ایف سی آئی کے کا جموں و کشمیر حکومت سے مطالبہ
سرینگر// فیڈریشن آف چیمبرز انڈسٹریز کشمیر نے حکومت سے پرزور اپیل کی ہے کہ سٹون کرشنگ (پتھر توڑنے) کے شعبے کو باضابطہ طور پر بنیادی انفراسٹرکچر سے وابستہ صنعت کا درجہ دیا جائے اور اس کیلئے ایک جامع، واضح اور پائیدار پالیسی نوٹیفائی کی جائے۔تنظیم کے مطابق یہ شعبہ اس وقت شدید غیر یقینی صورتحال اور’وجودی بحران‘ سے دوچار ہے۔ایف سی آئی کے نے ایک بیان میں کہا کہ وادی بھر میں تقریباً ایک ہزار کے قریب اسٹون کرشر یونٹ کام کر رہے ہیں، تاہم غیر واضح ضابطہ جاتی نظام، وقتی کارروائیوں اور غیر مستقل نفاذ نے اس صنعت کو مسلسل عدم تحفظ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ تنظیم نے زوننگ، منتقلی (ری لوکیشن) اور خام مال کی یقینی فراہمی پر مشتمل ایک علیحدہ اسٹون کرشر پالیسی کی ضرورت پر زور دیا۔چیمبر کے مطابق موجودہ نظام میں صوابدیدی اور غیر مربوط کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جنہیں شفاف، ضابطہ پر مبنی اور ادارہ جاتی گورننس سے بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔
ایف سی آئی کے نے مطالبہ کیا کہ عدالتی اور انتظامی احکامات پر صرف کاغذی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی عمل درآمد کیا جائے اور پالیسی سازی و نگرانی میں تمام متعلقہ فریقین کو شامل کیا جائے۔تنظیم نے اس شعبے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اسٹون کرشنگ سڑکوں، پلوں، سرنگوں، ریلوے منصوبوں، رہائشی اسکیموں، بجلی گھروں اور دیگر بڑے تعمیراتی منصوبوں کی بنیاد ہے۔ اس صنعت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور تعمیراتی لاگت میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ ساتھ ہی یہ شعبہ براہ راست اور بالواسطہ طور پر دسیوں ہزار افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے، اس لیے پالیسی استحکام نہایت ضروری ہے۔ایف سی آئی کے نے نشاندہی کی کہ اسٹون کرشنگ کو آلودگی کنٹرول فریم ورک میں ’’اورنج کیٹیگری‘‘ میں رکھا گیا ہے، جو اس بات کی تصدیق ہے کہ سائنسی حفاظتی اقدامات کے ساتھ یہ سرگرمی ماحول دوست انداز میں چلائی جا سکتی ہے۔ تاہم مخصوص زونز کی عدم موجودگی کے باعث یونٹس بے ترتیب انداز میں قائم ہوئے، جس سے سخت سائٹنگ اصولوں پر عمل درآمد مشکل ہو گیا اور یونٹس بار بار پولوشن کنٹرول کمیٹی (PCC) کی نوٹسوں اور بندشوں کی زد میں آ گئے۔تنظیم نے یاد دلایا کہ ہائی کورٹ کی ہدایات اور چیف سیکریٹری سمیت اعلیٰ انتظامیہ کی جانب سے اسٹون کرشر زونز کے قیام پر زور دیا جا چکا ہے، مگر ان پر عمل نہیں ہوا۔ ایف سی آئی کے کے مطابق اس تاخیر نے ایک قانونی صنعت کو شدید بحران میں دھکیل دیا ہے اور نجی سرمایہ کاری کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔خام مال کی قلت کو ایک اور سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے ایف سی آئی کے نے کہا کہ 2019 سے اوور گراؤنڈ کوئریز پر عائد پابندیوں، جو پہلے 80 فیصد طلب پوری کرتی تھیں، اور مائنر منرل بلاکس کی محدود نیلامی نے مصنوعی قلت پیدا کی ہے، جس کے نتیجے میں اجارہ داری، کارٹلائزیشن اور قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ایف سی آئی کے نے مطالبہ کیا کہ ماحولیاتی نگرانی کے سخت نظام کے تحت نالوں اور دریائی علاقوں سے محدود اور منظم نکاسی کی اجازت دی جائے، جبکہ شفافیت کے لیے فاسٹ ٹیگ، جی پی ایس ٹریکنگ اور چیک پوسٹس جیسے نظام نافذ کیے جائیں۔آخر میں چیمبر نے واضح کیا کہ اسٹون کرشر صنعت کسی رعایت یا استثنا کی طالب نہیں، بلکہ منصفانہ ضابطہ کاری، پالیسی وضاحت اور طویل مدتی استحکام چاہتی ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صنعتی زوال، روزگار کے نقصانات، تعمیراتی لاگت میں اضافہ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔