ٹی ای این
سرینگر//وادی کی کاروباری انجمنوں نے جموں و کشمیر میں سیاحتی مقامات کی دوبارہ بحالی کے حکومتی فیصلے کا زبردست خیرمقدم کرتے ہوئے اسے آنے والے سیاحتی سیزن سے قبل ایک بروقت اور مثبت قدم قرار دیا ہے۔اپنے ایک بیان میں سی سی آئی کے کے صدر طارق غنی نے انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سیاحتی مقامات کی بحالی سے نہ صرف مثبت پیغام جائے گا بلکہ سیاحت سے وابستہ تمام طبقوں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ انہوں نے اس فیصلے پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔طارق غنی نے کہا کہ یہ قدم سیاحوں، ٹریول ایجنسیوں، ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹروں، شِکارہ والوں اور دیگر متعلقہ شعبوں کے لیے انتہائی حوصلہ افزا ہے۔ ان کے مطابق ہزاروں خاندانوں کا روزگار براہِ راست اور بالواسطہ سیاحت سے جڑا ہوا ہے، جسے حالیہ مہینوں میں شدید نقصان اٹھانا پڑا۔انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ سیاحت کے فروغ اور سیاحتی مقامات کی بحالی کے لیے ان کی مسلسل کوششوں نے صنعت سے وابستہ افراد کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔دوسری جانب کے سی سی آئی صدر جاوید ٹینگا نے کہا کہ چیمبر کافی عرصے سے حکومت سے مطالبہ کر رہا تھا کہ ان سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھولا جائے جو پہلگام میں پیش آئے واقعے کے بعد بند کر دیے گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے اعلان کے مطابق کشمیر ڈویژن میں فوری طور پر 11 سیاحتی مقامات دوبارہ کھول دیے گئے ہیں، جن میں یوسمرگ، دودھ پتھری، کوکرناگ کا ڈنڈی پورہ پارک، پیر کی گلی، شاپیاں کے دبجن اور پدپاون، استن پورہ، اندرا گاندھی میموریل ٹیولپ گارڈن، تھجواس گلیشیئر، گاندربل کا ہنگ پارک اور بارہمولہ کے وْلر و وٹلاب شامل ہیں۔چیمبر کے مطابق ان مقامات کی بحالی سے ملک و بیرونِ ملک سے آنے والے سیاحوں کو یہ یقین دہانی ملے گی کہ جموں و کشمیر ایک محفوظ اور پْرکشش سیاحتی خطہ ہے۔