مسجد سیلابی ریلے میں بہہ گئی ، متعدد مکانوں اور ایک پل کو نقصان ،واٹر سپلائی متا ثر
اشرف چراغ+عاصف بٹ
کپوارہ+کشتواڑ//کپوارہ کے موری کلاروس میں گزشتہ روز بادل پھٹنے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچ گئی۔بدھ کی شام کلاروس کے موری علاقہ کے نون گلی میں بادل پھٹے جس کی وجہ سے ندی نالو ں میں طغیانی آگئی اور ایک مقامی مسجد شریف سیلابی ریلے کی زد میں آکر بہہ گئی جبکہ بہکوں اور مقامی جنگل میں دو درجن کے قریب مویشی پانی کے تیز بہائو میں بہہ گئے ۔بادل پھٹنے کے بعد فصلو ں کو شدید نقصان پہنچ جبکہ واٹر سپلائی سکیم کی پائپ لائن کو بھی نقصان پہنچ چکا ہے ۔52مہا کمپنی کی جانب سے نالہ پر جو لوہے کا پل تعمیر کیا گیا تھا وہ بھی سیلاب میں بہہ گیا جس کی وجہ سے موری اور چاری ذب ،بملا والی اور کوٹھیا ں علاقوں کارابطہ منقطع ہوگیا۔ بتایا جاتا ہے سیلابی پانی نے کھیت اور کھلیانو ں کو بھی نقصان پہنچایا اور یہ سلسلہ قریب آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے دوران لوگ گھرو ں میں سہم کر رہ گئے۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلو ں کی وجہ سے کئی علاقوں میں مٹی کا شدید کٹائو بھی ہوا ۔
کشتواڑ
بدھ کی شب ہونے والی موسلا دھار بارشوں اور تیز ہوائوں کے باعث ضلع بھر میں عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ رات بھر ہوئی موسلادھار بارشیں و تیزہوائوں کے سبب سنتھن شاہراہ پر بادل پھٹنے کے دو الگ الگ واقعات بھی پیش آئے۔ سنتھن ٹاپ اور اس کے بالائی علاقوں میں اچانک بادل پھٹنے کے واقعات رونما ہوئے جس کے نتیجے میں تیز رفتار سیلابی ریلوں نے شاہراہ کے کئی حصوں کو نقصان پہنچایا۔ ایک مقام پر سڑک کا بڑا حصہ بہہ جانے سے کشتواڑ اور سرینگر کے درمیان رابطہ منقطع ہو گیاجس سے مسافروں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق خراب موسم اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات کے پیش نظر سنتھن شاہراہ کو عارضی طور پر ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ متعلقہ محکموں کی ٹیمیں موقع پر روانہ کر دی گئی ہیں تاکہ نقصان کا جائزہ لیا جا سکے اور سڑک کی بحالی کا کام جلد از جلد شروع کیا جا سکے۔ میدانی علاقوں میں ہوئی شدید بارش کے باعث سڑکوں، گلی کوچوں میں پانی جمع ہو گیا جبکہ متعدد رہائشی مکانات میں پانی داخل ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، جس سے کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا اور گھریلو سامان کو نقصان پہنچا۔ادھرسنتھن کی چراگاہوں میں دیررات گرج چمک کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں بکروال چرواہے کی 100 سے زائد بھیڑیں ہلاک ہو گئیں۔ اس حادثے نے متاثرہ خاندان کو شدید مالی نقصان اور ذہنی کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سنتھن میں موسم نے خطرناک رخ اختیار کر لیا اور تیز آندھی کے ساتھ شدید بارش اور گرج چمک شروع ہو گئی۔ اسی دوران آسمانی بجلی گری جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں بھیڑیں موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں۔ صادق بکروال کی سو کے قریب بھڑیں ہلاک ہوئیں ۔ادھرکشتواڑ ضلع انتظامیہ نے جمعرات کو خطہ میں اتوار تک موسلادھار بارش، گرج چمک کے ساتھ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی موسمی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے لوگوں، خاص طور پر دریا کے کنارے رہنے والوں سے محتاط رہنے اور خطرناک علاقوں سے بچنے کی اپیل کی ہے۔کشتواڑ کے ڈپٹی کمشنر کی طرف سے جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق، اس علاقے میں عام طور پر ابر آلود موسم کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک کے ساتھ کئی مقامات پر تیز بارش، مختصر تیز بارش اور تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔انتظامیہ نے خبردار کیا کہ موجودہ موسمی حالات خطرناک مقامات پر سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
موسم
موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے پانچ دنوں کے دوران گرج چمک، تیز ہوائوں اور موسلا دھار بارش کی وارننگ دی ہے، خاص طور پر جموں ڈویژن میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، 2 سے 6 جولائی تک جموں و کشمیر کے بیشتر حصوں میں ہلکی سے درمیانی بارش متوقع ہے۔ 2 اور 3 جولائی کو جموں ڈویژن کے کچھ حصوں میں موسلادھار بارش کا امکان ہے، جبکہ بارش کی سرگرمیاں اگلے دنوں میں آہستہ آہستہ ہلکے منتر کی طرف منتقل ہونے کی توقع ہے۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ گرج چمک کے ساتھ گرج چمک اور تیز ہوائوں کے ساتھ ، 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے، پانچ دنوں کی مدت کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں الگ تھلگ مقامات پر شدید بارشوں سے آنے والے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے خطرے سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔ ابتدائی دو دنوں کے دوران جموں، سانبہ، کٹھوعہ، ادھم پور، ریاسی، رام بن، ڈوڈہ اور کشتواڑ سمیت جموں خطہ کے کئی اضلاع میں اعتدال سے مقامی طور پر بھاری بارش کی توقع ہے۔ 4 جولائی کے بعد بارش کی شدت میں کمی کا امکان ہے، حالانکہ دونوں ڈویژنوں میں بکھری ہوئی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش جاری رہ سکتی ہے۔