گول//گول کے سنگلدان علاقہ میں عوام کو انٹر نیٹ سہولیت فراہم کرنے والی تمام کمپنیاں بے کار ہو چکی ہیں اور ان کمپنیوں کی جانب سے جہاں بڑی بڑی چھوٹ دی جاتی ہے لیکن یہ لوگوں کو دودوہاتھوں لوٹنے کا ایک بہانہ ہوتا ہے ۔ یہاں پر انٹر نیٹ ڈیجیٹل انڈیا میں ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے اگر چہ کئی مرتبہ احتجاج بھی کیا اور تمام کمپنیوں سے اپیل کی کہ یہاں پر انٹرنیٹ کی بہتر سہولیت فراہم کی جائے لیکن نا ہی انتظامیہ کی اور نہ ہی کمپنیوں کے منتظمین کے کانوں پر جوں رینگی ۔ عوام ہر وقت سڑکوں پر نکل کر احتجاج درج کرواتی ہے لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو رہا ہے ۔ جہاں آج کل نہ صرف خبریں بلکہ سرکار تمام سہولیت بالخصوص تعلیم اور نوکریوں سے متعلق ”ڈاٹا “امیداروں تک پہنچانے کے لئے انٹر نیٹ پردستیاب ہیں لیکن یہاں پر یہ تمام بے سود ثابت ہو رہے ہیں ۔ ملازمت کے لئے آن لائن فارم بھرنا ، امتحانات اور دوسرے قسم کے آن لائن فارم بھرنے یا لوگوں تک انٹر نیٹ کے ذرےعے کوئی پیغام پہنچانے کے خواب ہی ثابت ہو رہے ہیں ۔ سنگلدان کے لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پر کئی مرتبہ احتجاج بھی کیا اور انتظامیہ کی نوٹس میں بھی یہ بات لائی لیکن افسوس کا مقام ہے یہاں کی طرف کوئی کان نہیں دھرتا ہے بلکہ لوگوں کی اس آواز کو”بکواس“ سمجھا جاتا ہے جو قابل تشویش ہے ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مواصلاتی کمپنیوں میں ائر ٹیل کمپنی عوام کو 4Gکے نام سے انٹر نیٹ سہولیت فراہم کرتی ہے لیکن وہ نام کی ہے بلکہ کام کرنے میں 2Gسے بھی کم رفتار ہوتی ہے جس وجہ سے یہاں پر لوگوں کے ساتھ ساتھ بےروزگارنوجوانوں ، طالب علموں کو کافی پریشانیوں کا سامناکرنا پڑرہاہے ۔ مقامی لوگوں نے ایس ڈی ایم گول، ضلع ترقیاتی کمشنر رام بن اور مواصلاتی کمپنیوں کے منتظمین سے مطالبہ کیا کہ سنگلدان میں جلد از جلد انٹر نیٹ سہولیت کو بہتر بنایا جائے تا کہ لوگوں کو پریشانیوں سے دوچار نہ ہونا پڑے ۔