یواین آئی
نیویارک/ڈھاکہ/بنگلہ دیشی کرکٹ کے مایہ ناز کھلاڑی شکیب الحسن، جو اگست 2024 میں عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک سے باہر ہیں، نے پہلی بار اپنی واپسی، قانونی پیچیدگیوں اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر کھل کر بات کی ہے ۔ 39 سالہ کرکٹر نے واضح کیا کہ ان کی پہلی ترجیح کرکٹ کے میدان میں واپسی ہے ، جبکہ سیاست وہ “مرتے دم تک” کر سکتے ہیں۔تقریباً دو سال سے ملک سے دور شکیب الحسن نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ اپنے وطن کو شدید یاد کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا “قانونی عمل شروع ہو چکا ہے ۔ میں ان مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں تاکہ بنگلہ دیش واپس جا سکوں۔
اگر بی سی بی ان معاملات میں میری بہتر مدد کرتا تو شاید حل جلد نکل آتا۔شکیب نے ڈھاکہ پریمیئر لیگ (ڈی پی ایل) کی معطلی اور بورڈ و کلبوں کے درمیان جاری کشمکش پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس “طاقت کی جنگ” میں صرف کھلاڑی پس رہے ہیں۔ شکیب کے مطابق، ہر کوئی صرف کرسی اور طاقت کے پیچھے بھاگ رہا ہے ، کسی کو کھلاڑیوں کے مالی اور پیشہ ورانہ نقصان کی فکر نہیں ہے ۔ انہوں نے گزشتہ حکومت کے فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی غلطیوں کی وجہ سے بنگلہ دیش ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ سے محروم رہا، جو بہت سے کھلاڑیوں کے لیے عمر بھر کا پچھتاوا رہے گا۔سابق رکن پارلیمنٹ ہونے کے ناطے شکیب نے اپنی سیاسی وابستگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی پرامید ہیں کہ ملک میں حالات نارمل ہوں گے اور تمام جماعتوں کو برابر کے مواقع ملیں گے ۔ انہوں نے وزیراعظم طارق رحمان کے اس مشورے پر کہ “پیشہ ور کھلاڑیوں کو سیاست سے دور رہنا چاہیے ” تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی ذاتی رائے کا احترام کرتے ہیں۔