۔9سال سے زائد کا عرصہ گذرگیا، نئے بلاک کی تعمیر تشنہ تکمیل
پرویز احمد
سرینگر // سپر سپیشلٹی ہسپتال شرین باغ کی سپر سپشیلٹی یہ ہے کہ یہاں او پی ڈی کیلئے کوئی جگہ متعین نہیں ہے اور نہ تشخیصی ٹیسٹوں کیلئے کوئی جگہ دستیاب ہے۔ بلکہ یہاںجی ایم سی انتظامیہ نے ایک ہال کو ٹین کی چادروں سے چھوٹے چھوٹے کمروں میں تقسیم کیا ہے جہاں ڈاکٹر مریض کا علاج کرتے ہیں جبکہ تشخیصی ٹیسٹوں کیلئے بلا لحاظ عمر و جنس صدر ہسپتال کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ نیا او پی ڈی بلاک 9سال سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی مکمل نہیں ہوسکا ہے۔ 2009سے قبل شرین باغ میں قائم کئے گئے ٹروما ہسپتال کیلئے بنائی گئی بلڈنگ کو 2011میں سپر سپیشلٹی ہسپتال میں تبدیل کیا گیا لیکن ہسپتال میں او پی ڈی کی سہولیات دستیاب تھی نہ عملے کیلئے بیٹھنے کی جگہ اور فیکلٹی کیلئے خصوصی کمروں کی گنجائش موجود ہے۔ آج بھی مریضوں کو تشخیصی ٹیسٹوں، اوردیگر شعبہ جات میں صدر ہسپتال کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔سپر سپیشپلٹی میں امراض قلب، نیرولوجی اور نیرو سرجری، میڈیکل اور سرجیکل آنکولوجی، انڈوکرائنولوجی، پلاسٹک سرجری اور شعبہ ہیمٹولوجی سمیت دیگر شعبہ جات کام کررہے ہیں ۔ سال 2011سے 2016تک ہسپتال آنے والے مریضوں کی تعداد روزانہ 100سے 1500ہوگئی ۔ رش بڑھنے کے بعد انتظامیہ سال 2015میں نئے او پی ڈی بلاک، تشخیصی مراکز اور ڈاکٹروں کیلئے فیکلٹی کمروں کیلئے ہسپتال کے خالی پڑے زمین پر نیا بلاک تعمیر کرنے کیلئے منصوبہ سرکار کو بھیجا گیا ۔ حکومت نے 2016میں 14.51کروڑ روپے کی لاگت سے نیا او پی ڈی بلاک تعمیر کرنے کو منظوری دی ،جو تقریباً9سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی مکمل نہ ہوسکا اور ابھی بھی 20فیصد کام باقی ہے۔ 2016میں میڈکل کالج انتظامیہ نے او پی ڈی، تشخیصی سہولیات اور ڈاکٹروں کیلئے خصوصی کمرے تعمیر کرنے کیلئے نئی بلڈنگ کی تعمیر پر کام شروع کیا لیکن جس جگہ پر تعمیر کا کام شروع کیا ، اسی جگہ پر ایک مقامی تاجر نے زمین پر قبضہ کرکے وہاں کی زمین پر مالکانہ حقوق حاصل کرنے کیلئے عدالت عالیہ میںکیس دائر کردیا ۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کی انتظامیہ کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کالج انتظامیہ نے غلط دعویٰ کو نکارنے میں 8سال کا عرصہ لگایا اور24اگست 2022میں عدالت میں دعویٰ کو غلط قرار دیکر زمین پر تعمیر کام کام شروع کیا گیا ۔ بلڈنگ پر پلاسٹر اوراندر سے سفید رنگ بھی کیا گیا لیکن پھر ایک مرتبہ نامعلوم وجوہات کی وجہ سے کام روک دیا گیا جو ابھی بھی بند پڑا ہے۔ اکتوبر 2024کو اسوقت کے ڈپٹی کمشنر سرینگر نے ہسپتال کی زیر تعمیر بلڈنگ کو فورا ًمکمل کرنے کی ہدایت دی تھی تاہم کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ سپر سپیشلٹی ہسپتال کی میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر ربینہ شاہین نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’بلڈنگ کی تعمیر کا کام آر اینڈ بی کو دیا گیا ہے اور بلڈنگ ابھی بھی ا نہیں نہیںسونپی گئی ہے کیونکہ اس میں ابھی بھی 20فیصد کام باقی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ڈیڈ لائن کیا ہے ، ہمیں اس بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔