کشتواڑ//سینئر سٹیزن کونسل کشتواڑ کی جانب سے ایک اجلاس منعقد کیا گیا ،جس میں ضلع ترقیاتی کمشنر اور سینئر سپرانٹنڈنٹ آف پولیس کی عزت افزائی کی گئی ۔کونسل نے گُذشتہ 6مہینوں سے ان دونوں کی ضلع میں تعیناتی کے بعد پولیس اور سول انتظامیہ کی حاصل کی گئی کار کردگیوں کاشمار کیا۔اس موقعہ پر کونسل کے صدر روشن لعل پریہار نے کہا کہ جب سے ڈی سی انگریز سنگھ رانا اور ایس ایس پی ابرار چودھری نے ضلع م،یں چارج سنبھال لیا ہے، تب سے جوابدہی، سرعت سے کام کرنے، اور رشوت سے پاک ضلع سول و پولیس کا ہال مارک ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ددفاتر میں ملازموں کی حاضری اور سرکاری کام میں سرعت سے کاروائی کرنے کے علاوہ ضلع کے عوام کے ساتھ رسائی قابل ستائش ہے۔انہون نے کہا کہ عوامی درباروں کے دوران جاری پروجیکٹوںن پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے دوران نئے ترقیاتی پروجیکٹوں کی پہل قابل ستائش ہے۔کونسل نے ایس ایس پی کی جانب سے ضلع پولیس میں تیزی سے کام کرنے اور پولیس اور عوام کے درمیان خلیج کو کم کرنے میں انجام دی گئی کاروائیوںکی بھی سراہناکی۔کونسل نے پولیس کی جانب سے سماج سے جرائم خصوصاً منشیات کی بدعت کو ختم کرنے میں انجام دی گئی کاروائیوںکی بھی سراہنا کی۔انہوں نے کہا کہ جب سے پولیس نے منشیات سمگلروں کے خلاف کمر کس لی تب سے منشیات فروش خوف زدہ ہوئے ہیں۔کونسل نے تجاوزات کو ہٹانے میں بھی انتظامیہ کی ستائش کی گئی اور کہا گیا کہ اس سے بازاروں میں بھیڑ بھاڑ کو کم کرنے میں مدد مل گئی ہے۔ کونسل نے منجانب ضلع عوام ایس ایس پی اور انکی ٹیم کو ایک مقامی تاجر اشتیاق احمد دار کے سنسنی خیز قتل کو ریکارڈ وقت میں حل کرنے پر بھی مبارک باد دی اور کہا کہ اس سے ضلع پولیس نے عوام کا اعتماد حاصل کیا ہے۔انہوں نے ایس ایس پی سے اپنی کامیابیوں کی رفتار کو برقرار رکھنے کی اپیل کی، تاکہ پُرانے کیس جیسے کہ سرتھل بینک لوٹ، اور ہدیا چوک کار بلاسٹ کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔انہوں نے ضلع عوام کی جانب سے پولیس و سول انتظامیہ کو مکمل تعاون دینے کا یقین دلایا ۔اس موقعہ پر دیگر افسروں کے علاوہ اے سی آر کیسر احمد بھوانی، چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر مجیدبٹ اور چیف پلاننگ افسر یاصر بلوان بھی موجود تھے جبکہ سینئر سٹیزن کونسل کے صدر اوردیگر کارکنوں کے علاوہ جن معزز شخصیات نے خطاب کیا اُن میں مدن لعل، روشن لعل سین، محمد اقبال شیخ، بشیر احمد مغل، محمد اقبال لون،دیوان چند، رچھپال سنگھ، کوشی رام اور کے کے شرما بھی شامل تھے۔