس پینٹنگ کو غور سے دیکھ لیجیے۔پینٹنگ کیا تھی،آندھی ،گرج اور طوفان کی عکاسی اور ان سب چیزوں سے ظاہر سی بات ہے کہ امن ظاہر نہیں ہوتا۔خیر اُنہیں غور سے دیکھنے کی تاکید کی گئی اور ساتھ ہی کہا گیا کہ ایک چیز تو آپ نے دیکھ لی کہ تصویر میں آندھی ہے،طوفان ہے،بجلی چمک رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس تصویر میں ایک چھوٹا سا گھر بھی ہے،جس کی ایک چھوٹی سی کھڑکی سے ایک آدمی باہر جھانک رہا ہے۔آندھی ،بجلی اور طوفان کے باوجود اُس کے چہرے پر ڈر نہیں بلکہ مُسکان اور سکون ہے۔باہر کیسے بھی حالات ہوں لیکن ان حالات کے باوجود بھی آپ کا پُر سکون رہنا ہی اصل شانتی ہے۔ورُن برنوال کی زندگی میں بھی آندھیاں اور طوفان تھے لیکن وہ منزل پر منزل طے کرتے گئے۔
بارہویں کے بعداُنہوں نے CETیعنی Common Entrance Testدیا اور وہاں بھی وہ سرخرو ہوئے۔اُنہیں 200میں سے 180نمبرات حاصل ہوئے۔اس کامیابی کے بعد اب اُنہیں انجینئرنگ میں داخلہ لینا تھا ۔انجینئرنگ کیلئے اچھی خاصی رقم درکار تھی۔فرسٹ ائیر(First Year) میں ایک لاکھ کا خرچہ آتا تھا۔دوبرسوں میں ماں نے پیسے جمع کیے تھے،اپنی بھی کمائی تھی اور بہن بھی کماتی تھی۔ان سارے وسائل سے فرسٹ ایئر کا بندوبست ہوگیا۔یہاں بھی اُنہوں نے اپنا لوہا منوایا اور ٹاپر آگئے۔فرسٹ ائیر کا انتظام تو ہوگیا تھا لیکن اب آگے کیاکرتے؟اس کی بھی سبیل نکل آئی۔جب وہ ٹاپر آئے تو ایک اُستانی نے اُن سے رابطہ کیا ۔اُنہیں ورن کی ساری صورتحال سے آگہی ملی تو اُنہوں نے اس حوالے سے ادارے کی باقی انتظامیہ کو لکھا ۔مگر چونکہ یہ ایک طویل سلسلہ تھا،اس لئے اُن کے سال دوم کی فیس اُن کے دوستوں نے ادا کی اور پھر تھرڈ ائیر میں اُستانی کی کاوشیں رنگ لائی اور اس طرح اُن کی انجینئرنگ مکمل ہوئی۔اب نوکری ملنی تو آسان تھی لیکن اُنہوں نے نوکری نہیں کی بلکہ مختلف مرحلوں سے گزرتے گزرتے اُن سے بالآخر سیول سروسز کرنے کی تاکید کی گئی۔اُنہوں نے بھی حامی بھرلی ۔اب بھی راہیں آسان نہ تھی۔پرلمز میں چار ہی ماہ بچے تھے لیکن اس کے باوجود بھی وہ پڑھائی میں جٹ گئے۔اُنہوں نے پرلمز دیا تو اُن کی محنت رنگ لائی اوروہ مینز کیلئے منتخب ہوگئے۔مینز کا امتحان دیا تو دو پرچوں میں گڑ بڑ ہوئی اوروہ کم ہی لکھ پائے۔جب نتائج آئے تو اُنہیں پیغام بھیجا گیا کہ ’مبارک ہو‘۔وہ سرخرو ہوچکے تھے۔جو لڑکا پڑھائی چھوڑ کر اپنی چھوٹی سی دوکان چلانے نکلا تھا،وہ اب مصائب و مشکلات سے لڑ کر آئی اے ایس افسر بن چکا تھا۔اب اپنی آنکھیں بند کرکے اپنے آپ سے پوچھیں کہ جب یہ اتنی مشکلات اور اتنے مصائب کے باوجود سیول سروسز میں کامیاب ہوسکتے ہیں تو میرے قدموں کو کون جکڑ سکتا ہے؟
پتہ۔برپورہ پلوامہ کشمیر
ای میل۔[email protected]