کیا آپ نے کبھی ’’سُلّی ڈیل‘‘ کے بارے میں سنا ہے۔ سُلّی ایک تضحیک آمیز اصطلاح ہے جو مسلم خواتین کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور اس کا استعمال مسلم دشمن عناصر کرتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر اس اصطلاح کی مدد سے مسلم خواتین کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کی تذلیل کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ٹوئٹر پر ایک سلی ڈیل ایپ بنائی گئی ، اس پر مسلم خواتین کی تصاویر اور ان کے بارے میں تفاصیل پیش کرکے ٹوئٹر یوزرس سے کہا گیا کہ یہ خواتین نیلامی پر ہیں، آپ ان کی بولی لگائیے۔ یہ ایپ ’’گِٹ ہب‘‘ نامی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بنائی گئی اور چار جولائی کو اس پر ایک سو سے زائد مسلم خواتین کی تصاویر پوسٹ کرکے ان کو نیلام پر چڑھایا گیا۔ یہ حقیقی نیلامی نہیں تھی بلکہ مسلم خواتین کو بے عزت کرنے کے لیے ایک طریقہ نکالا گیا تھا۔ اس سے قبل عید الفطر کے موقع پر بھی ہندوستان اور پاکستان کی نامور مسلم خواتین کی تصاویر پوسٹ کرکے ان کی نیلامی کا اعلان کیا گیا تھا اور مسلم مخالف ٹوئٹر یوزرس ان خواتین کی بولی لگاتے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ جن کی تصاویر پوسٹ کی گئیں وہ کوئی معمولی خواتین نہیں ہیں بلکہ ان میں کوئی صحافی ہے تو کوئی فنکار، کوئی پائلٹ ہے تو کوئی انسانی حقوق کارکن، کوئی مصنف ہے تو کوئی سیاست داں، صرف ہندوستان میں مقیم خواتین کی سودے بازی نہیں کی جا رہی تھی بلکہ غیر ممالک میں نمایاں کارنامے انجام دینے والی خواتین کی بھی بولی لگائی جا رہی تھی۔ جب کچھ ایسی خواتین کو جن کی تصاویر پوسٹ کی گئی تھیں اس سلسلے میں بتایا گیا تو وہ نہ صرف یہ کہ حیران رہ گئیں بلکہ خوف زدہ بھی ہو گئیں، ایسی متعدد خواتین نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹس بند کر دیے۔ یہ تصاویر اور تفاصیل ان کے ٹوئٹر اکاونٹس سے ہی لی گئی تھیں۔ جب یہ معاملہ ٹوئٹر صارفین کے علم میں آیا تو اس پر زبردست احتجاج کیا گیا۔ احتجاج اور دہلی خواتین کمیشن اور قومی خواتین کمیشن کی ہدایت پر دہلی پولیس کے سائبر سیل نے ایف آئی آر درج توکی لیکن ابھی تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ اس اسکینڈل کے سلسلے میں بی بی سی اور الجزیرہ نے رپورٹنگ کی ہے۔
حنا خان، جو ایک کمرشل پائلٹ ہیں اور جن کا نام ان قابل فروخت خواتین کی فہرست میں ڈال دیا گیا تھا، کہتی ہیں کہ انھیں اس بارے میں ایک دوست نے ٹوئٹر پیغام کے ذریعے خبردار کیا۔ اس ٹوئٹر پیغام کے ذریعے وہ سلی ڈیلز کے ایپ اور ویب سائٹ کو دیکھ سکیں جس نے خواتین کی تصاویر اور ان کی نجی معلومات کو عام کیا اور انھیں ’’ڈیلز آف دی ڈے‘‘ بنا کر پیش کیا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’’میری تصویر انھوں نے ٹوئٹر سے لی اور اس پر میرا’’یوزر نیم‘‘ یا وہ نام لکھا جو میں ٹوئٹر پر استعمال کرتی ہوں۔ یہ ایپ بیس دن سے چل رہی تھی اور ہمیں اس بارے میں معلوم ہی نہیں تھا۔ حنا خان نے کہا کہ انھیں صرف اس وجہ سے نشانہ بنایا گیا کیونکہ ان کا مذہب اسلام ہے۔ وہ ایک ایسی مسلم خاتون ہیں جنہیں سنا جاتا ہے اور جن کو لوگ جانتے ہیں۔ دراصل وہ ہمیں خاموش کرنا چاہتے ہیں۔’’گٹ ہب‘‘ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہم نے اس سرگرمی کے بارے میں تحقیقات کرنے کے بعد ایپ اور اس کو استعمال کرنے والوں کے اکاونٹس کو معطل کر دیا ہے‘‘۔ پولیس کا کہنا کہ اس بارے میں تحقیقات شروع کر دی گئی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس حرکت کے پیچھے کون ہے۔ جن لوگوں نے یہ ایپ بنائی انھوں نے جعلی شناخت استعمال کی۔ لیکن حسیبہ امین نے، جو کانگریس پارٹی کی سوشل میڈیا رابطہ کار ہیں، اس کا ذمہ دار ان اکاونٹس کو قرار دیا ہے جو اکثر مسلمانوں اور خاص طور پر مسلم خواتین پر لفظی حملے کرتے رہتے ہیں ۔حسیبہ امین نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ مسلم خواتین کو اس انداز میں نشانہ بنایا گیا ہوجبکہ حنا خان نے بتایا کہ اس نیلامی میں لوگ پانچ اور دس روپے کی بولیاں دے رہے تھے اور وہ خواتین کو ان کے جسم اور جنسی کشش کو سامنے رکھتے ہوئے نمبر دے رہے تھے اور ان کو ریپ کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی تھیں، بہت سے اکاونٹس پر انھیں گالیاں دی جا رہی تھیں، ان کے جسم پر انتہائی جنسی اور نازیبہ زبان میں تبصرہ کیا جا رہا تھا۔
گزشتہ ہفتے دنیا بھر سے دو سو کے قریب نامور اداکاروں، موسیقاروں، صحافیوں اور سرکاری حکام نے فیس بک، گوگل، ٹک ٹاک اور ٹوئٹر کے مالکان کو لکھا ہے کہ وہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ دنیا بھر سے شامل لوگوں نے اس کھلے خط میں لکھا ہے کہ ’’انٹر نیٹ اکیسویں صدی کا مرکزی چوراہا ہے۔ یہاں پر بحث ہوتی ہے، برادریاں بنتی ہیں، اشیا فروخت کی جاتی ہیں اور لوگوں کی ساکھ بنتی ہے۔ لیکن جس پیمانے پر آن لائن کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد کے لیے یہ ڈجیٹل ٹاؤن سکوائر یا مرکزی چوارہا محفوظ جگہ نہیں ہے‘‘۔
سلی ڈیل کے بارے میں جب ہم نے قومی خواتین کمیشن کی سابق رکن ثمینہ شفیق سے بات کی تو انھوں نے اس واقعہ پر سخت رد عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ آزادی کے اتنے سالوں بعد بھی لوگوں کی ذہنیت نہیں بدلی ہے۔ ٹوئٹر پر مسلم خواتین کی تصاویر پوسٹ کرکے ان کی نیلامی کرنا انتہائی شرمناک بات ہے۔ یہ صرف مسلم خواتین کی بات نہیں ہے بلکہ پوری عورت ذات کی بات ہے اور ایسی کوئی بھی حرکت کسی بڑی سیاسی شخصیت کی پشت پناہی کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اگر اس حرکت کے ذمہ داروں کو سیاسی تحفظ حاصل نہیں ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس معاملے میں ابھی تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ انھوں نے کہا کہ جب اس معاملے پر ٹوئٹر پر کافی احتجاج ہوا تب کہیں جا کر ایف آئی آر درج ہوئی اور متعلقہ ایپ کو ہٹایا گیا۔
خیال رہے کہ جب دہلی خواتین کمیشن کی جانب سے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا گیا اور اس سے کارروائی رپورٹ طلب کی گئی تب کہیں جا کر دہلی پولیس کے سائبر سیل نے ایک ایف آئی آر درج کی۔ خواتین کمیشن نے سائبر سیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ نامعلوم گروپ کی جانب سے ’’گِٹ ہب‘‘ نامی ایک پلیٹ فارم کی مدد سے سیکڑوں مسلم خواتین اور لڑکیوں کی تصاویر چار جولائی کو ٹوئٹر پر اپلوڈ کی گئیں اور اسے ’’سلی ڈیلز‘‘ نام دیا گیا۔ کمیشن نے ایف آئی آر کی نقل، اس معاملے میں جن ملزموں کی شناخت کی گئی ہے ان کی تفصیلات اور ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی اس کی معلومات طلب کی تھیں۔ ثمینہ شفیق خواتین کمیشن کی اس کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس معاملے پر حکومت کی جانب سے مکمل طور پر خاموشی اختیار کی گئی ہےاور انسانی حقوق کمیشن نے بھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس معاملے پر نہ تو مرکزی حکومت کی جانب سے کوئی بیان آیا ہے اور نہ ہی دہلی حکومت کی جانب سے۔ خواتین کی فلاح و بہبود کے وزیر کو اس سلسلے میں اپنے طور پر کارروائی کرنی چاہیے اور ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہاکہ وزیر اعظم کی خاموشی پر بھی حیرت انگیزہےجبکہ اقلیتی امور کے وزیر بھی خاموش ہیں۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرائے تاکہ قصورواروں کے علاوہ ان لوگوں کو بھی سامنے لایا جا سکے جو ایسے لوگوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ بقول ان کے حکومت اور کمیشنوں میں بیٹھے ہوئے لوگ اگر ایسی حرکتوں پر خاموش رہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ان کی خاموش حمایت کر رہے ہیں۔ وہ مطالبہ کرتی ہیں کہ آئین شہریوں اور خاص طور پر خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کی جو گارنٹی دیتا ہے اس پر عمل کیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ بعض دیگر کارکن الزام عاید کرتے ہیں کہ معاشرے میں مجرمانہ ذہنیت کی جڑیں بہت گہرائی تک پیوست ہو گئی ہیں ۔ ان کے مطابق اب اس ملک میں ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریریں کرنا عام بات ہے۔آل انڈیا پروگریسو ویمن ایسو سی ایشن اور ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا نے بھی مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی خبر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے مسلم خواتین کے ساتھ انتہائی تضحیک آمیز رویہ قرار دیتے ہوئے ایسے لوگوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔لیکن سوال یہی ہے کہ کیا ایسی بد تمیزی اور بیہودگی کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی۔ ابھی تک تو اس کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ واقعی ان لوگوں کو طاقتور افراد کی پشت پناہی حاصل ہے۔
موبائل: 9818195929
�������