سوپور+اننت ناگ +بڈگام // سوپور کے کئی علاقوں اور کنہ دجن چرار شریف میں پینے کے پانی کی قلت کے نتیجے میں لوگوں کوسخت مشکلات کا سامنا ہے جبکہ میر میدان ڈورو میں لوگوں نے جل شکتی محکمہ کے خلاف احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے پانی کی سپلائی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ۔سوپور کے شہاب آباد،خوشحال متو ، سنگرام پورہ اور بٹہ پورہ علاقوں میں لوگ محکمہ جل شکتی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ انہیں پینے کے پانی کی سخت قلت کا سامنا ہے لیکن حکام یاد دہانیوں کے باوجود پانی کی سپلائی یقینی بنانے میں ناکام ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ وہ اس معاملے کوکئی بار متعلقہ محکمہ کی نوٹس میں لاچکے ہیں لیکن ان کی درخواستوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں تاکہ انہیں پینے کا صاف پانی مہیا ہو سکے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پانی کا بحران ان علاقوں کا ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ڈورو میں لوگوں نے پینے کے پانی کی عدم دستیابی کے پیش نظرجل شکتی محکمہ کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا ۔ میرمیدان علاقے میں اتوار کو مقامی لوگوں نے سڑک پر نکلنے کے بعد زور دار احتجاجی دھرنا دیا۔احتجاجی لوگوں کا کہنا تھا کہ علاقے میں پینے کی پانی کی شدید قلت ہے اور انہیں طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ احتجاج میں شامل بار ایسو سی ایشن ڈورو کے صدر میر محمد حسین نے بتایاکہ سال 2014میں پانی کی قلت کو دور کرنے کے لئے 8اینچ پائپ بچھائی گئی تاہم نا معلوم وجوہات کی بنا پر اس پائپ لائن سے لوگوں کوپانی فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔احتجاج میں شامل لوگوں نے بتایا کہ انہیں آج تک خالی یقین دہانیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ملا ۔ لوگوں نے بتایاکہ اس پائپ لائن کے چالو کرنے سے انہیں پانی کی قلت دور ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے حکام سے اس بارے میں مداخلت کی اپیل کی ہے ۔ چرارشریف کے دور افتادہ گاؤں کنہ دجن میں گزشتہ کئی ہفتوں سے پینے کے پانی کی سخت قلت پائی جارہی ہے اور لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ انہیں گرمی کے ان ایام میں گوناگوں مسائل کا سامنا ہے۔مقامی شہری اور شاعر غلام رسول جوش نے بتایا کہ پینے کے پانی کی عدم دستیابی کے نتیجے میں گاؤں میںصورتحال انتہائی سنگین ہے۔اس سلسلے میں ایگزیکٹیو انجینئر جل شکتی محکمہ سب ڈویژن چرار شریف جان مسعود نے بتایا کہ وہ گاؤں میں پینے کے پانی کی معقول سپلائی ممکن بنانے کیلئے مؤثر کارروائی عمل میں لائیں گے۔ مقامی لوگوں نے ایل جی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گاؤں میں پینے کے پانی کی سپلائی بحال کرنے کیلئے اقدامات کرائیں ۔کے این ایس
زنڈفرن بارہمولہ
فلٹریشن پلانٹ 12 برسوںسے تشنۂ تکمیل
فیاض بخاری
بارہمولہ//ضلع بارہمولہ کے ز م زم پورہ زنڈفرن نارواو علاقے میں12سال سے ایک فلٹریشن پلانٹ زیر تعمیر ہے جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو ندی نالوں کا آلودہ پانی استعمال کرنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگوں نے جل شکتی محکمہ پر الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ فلٹریشن پلانٹ پرنا معلوم وجوہات کی بنا پر کام ادھو راچھوڑا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ گائوں کوبراہ راست ایک ندی سے سپلائی کیا جارہا ہے جو بالکل پینے کے قابل نہیں ہو تا ہے اور بارشوں کے دوران پانی زیادہ ہی ناصاف ہوتا ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ اگر چہ اس سلسلے میں کئی بار متعلقہ حکام کو مطلع کیا گیاتاہم انہوں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔لوگوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ فلٹریشن پلانٹ جلد از جلد مکمل کرکے عوام کے نام وقف یا جائے ۔ اس سلسلے میں متعلقہ محکمہ کے ایک افسر نے بتایا کہ دراصل فلٹریشن پلانٹ کیلئے درکار رقومات کی واگزاری میں دیری کی وجہ سے پلانٹ پر کام رکا پڑا ہے ۔اننہوں نے کہا کہ رقومات کی واگزاری کیلئے سرکار کو فائل روانہ کی گئی ہے اور اُمید ہے کہ جلد ہی رقومات فراہم کئے جائیں گئے اور کام دوبارہ شروع ہو گا ۔