سول لائنز میں معمول کے مطابق کاروباری سرگرمیاں

سرینگر// سرینگر میں ہفتے کے دوران مرحلہ وار طریقے پر بازاروں کو بندرکھنے کے حکم نامہ پر مخمصہ کے بیچ پیر کو ان علاقوں میں بازار اور تجارتی مراکز کھلے رہے جہاں حکم نامے کے تحت بازار بند کرنے تھے۔اس دوران کشمیر اکنامک الائنس ،کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے علاوہ کشمیر ٹریڈرس فیڈریشن نے دھمکی دی کہ حکومت کی طرف سے بازاروں کو مرحلہ وار طریقے پر بند کرنے کا کلینڈر اگر واپس نہیں لیا گیا تو وہ ایجی ٹیشن چھیڑ دینگے۔حکومت کی طرف سے محکمہ محنت و روزگار نے گذشتہ دنوں ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں سرینگر کے بازاروں کو مرحلہ وار طریقے پر بند کرنے کا فرمان جاری کیا گیا۔محکمہ نے جموں کشمیر دکانات و قیام قانون1966 کی13شق1Aاور شق 1کے علاوہ ایس آر ائو492محرر29اکتوبر1981و ایس آر او 269 محرر 21 جون 1984 میں جزوی ترمیم کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاکر یہ حکم نامہ جاری کیا۔ حکم نامے کے مطابق پیر کو شہر کے تجارتی مرکز لالچوک، مائسمہ، ریڈ کراس روڑ، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، جہانگیر چوک، رام باغ پل، بٹہ مالو اڈہ سے لیکرٹینگہ پورہ، کرن نگر اور رام باغ میں دکانات کو بند کرنا تھا، تاہم تاجروں اور دکانداروں نے اس حکم نامے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی دکانوںاور تجارتی مراکز کو کھول دیااور دن بھر ان علاقوں میں تجارتی سرگرمیاں جاری رہیں۔اس دوران تاجر برادری نے سرکار کی طرف سے بازاروں کو بند کرنے کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے یہ فیصلہ واپس نہیں لیا تو وہ ایجی ٹیشن شروع کرینگے۔کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے ایک دھڑے کے صدر بشیر احمد راتھر نے کہا کہ سرکار کو چاہے پھر اس علاقے میں بنکوں کو بھی اتوار کے دن کھلا رکھیں،جس علاقے میں اتوار کو بازار کھلے ہونگے۔انکا کہنا تھا کہ اگر سرکار یہ حکم نامہ واپس نہیںلیاتو تاجروں کو سڑکوں پر آنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ متعلقہ محکمہ کا کہنا ہے کہ شہر میں ٹریفک کو استوار کرنے کیلئے یہ قدم باہمی طور پر اٹھایا گیا ہے۔کشمیراکنامک لائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے اس فیصلے کو ڈکٹیٹر شپ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ہم شورش زدہ علاقے میں رہتے ہیں، جہاں پر سرکار کی طرف سے آئے دن بندشوں کی وجہ سے بازار بند ہی رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک دانستہ کوشش کے تحت شہر خاص اور لالچوک میں معیشت کوز خ پہنچانے کی کوشش کی کوشش کی جا رہی ہے۔ڈارنے کہا کہ پہلے ہی سرینگر کے تاجروں کی معیشت سیلاب کی وجہ سے ختم ہوچکی ہے اور اب حکومت اس تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ادھر کشمیر ٹریڈس فیڈریشن کے ترجمان اعلیٰ اعجاز شہدار نے واضح کیا کہ وہ سرکار کے ڈکٹیشن پر عمل کرنے والے نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو اگر ایسا کوئی فیصلہ لینا تھاتو انہیں چاہے تھا کہ تاجر برداری کو اعتماد میں لئے،تاہم سرکار نے یہاں پر بھی تاجروں کو نظر انداز کر کے فیصلہ لیا۔