سرینگر//جموں و کشمیر لیفٹیننٹ گورنر کے صلاح کار فاروق احمد خان نے کہا ہے کہ فارغ کئے گئے کہا کہ محکمہ کام کر رہے ’’ آئی سی ڈی ایس سپر وائرس ہیلپر س‘‘ کے پاس تقرری کا کوئی آرڈر نہیں ہے ، تاہم حکومت نے متعلقہ محکمہ میں ہیلپروں کی تقرریوں کیلئے ایک نئی اسکیم بنائی ہے ، جہاں ان میں سے تعلیم یافتہ ہیلپروں کو ترجیح دی جائے گی۔سرینگر میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ، خان نے کہا کہ ان تمام(918)ہیلپروں کی تقرریاں چور دروازے کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھیںکیونکہ ان میں سے کسی کے پاس کوئی تقرری کا حکم نامہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا’’ہم پچھلے ایک سال سے کسی نہ کسی طرح ان کو(ایڈجسٹ) کرنے کی کوشش کر رہے تھے ، لیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ کسی کے پاس تعیناتی کیلئے کو ئی آ ٓرڈر نہیں ہے اور اب ہم نے متعلقہ محکمہ میں اسامیوں کو وجود میں لانے کی اسکیم بنائی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ محکمہ میں جب تقرریوں کا عمل شروع کیا جائیگا تو ان ہیلپروں میں سے جو بھی تعلیم یافتہ ہونگے وہ بھی تققریوں کے عمل میں شریک ہوسکتے ہیں جہاں اہل ہیلپروں کو تجربہ کی بنیاد پر انٹر ویو میں اضافی نمبر دیئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس طریقہ کار کے ذریعے ان میں سے بہت سے محکمہ میں واپس آ جائیں گے۔فاروق خان نے زور دیا کہ وہ کسی بھی قسم کے احتجاج کا انتخاب نہ کریں کیونکہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ جموں و کشمیر میں کوئی بھی بے روزگار نہ رہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ خاص طور پر 5اگست 2019 کے بعد کسی کے ساتھ کوئی غلط کام نہیں ہوا ہے اور اگر کوئی غلط ہو رہا ہے تووہ ماضی میں ان لوگوں کی غلطیوں کی وجہ سے ہوا جنہوں نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو بیوقوف بنایا تھا۔ فاروق احمدخان نے کہا کہ جموں کشمیر گزشتہ31برسوں میں اتنا پرامن پہلے کبھی نہیں تھا جتنا آج ہے۔