عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//وزیراعظم نریندر مودی نے غیر ملکی حملہ آوروں کے بار بار حملوں کے بعد دوبارہ تعمیر کیے گئے سومناتھ مندر کی ستائش کرتے ہوئے پیر کے روز کہا کہ گجرات میں واقع یہ مندر ہندوستانی تہذیب کی ناقابلِ تسخیر روح کی علامت ہے۔ وزیراعظم نے سومناتھ مندر پر پہلے حملے کے ایک ہزار سال مکمل ہونے کے موقع پر ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا کہ ہماری تہذیب کی ناقابلِ شکست روح کی سومناتھ سے بہتر کوئی مثال نہیں ہو سکتی۔ یہ مندر رکاوٹوں اور جدوجہد پر فتح حاصل کرتے ہوئے آج بھی فخر کے ساتھ کھڑا ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر اُس وقت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو پر بھی طنز کیا اور کہا کہ نہرو 1951 میں مندر کے افتتاح سے “زیادہ خوش نہیں تھے”۔مودی نے کہا کہ 2026 سومناتھ مندر پر پہلے حملے کے ایک ہزار سال مکمل ہونے کا گواہ ہے اور اس کے بعد ہونے والے مسلسل حملوں کے باوجود یہ مندر آج بھی فخر سے ایستادہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ سومناتھ کی داستان بھارت ماتا کی ان ان گنت اولادوں کے اٹل حوصلے کی کہانی ہے جنہوں نے ہماری ثقافت اور تہذیب کی حفاظت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہی جذبہ آج ملک میں بھی نظر آ رہا ہے، جو صدیوں کے حملوں اور نوآبادیاتی لوٹ مار سے نکل کر عالمی ترقی کے سب سے روشن مراکز میں سے ایک بن کر ابھرا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے اقدار اور ہمارے عوام کے عزم کی وجہ سے آج دنیا کی نگاہیں ہندوستان پر ہیں۔ دنیا ہندوستان کو امید اور اعتماد کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ وہ ہمارے جدت پسند نوجوانوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری فنونِ لطیفہ، ہماری ثقافت، ہمارا موسیقی ورثہ اور ہمارے بے شمار تہوار آج عالمی شناخت حاصل کر رہے ہیں۔ یوگا اور آیوروید جیسے موضوعات پوری دنیا میں اثر ڈال رہے ہیں اور صحت مند زندگی کو فروغ دے رہے ہیں۔ آج کئی عالمی چیلنجز کے حل کے لیے دنیا ہندوستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماضی کے حملہ آور آج وقت کی دھول بن چکے ہیں اور ان کا نام اب صرف تباہی کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ کے صفحات میں وہ محض ایک ‘حاشیہ’ بن کر رہ گئے ہیں، جبکہ سومناتھ آج بھی امید کی روشنی بکھیرتے ہوئے درخشاں کھڑا ہے۔ سومناتھ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ نفرت اور انتہاپسندی میں اگرچہ تباہی کی بگڑی ہوئی طاقت ہو سکتی ہے، لیکن عقیدے میں تخلیق کی قوت ہوتی ہے۔مودی نے یاد دلایا کہ آزادی کے بعد سومناتھ مندر کی ازسرِنو تعمیر میں سردار ولبھ بھائی پٹیل نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 1947 میں دیوالی کے موقع پر سردار پٹیل کا سومناتھ کا دورہ ہوا۔ اس دورے کے تجربے نے انہیں اندر تک جھنجھوڑ دیا۔ اسی وقت انہوں نے اعلان کیا کہ سومناتھ مندر کی دوبارہ تعمیر ہوگی۔ بالآخر 11 مئی 1951 کو سومناتھ میں شاندار مندر کے دروازے عقیدت مندوں کے لیے کھول دیے گئے۔ اس موقع پر اُس وقت کے صدرِ جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سردار پٹیل مندر کا افتتاح دیکھنے کے لیے زندہ نہیں تھے، لیکن ان کا خواب قوم کے سامنے ایک عظیم حقیقت بن کر موجود تھا