کنگن// سیاحتی مقام سونہ مرگ میں ہفتہ کے آخری دنوں میں مقامی و غیر مقامی سیاحوں کی آمد سے ہر سو چہل پہل دیکھنے کو ملی جبکہ ہوٹل مالکان اور سیاحتی شعبے سے وابستہ لوگوں نے سیاحوں کی آمد کو نیک شگون سے تعبیر کرتے ہوئے امید ظاہر کی سیاحوں کی آمد سے ٹوراِزم انڈسٹری کی جان میں جان آجائے گی۔ سرینگر سے100کلو میٹر دوری پر واقع معروف سیاحتی مقام سونہ مرگ میں گزشتہ ایک ماہ سے سیاحوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا اور اس میںروز افزوں میں اضافہ ہو رہا ہے،جس کے نتیجے میں گزشتہ دو برسوں سے بے کار بیٹھے ہوٹل مالکان،مرکبان اور سیاحتی شعبے سے وابستہ دیگر لوگوں کے دلوں میں یہ امید جگہ کر گئی ہے کہ خستہ حال سیاحتی انڈسٹری پھر ایک بار پٹری پر آئے گی۔ سیاحتی شعبے سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ امسال سونہ مرگ کو روایت سے ہٹ کر2ماہ قبل ہی کھول دیا گیا تھا،جس دوران سیاحوں نے اس سیاحتی مقام کی خوبصورتی دیکھنے کیلئے یہاں آنے کا سلسلہ شروع کردیا تھااور انہوں نے یہ امید باندھ رکھی تھی گزشتہ2برسوں سے اس شعبے کو ہوئے خسارے کی بھر پائی بھی ہوگی۔انہوں نے تاہم کہا کہ کویڈ کیسوں میں اضافے کے نتیجے میں بندشوں اور لاک ڈاﺅن کے دوران دیگر سیاحتی مقامات کی ہی طرز پر سونہ مرگ کو بھی مقامی و غیر مقامی سیاحوں کیلئے بند کیا گیا اور وہ بہت مایوس ہوگئے۔ بیوپار منڈل سونہ مرگ کے سرپرست اعلیٰ گل محمد وار نے کہا کہ سونہ مرگ میں سیاحتی شعبے سے وابستہ لوگوں کی تجارت کا بہت سارا درمدار امرناتھ یاترا پر بھی ہوتا ہے تاہم جب حکام نے یاتر اکو منسوخ کیا تو انہیں کئی خدشات لاحق ہوئے،تاہم گزشتہ ایک ماہ کے دوران وادی بالخصوص ضلع گاندربل میں کویڈ کیسوں کی تعداد میں کمی کے نتیجے میں ایک بار پھر سیاحوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا،جس کی وجہ سے سیاحتی شعبے کو فی الوقت چار چاند لگ گئے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت قریب50فیصد کام بحال ہوا ہے،اور اگر کرونا صورتحال میں بہتری آئی تو سیاحوں کی آمد میں بھی اضافہ ہوگا۔ وار نے کہا کہ ضلع گاندربل کی نصف آبادی سونہ مرگ میں سیاحتی سرگرمیوں پر منحصر ہے،اور جب سیاحتی شعبے کو دھچکہ لگ جاتا ہے تو یہ آبادی بھی بے روزگار ہوجاتی ہے۔ ایک اور تاجر فاروق احمد کا کہنا تھا کہ سونہ مرگ جیسے سیاحتی مقام کو مزید جاذب نظر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح اس جگہ کا رخ کرسکے۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت کافی تعداد میں مقامی سیاح بالخصوص ہفتے کے آخری دنوں میں سونہ مرگ آتے ہیں،اور انکے تجارت کی بحالی کا سامان بھی پیدا ہوا ہے۔ ہوٹل ’ولیج واک ‘کے مالک شہزاد رسول نے بتایا کہ انکے ہوٹل کے نصف سے زیادہ کمرے روزانہ کی بنیادوں پر فی الوقت سیاحوں سے بھرے رہتے ہیں اور یاترا ختم ہونے کی نتیجے میں انہیں نقصان کے خدشات جو لاحق ہوگئے تھے،اس میں کافی کمی واقع ہوچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی میں مجموعی طور پر گزشتہ دو برسوں کے دوران سیاحتی انڈسٹری کو کافی دھچکہ پہنچا اور اگر امسال بھی یہی صورتحال رہی تو وہ اس شعبے کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔انہوں نے تاہم امید ظاہر کی کہ آنے والے ایام میں سونہ مرگ میں سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور مقامی و غیر مقامی سیاحوں کی اچھی خاصی تعداد سونہ مرگ کا رخ کرے گی۔ ماضی میں بڑی تعداد میں فرہنگی سیاح لداخ کا رخ کرتے تھے اور سونہ مرگ کے راستے سے ہی انکا گزر ہوتا تھا،جن میں سے بیشتر غیر ملکی سیاح سونہ مرگ میں بھی ایک دو دن گزارتے تھے تاہم اب یہ سلسلہ تھم چکا ہے اور غیر ملکی سیاحون کی آمد بھی نا کے برابر ہے،جس کی وجہ سے بھی سونہ مرگ میں سیاحتی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو ئے ہیں۔اس سلسلے میں جب چیف ایگزیکٹو افسر سونہ مرگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی مشتاق احمد راتھرسے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ سونہ مرگ میں سیاحوں کی آمد کا سلسلہ بحال ہوگیا ہے اور انہیں اس بات کا قوی امکان ہے کہ آئندہ دنوں میں اس میں اضافہ ہوگا،تاہم انہوں نے سیاحوں کو کرونا کے ضوابط اور رہنما اصولوں پر عمل پیرا ہونے کا مشورہ دیا۔