گاندربل//سینٹرل یونیورسٹی کشمیرمیں قانون میں آنرز،سائبرسیکورٹی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ اوراردوصحافت میں ڈپلومہ سمیت نئے کورسزمتعارف کرائے جارہے ہیں جبکہ وتہ لار گاندربل میں یونیورسٹی کوحکومت کی طرف سے فراہم کی گئی 94.6 کنال اراضی پر لڑکوں اورلڑکیوں کیلئے ہوسٹل اور ملازمین کیلئے رہائشی کوارٹرتعمیر کئے جائیں گے۔ان باتوں کااظہارسینٹرل یونیورسٹی کشمیرکے وائس چانسلر پروفیسر معراج الدین نے یونیورسٹی کی ساتویں پلاننگ ومانیٹرنگ اوراٹھارہ ویں بلڈنگ کمیٹی کی مشترکہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پروفیسر معراج الدین نے کہا کہ یونیورسٹی میں شعبہ ہندی کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے جبکہ باٹونی اور کیمسٹری میں پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں داخلہ ہوچکاہے اورکشمیری کورسزپرکام جاری ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ ان پروگراموں کواکیڈمک کونسل نے پہلے ہی منظوری دیدی ہے اوران کا آغاز موجودہ تعلیمی سیشن سے کیاجائے گا۔میٹنگ میں رجسٹرار سنٹرل یونیورسٹی کشمیر پروفیسر ایم افضل زرگر ، امتحانات کے کنٹرولر پروفیسر پروین پنڈت ،شعبہ ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے سربراہ پروفیسر جی ایم بٹ ، فائنانس آفیسر پروفیسر فیاض اے نکہ، ڈائریکٹر ، اندرونی کوالٹی اشورینس سیل پروفیسر فاروق اے شاہ، شعبہ اسکولوں کے سربراہ ، متعدد شعبوں کے ماہر انتظامی افسران آف لائن اور آن لائن موجود تھے۔پروفیسر معراج الدین نے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر نے وتہ لار گاندربل کے مقام پر یونیورسٹی کو اضافی 94.6 کنال اراضی فراہم کی ہے.جسے یونیورسٹی نے اپنے قبضہ میں لے لیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس اراضی کو رہائشی کوارٹر کی تعمیر کے لئے استعمال کیا جائے گا جس میں لڑکوں اور لڑکیوں کے ہاسٹل بھی شامل ہیں اور ملازمین کے لئے رہائشی ڈھانچے بھی شامل ہیں۔پروفیسر معراج الدین میر نے اس سلسلے میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، مشیران برائے لفٹیننٹ گورنر، ڈویژنل کمشنر کشمیر ، ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل ، اور ضلع انتظامیہ گاندربل کاان کے مکمل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلی مرحوم مفتی محمد سعید کے ذریعہ یقین دہانی کے بعد اضافی اراضی حاصل کرنے کے لئے مسلسل کوشش کی جارہی تھی۔وائس چانسلر نے نئی تعلیمی پالیسی 2021 کو اپنانے ، ای گورننس منصوبے پر عمل درآمد ، اور ڈیزائن اینڈ انوویشن سینٹر منصوبے پر پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔