ٹی ای این
سرینگر/ /بھارت میں سونے کے عوض دیے جانے والے قرضوں (گولڈ لون) کے شعبے میں ایک تشویشناک رجحان سامنے آیا ہے جہاں بڑے اور متعدد قرض لینے والے افراد میں ادائیگی میں تاخیر (ڈیفالٹ) کی شرح بڑھ رہی ہے۔ اس صورتحال نے مالیاتی اداروں کے لیے کریڈٹ رسک میں اضافہ کر دیا ہے۔کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی یونین ٹرانس یونین ( CIBIL) کی تازہ رپورٹ کے مطابق وہ صارفین جو زیادہ مالیت کے یا بیک وقت کئی گولڈ لون حاصل کر رہے ہیں، اپنی مالی استطاعت سے بڑھ کر قرض لے رہے ہیں، جس کے باعث ادائیگی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت گولڈ لون مارکیٹ میں بظاہر تیزی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ قرض لینے والوں کی جانب سے زیادہ ایکسپوژر لینا ایک خطرناک رجحان بنتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ایسے صارفین جو مختلف مالیاتی اداروں سے بیک وقت قرض لیتے ہیں، ان میں ڈیفالٹ کا امکان زیادہ دیکھا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق سونے کے قرضے عموماً محفوظ سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان کے بدلے سونا رہن رکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی قرض دار رقم واپس نہیں کر پاتا تو بینک یا این بی ایف سی ادارے اس سونے کو نیلام کر کے اپنی رقم وصول کر لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے ادارے مکمل نقصان کے خدشے کو کم سمجھتے ہیں۔تاہم، بڑھتے ہوئے ڈیفالٹ کیسز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عام لوگوں پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے اور وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ قرض لینے پر مجبور ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف بینکاری نظام کے لیے چیلنج بن سکتا ہے بلکہ معیشت میں غیر یقینی صورتحال کی بھی عکاسی کرتا ہے۔مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرض دہندگان کو چاہیے کہ وہ بڑے اور متعدد قرض لینے والوں کے لیے سخت جانچ پڑتال (کریڈٹ اسیسمنٹ) کریں اور ذمہ دارانہ قرض فراہمی کے اصولوں پر عمل کریں تاکہ مستقبل میں کسی بڑے مالی بحران سے بچا جا سکے۔